شاعری

مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاں

مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاں کیا جانے تم کہاں ہو کوئی دم کو ہم کہاں کوچے سے تیرے اٹھ کے بھلا جائیں ہم کہاں جز نقش پا ہے رہبر ملک عدم کہاں دامن کشاں پھرے ہے مری خاک سے ہنوز رکھتا ہے آہ وہ سر مرقد قدم کہاں اس کے صف مژہ سے لڑاوے نشان آہ اے فوج اشک جائے ہے لے کر علم کہاں میرا ہی ...

مزید پڑھیے

خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پر

خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پر زاغ کو بہر تصدق رکھ سر بیمار پر مجھ کو رحم آتا ہے دست نازک دل دار پر میں ہی رکھ دوں گا گلا اے ہمدمو تلوار پر بے سویدا ہاتھ دل مت ڈال زلف یار پر ماش پہلے پڑھ کے منتر پھینک روئے یار پر گر حفاظت رخ کی ہے منظور تو مٹوا نہ خط باغباں رکھتا ہے کانٹے باغ ...

مزید پڑھیے

میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتا

میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتا بیٹھا ہوں سر خاک پہ جم اٹھ نہیں سکتا اے اشک رواں ساتھ لے اب آہ جگر کو عاشق کہیں بے فوج و علم اٹھ نہیں سکتا سقف فلک کہنہ میں کیا خاک لگاؤں اے ضعف دل اس آہ کا تھم اٹھ نہیں سکتا سر معرکۂ عشق میں آساں نہیں دینا گاڑے ہے جہاں شمع قدم اٹھ نہیں ...

مزید پڑھیے

واں کمر باندھے ہیں مژگاں قتل پر دونوں طرف

واں کمر باندھے ہیں مژگاں قتل پر دونوں طرف یاں صف عشاق ہیں زیر و زبر دونوں طرف زلف کا سربستہ کوچہ مانگ کا رستہ ہے تنگ دل تری شامت ہے مت جا بے خطر دونوں طرف دیر و کعبہ میں تفاوت خلق کے نزدیک ہے شاہد معنی کا ہر صورت ہے گھر دونوں طرف ہے وہ دریا میں نہاتا میں ہوں غرق آب شرم کچھ عجب اک ...

مزید پڑھیے

خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھا

خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھا یہ درمیان سے اب پردۂ حجاب اٹھا یہ کون بادہ پرستی ہے اے بت بد مست اٹھا جو بزم سے تیری سو ہو کباب اٹھا مطالعے سے ترے بیت ابروؤں کے شوخ رکھی ہے شیخ نے اب طاق پر کتاب اٹھا بسان نقش قدم جس نے پا تراب کیا وہ راہ عشق میں مٹ کر غرض شتاب اٹھا بہ چشم تر ہی ...

مزید پڑھیے

دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیا

دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیا شیشہ یہ ایک دم میں پری خانہ ہو گیا شب کیوں کہ سلطنت نہ کرے تاج زر سے شمع رشک پر ہما پر پروانہ ہو گیا کیفیتوں سے گردش چشم بتاں کی دل شیشہ کبھی بنا کبھی پیمانہ ہو گیا طغیانی سرشک سے اپنی بھی بعد قیس دریا کا پاٹ دامن ویرانہ ہو گیا زنجیر کیوں نہ اس کی ...

مزید پڑھیے

دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیا

دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیا دے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیا کیوں سگ یار سے خجل مجھ کو پس از فنا کیا کھا گیا استخواں مرے تو نے یہ کیا ہما کیا زخم جگر سے دم بدم کب نہیں خوں بہا کیا تو بھی نہ قاتل اپنے سے دعویٔ خوں بہا کیا اس بت رشک گل نے جب بند قبا کو وا کیا اپنی نظر ...

مزید پڑھیے

گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہے

گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہے شکل سایہ کے مجھے ساتھ لگا لیتا ہے گو ملاقات نہیں عالم بیداری میں خواب میں پر وہ ہمیں ساتھ سلا لیتا ہے اشک کو ٹک بن مژگاں میں ٹھہرنے دے دلا یہ ترا دیکھ تو ہاں دیکھ تو کیا لیتا ہے راہیٔ ملک عدم سے نہ کر اتنی کاوش دم مسافر یہ تہ نخل ذرا لیتا ...

مزید پڑھیے

کچھ سرگزشت کہہ نہ سکے روبرو قلم

کچھ سرگزشت کہہ نہ سکے روبرو قلم گردش نصیب روز ازل سے ہے تو قلم کاغذ کا تاؤ کیا ہے ترے روبرو قلم ایسا ہی یعنی پیر کا نیزہ ہے تو قلم ظالم نہیں تو حرف محبت سے آشنا مشق ستم سے شرم کر اے جنگجو قلم کیا خامہ لکھ سکے صفت زلف مشک بار شورے کے بھی ہوئے ہیں کہیں مشک بو قلم نامہ پر ہما ہو مرا ...

مزید پڑھیے

نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا

نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا طریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کا دکھا کے دست حنائی نہ خوں بہا دل کا کہ اور رنگ سے لوں گا میں خوں بہا دل کا میں طفل اشک کو مژگاں پہ دیکھ حیراں ہوں کہ نور دیدہ ہے یا ہے بالکا دل کا تو آئنے پہ نہ اپنے کر اے سکندر ناز کہ ہم بھی رکھتے ہیں جام جہاں نما ...

مزید پڑھیے
صفحہ 791 سے 4657