شاعری

کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو

کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو مر کر بھی یہ ہوس کہ ہمارا مزار ہو بڑھ جائے غم کا سلسلہ کہسار کی طرح طولانی گر یہ زندگئ مستعار ہو اس صید گاہ میں وہی نکلے گا بچ کے صاف جو صید سب سے پہلے اجل کا شکار ہو اس بوالہوس کی موت کے قربان جائیے جو پھر دوبارہ جینے کا امیدوار ہو ہستی کا طوق ...

مزید پڑھیے

ہم خرابے میں بسر کر گئے خاموشی سے

ہم خرابے میں بسر کر گئے خاموشی سے حلقۂ موج میں گوہر گئے خاموشی سے ساعت وصل قیامت کی گھڑی ٹھہری تھی جسم خاموش تھے دل ڈر گئے خاموشی سے آزمائش تھی کڑی کوئے وفا میں کہ جہاں کج کلہ آئے سبک سر گئے خاموشی سے ہم ترے ہجر میں آوارہ سخن ہو نکلے زخم جو تو نے دیئے بھر گئے خاموشی سے شکوہ سنج ...

مزید پڑھیے

ہم نے تو یہی معرکہ مارا ہے سفر میں

ہم نے تو یہی معرکہ مارا ہے سفر میں منزل کی طرح بیٹھ گئے راہ گزر میں وہ شمع شب انجام کی صورت تو نہیں تھا اک پل میں شب نصف اتر آئی ہے گھر میں اے نالۂ دل دوز تڑپ اٹھی خموشی ہے مرگ تماشا کسی آباد نگر میں ہم خاک کے تودے پہ کھڑے پوچھ رہے ہیں کیا لطف ملا تم کو سمندر کے سفر میں ہم سایۂ ...

مزید پڑھیے

رنگوں لفظوں آوازوں سے سارے رشتے ٹوٹ گئے

رنگوں لفظوں آوازوں سے سارے رشتے ٹوٹ گئے سیل بلا میں دشت خلا کے کتنے کنارے ٹوٹ گئے گونگے بہرے لوگوں سے اب ساری عمر نباہنا ہے جینا مرنا ایک برابر کچے دھاگے ٹوٹ گئے دل کے گرد حصار کھنچا تو اس کا ملنا محال ہوا چاروں کھونٹ آوارہ پھرے جب پاؤں بھی اپنے ٹوٹ گئے کھنڈر کھنڈر سب آوازوں ...

مزید پڑھیے

شق عافیت کنار کنارے کو کر گئی

شق عافیت کنار کنارے کو کر گئی دریا کی موج سر کو پٹک کر گزر گئی تہمت کا سیل صبح کو اٹھنے لگا کہ شب دستک تھی ایک در پہ صدا در بدر گئی غارت گر سکوں تھیں نوا ہائے خون بلب جنگل کی شام شہر میں آئی تو ڈر گئی روتا پھرے گا رات کے رستوں پہ ماہتاب آغوش ارض خاک تو سورج سے بھر گئی آرام جاں ...

مزید پڑھیے

ریگ رواں پہ نقش کف پا نہ دیکھنا

ریگ رواں پہ نقش کف پا نہ دیکھنا آئینۂ ضمیر میں چہرا نہ دیکھنا بے صرفہ ہے لہو کی تمازت مرے لیے اسرار جسم و جاں کو برہنہ نہ دیکھنا جو آنسوؤں کے لعل و جواہر بکھیر دے اس ایک موج درد کو اٹھتا نہ دیکھنا راتوں کا چین دن کا سکوں ہو اگر عزیز چلتا ہے ساتھ ساتھ جو سایہ نہ دیکھنا ہے شب کی ...

مزید پڑھیے

قربت حسن میں بھی درد کے آثار ملے

قربت حسن میں بھی درد کے آثار ملے چارہ گر عشق کے مرہم کے طلب گار ملے دست و پا اپنے تو وابستۂ زنجیر سہی اک تمنا تھی کوئی صاحب و مختار ملے ہاں جنوں خیزیٔ دل رہن مسرت نہ ہوئی خوش ہوئی وحشت غم جب رسن و دار ملے خاک اڑائیں کہ نئے شہر بسائیں یارو ہم بہ ہر رنگ ہر اک شوق سے بیزار ملے ہم ...

مزید پڑھیے

کس راہ پہ ہیں رواں دواں ہم

کس راہ پہ ہیں رواں دواں ہم جائیں گے خبر نہیں کہاں ہم اک بار فریب کھا گئے تھے اب تک ہیں کسی سے بد گماں ہم یوں تیری نگاہ سے گرے ہیں گویا تھے متاع رائیگاں ہم رستوں کی خبر نہ منزلوں کی کیا جانئے آ گئے کہاں ہم دل میں تھیں کچھ ایسی حسرتیں بھی تجھ سے جو نہ کر سکے یہاں ہم گزری ہے قفس ...

مزید پڑھیے

بیگانہ ملے ہے جب ملے ہیں

بیگانہ ملے ہے جب ملے ہیں یاروں سے ہمیں بہت گلے ہیں یاد آئے ہیں دوستوں کے میلے جب پھول چمن چمن کھلے ہیں شاکی ہوں میں جن کی بے رخی کا اکثر وہی بے طلب ملے ہیں یہ داغ یہ زخم بے کسی کے شاید تری چاہ کے صلے ہیں اس طرح چھٹی کہ پھر نہ آئی ہم کو تری یاد سے گلے ہیں گزرے ہیں نظر بچا کے ...

مزید پڑھیے

ہمارے حال پہ کس دن جفا نہیں کرتے

ہمارے حال پہ کس دن جفا نہیں کرتے یہ اور بات کہ وہ برملا نہیں کرتے یہ رنگ و نور کی دنیا نظر نواز سہی ترے فقیر مگر اعتنا نہیں کرتے ضرور کوئی خطا ہم سے ہو گئی ہوگی وہ بے سبب تو کسی پر جفا نہیں کرتے کبھی تو ان کو ہمارا خیال آئے گا ہم اس امید پہ ترک وفا نہیں کرتے انہیں سے ہم کو محبت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 778 سے 4657