شاعری

آنسوؤں میں ذرا سی ہنسی گھول کر

آنسوؤں میں ذرا سی ہنسی گھول کر زہر اس نے دیا زندگی گھول کر اس کے چہرے پہ لکھنا ہے کوئی غزل روشنائی میں کچھ چاندنی گھول کر ایک کار زیاں کے سوا کچھ نہیں دیکھ لی شور میں خامشی گھول کر دور حاضر کے سچے غزل کار ہم ایک لمحے میں لائے صدی گھول کر ایک اخبار بھی آج ایسا نہیں دے خبر صبح کی ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کیا ہوئے اطراف دیکھنے والے

نہ جانے کیا ہوئے اطراف دیکھنے والے تمام شہر کو شفاف دیکھنے والے گرفت کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا ملول ہیں مرے اوصاف دیکھنے والے سوائے راکھ کوئی چیز بھی نہ ہاتھ آئی کہ ہم تھے ورثۂ اسلاف دیکھنے والے ہمیشہ بند ہی رکھتے ہیں ظاہری آنکھیں یہ تیرگی میں بہت صاف دیکھنے والے محبتوں کا ...

مزید پڑھیے

میناروں سے اوپر نکلا دیواروں سے پار ہوا

میناروں سے اوپر نکلا دیواروں سے پار ہوا حد فلک چھونے کی دھن میں اک ذرہ کوہسار ہوا چشم بصیرت راہ کی مشعل عزم جواں پتوار ہوا ساحل ساحل جشن طرب ہے ایک مسافر پار ہوا دل کے جذبے سامنے آئے خوشبو خواب دھواں بن کر جتنی دل کش سوچ تھی اس کی ویسا ہی اظہار ہوا ابھرے احساسات کے سورج یادوں ...

مزید پڑھیے

ذہن میں لگتا ہے جب خوش رنگ لفظوں کا ہجوم

ذہن میں لگتا ہے جب خوش رنگ لفظوں کا ہجوم دھندلا دھندلا سا نظر آتا ہے لوگوں کا ہجوم عمر بھر کے اے تھکے ہارے مسافر ہوشیار منزلوں سے پیشتر ہے اک درختوں کا ہجوم اس کی یادوں کا سماں بھی کس قدر پر کیف ہے جیسے گلشن میں اتر آئے پرندوں کا ہجوم مہرباں جب سے ہوئے جنگل پہ سورج دیوتا زرد سا ...

مزید پڑھیے

تاریکیوں کا ہم تھے ہدف دیکھتے رہے

تاریکیوں کا ہم تھے ہدف دیکھتے رہے سیارے سب ہماری طرف دیکھتے رہے ٹکڑے ہمارے دل کے پڑے تھے یہاں وہاں تھا پتھروں سے جن کو شغف دیکھتے رہے برسی تھی ایک غم کی گھٹا اس دیار میں چہروں کا دھل رہا تھا کلف دیکھتے رہے موتی ملے نہ خواب کی پرچھائیاں ملیں آنکھوں کے کھول کھول صدف دیکھتے ...

مزید پڑھیے

ایسے بھی کچھ غم ہوتے ہیں

ایسے بھی کچھ غم ہوتے ہیں جو امید سے کم ہوتے ہیں آگے آگے چلتا ہے رستہ پیچھے پیچھے ہم ہوتے ہیں راگ کا وقت نکل جاتا ہے جب تک سر قائم ہوتے ہیں باہر کی خشکی پہ نہ جاؤ پتھر اندر نم ہوتے ہیں ملنے کوئی نہیں آتا جب اپنے آپ میں ہم ہوتے ہیں چہروں کی تو بھیڑ ہے لیکن سہی سلامت کم ہوتے ...

مزید پڑھیے

وہ تند خو ہی سہی موجۂ خزاں کی طرح

وہ تند خو ہی سہی موجۂ خزاں کی طرح دکھائی دیتا تو ہے ابر مہرباں کی طرح تمام رات سلگتا رہا زمیں کا بدن سحر کھلی تو کسی جلتے بادباں کی طرح تری تلاش میں اب بھی کھلا کہ آنگن میں رواں ہے چاند کسی برگ نیم جاں کی طرح میں جل رہا تھا سلگتے سفید صحرا میں گلے ملا وہ مجھے موجۂ رواں کی ...

مزید پڑھیے

کسی سے دشمنی کی اور نہ یاری

کسی سے دشمنی کی اور نہ یاری ادھوری زندگی ہم نے گزاری نہ منظر کوئی آنکھوں میں بسایا نہ خوشبو کوئی سانسوں میں اتاری دعا کے لفظ کنکر بن گئے ہیں مرے اندر ہے کیسی سنگساری شہر کی رونقیں اچھی بہت ہیں پر اپنے گھر کی ویرانی ہے پیاری وہی تو جیت کا احساس ہے اک جو بازی جان کر ہم نے ہے ...

مزید پڑھیے

اس کی آنکھوں میں بارہا میں نے خود کو ہنستا ہوا سا پایا ہے

اس کی آنکھوں میں بارہا میں نے خود کو ہنستا ہوا سا پایا ہے اس کی آواز کی کھنک میں کبھی میرا لہجہ سا گنگنایا ہے میری زلفیں کھلیں تو وہ مہکا ہونٹ اس کے ہلے تو میں بولی میری سرگوشیوں میں بھی اکثر ذکر بن کر وہ مسکرایا ہے میں نے سوچا جو اس کے بارے میں ڈھل گیا خود وہ میرے پیکر میں جب ...

مزید پڑھیے

مرا محفل میں وہ محتاط لہجہ بھی تمہیں جانم

مرا محفل میں وہ محتاط لہجہ بھی تمہیں جانم مری خلوت کی سرگوشی کا چرچا بھی تمہیں جانم تصور بھی تخیل بھی تمنا بھی تمہیں جانم سفینہ بھی تلاطم بھی ہو دریا بھی تمہیں جانم نظر سے مارتے ہو اور ہونٹوں سے جلاتے ہو مرے قاتل بھی تم میرے مسیحا بھی تمہیں جانم یہ کیا منظر دکھایا مجھ کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 768 سے 4657