شاعری

مجمع مرے حصار میں سیلانیوں کا ہے

مجمع مرے حصار میں سیلانیوں کا ہے جنگل ہوں میرا فرض نگہ بانیوں کا ہے قطرے گریز کرنے لگے روشنائی کے قصہ کسی کے خون کی ارزانیوں کا ہے خوش رنگ پیرہن سے بدن تو چمک اٹھے لیکن سوال روح کی تابانیوں کا ہے رونے سے اور لطف وفاؤں کا بڑھ گیا سب ذائقہ پھلوں میں نئے پانیوں کا ہے سو بستیاں ...

مزید پڑھیے

عمر بھر ڈولتی یادوں کی ضیا سے کھیلے

عمر بھر ڈولتی یادوں کی ضیا سے کھیلے شمع امید لیے تیز ہوا سے کھیلے ہم نے ہر طرح سے دل خون کیا ہے اپنا آتش مے سے کبھی جرم وفا سے کھیلے تو وہ اک آگ جسے ہاتھ لگائے نہ بنے دل وہ دیوانہ کہ اس سیل بلا سے کھیلے اڑ گیا رنگ رخ موسم گل کا کیا کیا خشک پتے جو کبھی باد صبا سے کھیلے کس نے زنجیر ...

مزید پڑھیے

پرائے شہر میں خوشبو تلاش لیتے ہیں

پرائے شہر میں خوشبو تلاش لیتے ہیں جو اہل دل ہیں وہ اردو تلاش لیتے ہیں ہمیں تلاش ہے ایسے نگاہ والوں کی جو دن کے وقت بھی جگنو تلاش لیتے ہیں میں جانتا ہوں کچھ ایسے اداس لوگوں کو جو قہقہوں میں بھی آنسو تلاش لیتے ہیں انہیں بھی اپنی طرف کھینچ لو وفا والوں جو خون بیچ کے گھنگھرو تلاش ...

مزید پڑھیے

کسی آسیب زدہ دل کی صدا ہے کیا ہے

کسی آسیب زدہ دل کی صدا ہے کیا ہے یہ مرے ساتھ سمندر ہے ہوا ہے کیا ہے سلوٹیں روح کی آتی ہیں نظر جسموں پر دل ناداں یہ کوئی بند قبا ہے کیا ہے اس کے ہم راہ بھی چلنا ہے مگر سوچو تو راستے میں جو کہیں چھوٹ گیا ہے کیا ہے کون اس پل مری تنہائی سے ہے خوف زدہ یار دیکھو تو ذرا فون بجا ہے کیا ...

مزید پڑھیے

یادوں کی دیوار گراتا رہتا ہوں

یادوں کی دیوار گراتا رہتا ہوں میں پانی سے آنکھ بچاتا رہتا ہوں ساحل پہ کچھ دیر اکیلے ہوتا ہوں پھر دریا سے ہاتھ ملاتا رہتا ہوں یادوں کی برسات تو ہوتی رہتی ہے میں آنکھوں سے خواب گراتا رہتا ہوں ساحرؔ کی ہر نظم سنا کر مجنوں کو میں صحرا کا درد بڑھاتا رہتا ہوں دنیا والے مجھ کو پاگل ...

مزید پڑھیے

یہ خودکشی تو مری جان اک بہانہ ہے

یہ خودکشی تو مری جان اک بہانہ ہے ندی سے رابطہ میرا بہت پرانا ہے یہ میرے ساتھ اداسی کا آخری دن ہے پھر اس کے بعد کہیں اور آب و دانہ ہے مری زمین پہ پھیلا ہے آسمان عدم ازل سے میرے زمانے پہ اک زمانہ ہے تمہاری موت پہ رونے کا دل بہت تھا مگر جو پیڑ سوکھ گیا ہے اسے گرانا ہے سمندروں سے ...

مزید پڑھیے

اداسی نے سماں باندھا ہوا ہے

اداسی نے سماں باندھا ہوا ہے خوشی کے ساتھ پھر دھوکہ ہوا ہے مجھے اپنی ضرورت پڑ گئی ہے مرے اندر سے اب وہ جا چکا ہے کہانی سے عجب وحشت ہوئی ہے مرا کردار جب پختہ ہوا ہے میں ہر در پر صدائیں دے رہا ہوں کوئی آواز دے کر چھپ گیا ہے

مزید پڑھیے

سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آواز

سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آواز ہرگز نہ سنے پھر کبھوں مزمار کی آواز کھل جاویں اگر کان ترے دل کے تو بے شک ہر سمت سے پھر آئے تجھے یار کی آواز سن کر وہ صدا طائر دل کی مرے بولے شاید کہ یہ ہے بلبل گل زار کی آواز ہو جاوے کماں تیر فلک بار الم سے سن لیوے جو تیرے لب سوفار کی آواز مردہ کو ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں

کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں ہوں سراپا قیس صحرائے جنوں چشم خوں افشاں مری رو دیں اگر دشت ہو جاوے ابھی دریائے خوں دار پر رکھیں مجھیں منصور وار فاش کر دوں میں اگر راز دروں عشق ہے گنجینۂ اصرار حق پا نہیں سکتی اسے عقل زبوں کون کر سکتا ہے مجھ دیوانہ کون قید جز زنجیر و زلف پر ...

مزید پڑھیے

عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھے

عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھے کہ عالم میں پھر کچھ نہ بھایا مجھے کروں کیا بیاں میں یہ احسان عشق کہ قطرہ سے دریا بنایا مجھے فدا ہوں میں اس ناز جاں بخش پر کہ جوں جوں موا میں جلایا مجھے تری زلف پیچاں نے اے رشک گل ہزاروں بلا میں پھنسایا مجھے رلایا کبھوں مجھ کو مانند ابر کبھوں برق آسا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 769 سے 4657