مجمع مرے حصار میں سیلانیوں کا ہے
مجمع مرے حصار میں سیلانیوں کا ہے جنگل ہوں میرا فرض نگہ بانیوں کا ہے قطرے گریز کرنے لگے روشنائی کے قصہ کسی کے خون کی ارزانیوں کا ہے خوش رنگ پیرہن سے بدن تو چمک اٹھے لیکن سوال روح کی تابانیوں کا ہے رونے سے اور لطف وفاؤں کا بڑھ گیا سب ذائقہ پھلوں میں نئے پانیوں کا ہے سو بستیاں ...