شاعری

اگر یہ روشنی قلب و نظر سے آئی ہے

اگر یہ روشنی قلب و نظر سے آئی ہے تو پھر شبیہ ستم گر کدھر سے آئی ہے مہک رہا ہے بدن مانگ میں ستارے ہیں شب فراق بتا کس کے گھر سے آئی ہے گلوں میں رنگ تو خون جگر سے آیا ہے مگر یہ تازگی اس چشم تر سے آئی ہے روش روش پہ کچھ ایسے ٹہل رہی ہے صبا کہ جیسے ہو کے تری رہ گزر سے آئی ہے اسے تو گوشۂ ...

مزید پڑھیے

مثال سنگ تپیدہ جڑے ہوئے ہیں کہیں

مثال سنگ تپیدہ جڑے ہوئے ہیں کہیں ہمارے خواب یہیں پر پڑے ہوئے ہیں کہیں الجھ رہی ہے نئی ڈور نرم ہاتھوں سے پتنگ شاخ شجر پر اڑے ہوئے ہیں کہیں جنہیں اگایا گیا برگدوں کی چھاؤں میں بھلا وہ پیڑ چمن میں بڑے ہوئے ہیں کہیں گزر گیا وہ قیامت کی چال چلتے ہوئے جو منتظر تھے وہیں پر کھڑے ہوئے ...

مزید پڑھیے

عقل و دل کو ملا جلا رکھیے

عقل و دل کو ملا جلا رکھیے ضابطے میں بھی رابطہ رکھیے دوسرا شہر دوسرے ساتھی دل بھی سینے میں دوسرا رکھیے بند کر لیجے در سب آنکھوں کے ذہن اپنا مگر کھلا رکھیے اتنے پتھر نہ پھینکیے صاحب واپسی کا تو راستہ رکھیے کچھ بھی جینے کی آرزو ہے اگر جان دینے کا حوصلہ رکھیے دن سدا ایک سے نہیں ...

مزید پڑھیے

کبھی قلم کبھی نیزوں پہ سر اچھلتے ہیں

کبھی قلم کبھی نیزوں پہ سر اچھلتے ہیں اب اس فصیل سے سورج کہاں نکلتے ہیں گھروں سے بے سبب اپنے کہاں نکلتے ہیں ضرورتوں کے اشاروں پہ لوگ چلتے ہیں اندھیرا ان کے گھروں کا بہت بھیانک ہے تمام شہر میں جن کے چراغ جلتے ہیں ہوا کے جھونکے ہیں تیرے پیامبر لیکن ہوا کے جھونکے ہی چہروں پہ خاک ...

مزید پڑھیے

کبھی غمی کے نام پر کبھی خوشی کی آڑ میں

کبھی غمی کے نام پر کبھی خوشی کی آڑ میں تباہ کر گیا مجھے وہ دوستی کی آڑ میں وہ جب چلا گیا یہاں سے پھر مجھے خبر ہوئی کہ موت پالتا رہا ہوں زندگی کی آڑ میں وہ شخص بھی عجیب تھا عجیب اس کے شوق تھے خدا تراشتا رہا صنم گری کی آڑ میں میں قربتوں کی چاہ میں قریب اس کے ہو گیا وہ دور مجھ سے ہو ...

مزید پڑھیے

اپنے ہم راہ محبت کے حوالے رکھنا

اپنے ہم راہ محبت کے حوالے رکھنا کتنا دشوار ہے اک روگ کو پالے رکھنا اتنا آسان نہیں بند گلی میں رہنا شہر تاریک میں یادوں کے اجالے رکھنا ہم زیادہ کے طلب گار نہیں ہیں لیکن وقت کچھ بہر ملاقات نکالے رکھنا بات کر لیں گے جدائی پہ کہیں بعد میں ہم اپنے ہونٹوں پہ سر بزم تو تالے ...

مزید پڑھیے

ہم دونوں نے نام لکھا تھا ساحل پر

ہم دونوں نے نام لکھا تھا ساحل پر اور دل کا پیغام لکھا تھا ساحل پر تنہائی تھی اور سنہری لہریں تھیں سورج نے جب شام لکھا تھا ساحل پر گھر میں تو ہر سو تھا وحشت کا سایہ قسمت میں آرام لکھا تھا ساحل پر اک سادھو نے راکھ ملی تھی چہرے پر اور پوروں سے رام لکھا تھا ساحل پر کود گئے سب رند ...

مزید پڑھیے

کج ادائی کا لگ گیا دھڑکا

کج ادائی کا لگ گیا دھڑکا نارسائی کا لگ گیا دھڑکا تب جنوں تھا کسی کو پانے کا اب جدائی کا لگ گیا دھڑکا ضبط اب آخری حدوں پر ہے لب کشائی کا لگ گیا دھڑکا بات پھیلی ہے مسکرانے سے جگ ہنسائی کا لگ گیا دھڑکا وہ تغیر پسند ہے شازیؔ بے وفائی کا لگ گیا دھڑکا

مزید پڑھیے

آسرا حرف دعا غم سے مفر ہونے تک

آسرا حرف دعا غم سے مفر ہونے تک صبر بھی چاہیے اب اس میں اثر ہونے تک گر بقا کی ہے تمنا تو فنا کر خود کو بیج سہتا ہے ستم کتنے شجر ہونے تک رب کی تخلیق پہ انگشت بدنداں ہیں ملک مرحلے دیکھ لے مٹی سے بشر ہونے تک بخیہ گر چاک گریباں کی ہو تدبیر کوئی ہوں تری دست نگر اپنا ہنر ہونے تک عشق میں ...

مزید پڑھیے

جز ندامت ملال کیا ہوگا

جز ندامت ملال کیا ہوگا حاصل اشتعال کیا ہوگا میں کہ خانہ بدوش ہوں مجھ کو ہجرتوں کا ملال کیا ہوگا خامشی جب کلام کرتی ہو پھر وہاں قیل و قال کیا ہوگا ایک مدت سے ہجر لاحق ہے کوئی مجھ سا نڈھال کیا ہوگا جس پہ وعدہ ہے رب کی بخشش کا قطرۂ انفعال کیا ہوگا ضد پہ آئے ہوئے ہیں اشک مرے ضبط ...

مزید پڑھیے
صفحہ 762 سے 4657