شاعری

غم کا کوئی تو حل تلاش کریں

غم کا کوئی تو حل تلاش کریں خوب صورت محل تلاش کریں نفرتوں کے اجاڑ موسم میں پیار کا کوئی پل تلاش کریں بھوک اگنے لگی ہے بستی میں تشنہ لب لوگ جل تلاش کریں کتنے پاگل ہیں میرے شہر کے لوگ بانجھ موسم میں پھل تلاش کریں تلخ یادوں کو بھول کر شاہدؔ حال میں اپنا کل تلاش کریں

مزید پڑھیے

کس قدر ہے مہیب سناٹا

کس قدر ہے مہیب سناٹا خواہشوں کا عجیب سناٹا زرد رت کا خراج ہے پت جھڑ وحشتوں کا نقیب سناٹا ہے مجھے پیار اجڑے لوگوں سے چاہتا ہوں قریب سناٹا میں کہ تنہا اداس آوارہ میرا ہمدم حبیب سناٹا تم مسافر بہار رستوں کے میری منزل صلیب سناٹا چاندنی رات کہہ گئی شاہدؔ رت جگوں کا نصیب سناٹا

مزید پڑھیے

تیرے درشن سدا نہیں ہوتے

تیرے درشن سدا نہیں ہوتے معجزے بارہا نہیں ہوتے آؤ تو آہٹیں نہیں ہوتیں جاؤ تو نقش پا نہیں ہوتے تم سے ملنے ضرور آؤں گا فرض مجھ سے قضا نہیں ہوتے ٹوٹ جاتے ہیں حبس موسم میں وہ دریچے جو وا نہیں ہوتے ہاتھ خالی اٹھاتے ہیں شاہدؔ لب پہ حرف دعا نہیں ہوتے

مزید پڑھیے

مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت

مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت پھیر کر کلائی کو بار بار دیکھے وقت بارہا یہ سوچا ہے گھر سے آج چلتے وقت حادثہ نہ ہو جائے راہ سے گزرتے وقت کوئی بھی نہیں پہنچا آگ سے بچانے کو میں تھا اور تنہائی اپنے گھر میں جلتے وقت اس قدر اندھیرا تھا اس قدر تھا سناٹا چاندنی بھی ڈرتی تھی گاؤں ...

مزید پڑھیے

کوئی بچ نہیں پاتا ایسا جال بنتے ہیں

کوئی بچ نہیں پاتا ایسا جال بنتے ہیں کیسے کیسے قصے یہ ماہ و سال بنتے ہیں جانے کتنی صدیوں سے ہر برس خزاں رت میں خشک پتے دھرتی پر زرد شال بنتے ہیں آج کل نہ جانے کیوں ذہن پر تناؤ ہے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے جو خیال بنتے ہیں شہر والے پوچھیں گے کچھ سبب جدائی کا گھر کے خالی کونے بھی کچھ سوال ...

مزید پڑھیے

لگتا ہے جس کا رخ زیبا مہ کامل مجھے

لگتا ہے جس کا رخ زیبا مہ کامل مجھے اس نے ہی سمجھا نہ لیکن پیار کے قابل مجھے یوں تو میری دسترس میں کیا نہیں سب کچھ تو ہے جس کو چاہا ہو نہ پایا بس وہی حاصل مجھے آخرش قاتل کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے دیکھا جب اس نے تڑپتے صورت بسمل مجھے مانتا ہوں بوالہوس بھی ہوتے ہیں عاشق مگر ان گنہ ...

مزید پڑھیے

خیال ان کا ستائے جا رہا ہے

خیال ان کا ستائے جا رہا ہے مری ہستی مٹائے جا رہا ہے خدا کے واسطے تم آ بھی جاؤ تمہارا غم رلائے جا رہا ہے پلٹ کر دیکھنا لازم ہے اس کو صدائیں جو لگائے جا رہا ہے مجھے پتھر سمجھ کر راستے کا کوئی ٹھوکر لگائے جا رہا ہے تمہارے قرب کا احساس دل بر مری دھڑکن بڑھائے جا رہا ہے مسیحا جس کو ...

مزید پڑھیے

میرے دل میں گھر بھی بناتا رہتا ہے

میرے دل میں گھر بھی بناتا رہتا ہے اور دل پر نشتر بھی چلاتا رہتا ہے دشمن کی باتوں میں آ کر بھائی مرا سب سے جانے کیا کیا کہتا رہتا ہے دیتا ہے پیغام محبت دنیا کو خود نفرت کی آگ لگاتا رہتا ہے بھائی مرا جو پیکر تھا ہمدردی کا راہ میں میری خار بچھاتا رہتا ہے گم صم اس کی یاد میں رہتا ہے ...

مزید پڑھیے

بیتابیوں کو میری بڑھانے لگی ہوا

بیتابیوں کو میری بڑھانے لگی ہوا رخ سے نقاب ان کا اٹھانے لگی ہوا پہلے بھی کر چکی ہے مرا آشیاں تباہ تیور پھر آج اپنے دکھانے لگی ہوا ان کی تلاش کوئی بھلا کس طرح کرے نقش قدم بھی ان کے مٹانے لگی ہوا پورب سے جب چلی تو ہرے زخم ہو گئے دل میں عجیب ٹیس اٹھانے لگی ہوا لگتا ہے خوش نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

سنا ہے تیری زمانے پہ حکمرانی ہے

سنا ہے تیری زمانے پہ حکمرانی ہے مگر نہ بھول کہ دو دن کی زندگانی ہے چمن کی ساری بہاروں کے تم ہی مالک ہو فقط ہمارے مقدر میں باغبانی ہے میں کیسے چھوڑ دوں گھر کو کمائی کی خاطر میں اک غریب ہوں بٹیا مری سیانی ہے حصار بے حسی ہرگز نہ توڑ پائیں گے وہ جن کو دوستو شمع عمل بجھانی ہے بہاؤ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 763 سے 4657