شاعری

چہچہاتی بولتی آنکھوں کا اونچا شور ہے

چہچہاتی بولتی آنکھوں کا اونچا شور ہے شام کے دھندلے شجر پر کتنا اچھا شور ہے آشنائی کا سفر تھا اور کتنی خامشی واپسی کا راستہ ہے اور کتنا شور ہے ذات کی تنہائی میں کوئی نہیں ہوتا شریک بند ہیں گاڑی کے شیشے اندر اپنا شور ہے دور کے دالان سے آتی صداؤں کی مہک اور ابلتے چاولوں کا دھیما ...

مزید پڑھیے

مرے روگ کا نہ ملال کر مرے چارہ گر

مرے روگ کا نہ ملال کر مرے چارہ گر میں بڑا ہوا اسے پال کر مرے چارہ گر سبھی درد چن مرے جسم سے کسی اسم سے مرا انگ انگ بحال کر مرے چارہ گر مجھے سی دے سوزن درد، رشتۂ زرد سے مجھے ضبط غم سے بحال کر مرے چارہ گر مجھے چیر نشتر عشق سوز سرشک سے مرا اندمال محال کر مرے چارہ گر یہ بدن کے عارضی ...

مزید پڑھیے

خاموش صداؤں سے نہ پیغام سے آیا

خاموش صداؤں سے نہ پیغام سے آیا وہ حسن مرے پاس کسی کام سے آیا آیا تو نظر آیا مجھے خار ضرورت ہائے وہ گل خاص رہ عام سے آیا جب رات ڈھلی یاد جگر چیر کے گزری ویسے تو خیال اس کا مجھے شام سے آیا آنچل سے ابھر آئے ہیں جوبن کے خم و پیچ اس شعر میں ابلاغ بھی ابہام سے آیا یہ پھول مرے قرب کے ...

مزید پڑھیے

چاند سورج نہ سہی ایک دیا ہوں میں بھی

چاند سورج نہ سہی ایک دیا ہوں میں بھی اپنے تاریک مکانوں میں جلا ہوں میں بھی اپنے اسلاف کی عظمت سے جڑا ہوں میں بھی اپنی تہذیب کی مٹھی میں دبا ہوں میں بھی تم بھی گرتی ہوئی دیوار کو کاندھا دے دو اپنے پیروں پہ اسی طرح کھڑا ہوں میں بھی میری خاموشیٔ لب کا ہے صدا سے رشتہ یہ نہ سمجھے ...

مزید پڑھیے

بیدار کی نگاہ میں کل اور آج کیا

بیدار کی نگاہ میں کل اور آج کیا لمحوں سے بے نیاز کا کوئی علاج کیا قدریں بھٹک رہی ہیں ابھی کھنڈرات میں ہم عہد ارتقا سے وصولیں خراج کیا ہر ذہن بے لگام ہے ہر فکر بے قیاس آزاد نسل و قوم کے رسم و رواج کیا کس کو وہاں پہ کیجیئے تفریق آشنا جس کا جہاں لگاؤ نہ ہو احتجاج کیا زندہ ہو جب ...

مزید پڑھیے

کنار چشم سے دیکھا ہے خوف کھاتے ہوئے

کنار چشم سے دیکھا ہے خوف کھاتے ہوئے لرزتی ڈولتی دنیا کو ڈوب جاتے ہوئے کسی نے ہم سے نہ پوچھا ہمارے خواب کا رنگ یہ رنگ رنگ کے پرچم ہمیں تھماتے ہوئے ہے شور خانۂ دنیا گلی کے نکڑ پر میں کان بند ہی رکھتا ہوں آتے جاتے ہوئے کوئی تو آ کے خبر لے کہ بجھتا جاتا ہے فقیر شب کے اندھیرے میں دن ...

مزید پڑھیے

مرے روگ کا نہ ملال کر مرے چارہ گر

مرے روگ کا نہ ملال کر مرے چارہ گر میں بڑا ہوا اسے پال کر مرے چارہ گر سبھی درد چن مرے جسم سے کسی اسم سے مرا انگ انگ بحال کر مرے چارہ گر مجھے سی دے سوزن درد رشتۂ زرد سے مجھے ضبط غم سے بحال کر مرے چارہ گر مجھے چیر نشتر عشق سوز سرشک سے مرا اندمال محال کر مرے چارہ گر یہ بدن کے عارضی ...

مزید پڑھیے

مرا نہیں تو وہ اپنا ہی کچھ خیال کرے

مرا نہیں تو وہ اپنا ہی کچھ خیال کرے اسے کہو کہ تعلق کو پھر بحال کرے نگاہ یار نہ ہو تو نکھر نہیں پاتا کوئی جمال کی جتنی بھی دیکھ بھال کرے ملے تو اتنی رعایت عطا کرے مجھ کو مرے جواب کو سن کر کوئی سوال کرے کلام کر کہ مرے لفظ کو سہولت ہو ترا سکوت مری گفتگو محال کرے بلندیوں پہ کہاں تک ...

مزید پڑھیے

جیسے دیکھا ہے دکھایا بھی نہیں جا سکتا

جیسے دیکھا ہے دکھایا بھی نہیں جا سکتا خواب کا حال سنایا بھی نہیں جا سکتا پھینکی جاتی بھی نہیں راہ میں یادیں اس کی اور یہ بوجھ اٹھایا بھی نہیں جا سکتا عکس کو آنکھ سے تھاما ہے سر آب رواں چاند پانی میں بہایا بھی نہیں جا سکتا دو کنارے بھی یہ ہوتے تو ملا دیتا میں دل کو دنیا سے ملایا ...

مزید پڑھیے

نہ دن ہی چین سے گزرا نہ کوئی رات مری

نہ دن ہی چین سے گزرا نہ کوئی رات مری وہ سبز باغ دکھاتی رہی حیات مری مرے وجود کو رہنے دے سنگ کی صورت کسی نظر میں تو آئینہ ہوگی ذات مری تجھے بھی دل میں فراغت سے میں سمو نہ سکوں کچھ ایسی تنگ نہیں ہے یہ کائنات مری کروں تو کون سا عنواں عطا کروں اس کو بٹی ہوئی ہے کئی قسطوں میں حیات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 710 سے 4657