چہچہاتی بولتی آنکھوں کا اونچا شور ہے
چہچہاتی بولتی آنکھوں کا اونچا شور ہے شام کے دھندلے شجر پر کتنا اچھا شور ہے آشنائی کا سفر تھا اور کتنی خامشی واپسی کا راستہ ہے اور کتنا شور ہے ذات کی تنہائی میں کوئی نہیں ہوتا شریک بند ہیں گاڑی کے شیشے اندر اپنا شور ہے دور کے دالان سے آتی صداؤں کی مہک اور ابلتے چاولوں کا دھیما ...