شاعری

یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا

یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا کرنوں کی طرح جھیل کے سینے میں اتر جا مت بھول کہ اب بھی ہے تری گھات میں صیاد سنتا ہے کوئی پاؤں کی آواز ٹھہر جا مت دیکھ تمنا کی طرف آنکھ اٹھا کر اندھوں کی طرح نور کے دریا سے گزر جا منزل کی طلب اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور رات مسافر سے یہ کہتی ہے کہ ...

مزید پڑھیے

اب نہ وہ شور نہ وہ شور مچانے والے

اب نہ وہ شور نہ وہ شور مچانے والے خاک سے بیٹھ گئے خاک اڑانے والے یہ الگ بات میسر لب گویا نہ ہوا دل میں وہ دھوم کہ سنتے ہیں زمانے والے کسی منزل کی طرف کوئی قدم اٹھ نہ سکا اپنے ہی پاؤں کی زنجیر تھے جانے والے دل سا وحشی کبھی قابو میں نہ آیا یارو ہار کر بیٹھ گئے جال بچھانے والے دن ...

مزید پڑھیے

کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی

کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی درخت کاٹ گیا ہے ہرے بھرے کوئی عجیب رت ہے زباں ذائقے سے ہے محروم تمام شہر ہی چپ ہو تو کیا کرے کوئی ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم چراغ بھی نہ جلائے چراغ سے کوئی یہ زندگی ہے سفر منجمد سمندر کا وہیں پہ شق ہو زمیں جس جگہ رکے کوئی پلٹ کر آ نہیں ...

مزید پڑھیے

دل سے یہ کہہ رہا ہوں ذرا اور دیکھ لے

دل سے یہ کہہ رہا ہوں ذرا اور دیکھ لے سو بار اس کو دیکھ چکا اور دیکھ لے اس کو خبر ہوئی تو بدل جائے گا وہ رنگ احساس تک نہ اس کو دلا اور دیکھ لے صحرا میں کیا دھرا ہے ابھی شہر کو نہ چھوڑ کچھ روز دوستوں کی وفا اور دیکھ لے موسم کا اعتبار نہیں بادباں نہ کھول کچھ دیر ساحلوں کی ہوا اور ...

مزید پڑھیے

عقل ہر بات پہ حیراں ہے اسے کیا کہیے

عقل ہر بات پہ حیراں ہے اسے کیا کہیے دل بہر حال پریشاں ہے اسے کیا کہیے بلبلیں طاقت گفتار سے محروم ہوئیں اب یہ آئین گلستاں ہے اسے کیا کہیے لوگ کہتے ہیں کہ گلشن میں بہار آئی ہے بوئے گل پھر بھی پریشاں ہے اسے کیا کہیے رہنما دور بہت دور نکل آئے ہیں قافلہ راہ میں حیراں ہے اسے کیا ...

مزید پڑھیے

ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں

ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں جن کو سنانا چاہتا ہوں کب سنتے ہیں اب بھی وہی دن رات ہیں لیکن فرق یہ ہے پہلے بولا کرتے تھے اب سنتے ہیں شک اپنی ہی ذات پہ ہونے لگتا ہے اپنی باتیں دوسروں سے جب سنتے ہیں محفل میں جن کو سننے کی تاب نہ تھی وہ باتیں تنہائی میں اب سنتے ہیں جینا ہم کو ویسے ...

مزید پڑھیے

اگرچہ کار دنیا کچھ نہیں ہے

اگرچہ کار دنیا کچھ نہیں ہے مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اگر دھرتی پہ بادل ہی نہ برسیں تو یہ دریا اکیلا کچھ نہیں ہے بہت ناراض ہیں اک دوسرے سے مگر دونوں میں جھگڑا کچھ نہیں ہے یہ جو کچھ ہو رہا ہے شہر بھر میں تماشا ہے تماشا کچھ نہیں ہے یہ میں ہوں جو بدل جاتا ہوں ہر روز زمانے میں ...

مزید پڑھیے

آپ بھی نہیں آئے نیند بھی نہیں آئی

آپ بھی نہیں آئے نیند بھی نہیں آئی نیم وا دریچوں سے جھانکتی ہے تنہائی جاگ جاگ اٹھتے ہیں گن کلی کے میٹھے سر چھیڑ چھیڑ جاتی ہے گیسوؤں کی پروائی یوں مرے خیالوں میں تیری یاد رقصاں ہے جس طرح فضاؤں میں گونجتی ہے شہنائی گرد راہ بھی چپ ہے سنگ میل بھی خاموش طالبان منزل کی کچھ خبر نہیں ...

مزید پڑھیے

سورج کی کرن دیکھ کے بیزار ہوئے ہو

سورج کی کرن دیکھ کے بیزار ہوئے ہو شاید کہ ابھی خواب سے بے دار ہوئے ہو منزل ہے کہاں تم کو دکھائی نہیں دے گی تم اپنے لیے آپ ہی دیوار ہوئے ہو احساس کی دولت جو ملے گی تو کہاں سے کچھ بھی نہ رہا پاس تو ہشیار ہوئے ہو سوچو تو ہے موجود نہ سوچو تو نہیں ہے جس دام میں تم لوگ گرفتار ہوئے ...

مزید پڑھیے

منتظر دشت دل و جاں ہے کہ آہو آئے

منتظر دشت دل و جاں ہے کہ آہو آئے سارے منظر ہی بدل جائیں اگر تو آئے نیند آئے تو اچانک تری آہٹ سن لوں جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے بے ہنر ہاتھ چمکنے لگا سورج کی طرح آج ہم کس سے ملے آج کسے چھو آئے صوت ہی صوت ہے تصویر ہی تصویر ہے تو یاد تیری کئی باتیں کئی پہلو آئے ہم تجھے دیکھتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 711 سے 4657