شاعری

فکر میں مفت عمر کھونا ہے

فکر میں مفت عمر کھونا ہے ہو چکا ہے جو کچھ کہ ہونا ہے کھیل سب چھوڑ کھیل اپنا کھیل آپ قدرت کا تو کھلونا ہے آنکھ ٹک کھول دید قدرت کر پھر تو پاؤں پسار سونا ہے چپ رہا کر بڑوں کی مجلس میں یہ بھی ایک عافیت کا کونا ہے میرا معشوق ہے مزوں میں بھرا کبھو میٹھا کبھو سلونا ہے چھل بل اس کی ...

مزید پڑھیے

آب حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا

آب حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا مانند خضر جگ میں اکیلا جیا تو کیا شیریں لباں سیں سنگ دلوں کو اثر نہیں فرہاد کام کوہ کنی کا کیا تو کیا جلنا لگن میں شمع صفت سخت کام ہے پروانہ جوں شتاب عبث جی دیا تو کیا ناسور کی صفت ہے نہ ہوگا کبھو وہ بند جراح زخم عشق کوں آ کر سیا تو کیا محتاجگی سوں ...

مزید پڑھیے

آج دل بر کے نام کو رٹ رٹ

آج دل بر کے نام کو رٹ رٹ رو دیا لا علاج ہو پٹ پٹ ظلم سے تیرے دل مرا کھٹ کھٹ پارہ پارہ ہوا جگر پھٹ پھٹ اے میاں دیکھ تجھ کمر میں تیغ ٹکڑے ٹکڑے جگر ہوا کٹ کٹ مو سے باریک تر ہوا ہوں ضعیف تیری زلفوں کی دیکھ کر لٹ لٹ ہاتھ دکھلا کے جی نکال لیا یہ کلا دیکھ کر گئے نٹ نٹ سیلی بازوں کے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

بات کرنی ہے تو آ اب فکر و فن کی بات کر

بات کرنی ہے تو آ اب فکر و فن کی بات کر ہم نوا اے ہم نفس ہم سے سخن کی بات کر باغ کی بلبل کی غنچوں کی چمن کی بات کر اس زمیں کی بات کر تو اس گگن کی بات کر جسم پر نشتر کے ہیں گر زخم تو بھر جائیں گے روح تک زخمی ہو جس سے اس چبھن کی بات کر صنف نازک کو اگر دینی ہے عزت دل سے دے در گزر کر دے ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد پھر لہرا گئی تو

کسی کی یاد پھر لہرا گئی تو بس اک پل میں قیامت آ گئی تو چرائے پھرتا ہے تو آنکھ مجھ سے نظر سے گر نظر ٹکرا گئی تو نظر سے دیکھتے ہو چاہتوں کی میرے چہرے پہ سرخی چھا گئی تو ابھی تو کانپتا ہے جسم ڈر سے ہماری روح بھی تھرا گئی تو بزرگوں کی ہدایت ساتھ رکھیے کبھی جو زندگی بل کھا گئی ...

مزید پڑھیے

میری خاموش محبت کی یہ قیمت دی ہے

میری خاموش محبت کی یہ قیمت دی ہے اس نے ٹھکرا کے مجھے درد کی دولت دی ہے آپ کو بھول سکوں دل کو کہیں بہلاؤں آپ کی یاد نے کب مجھ کو یہ مہلت دی ہے پاس بیٹھوں تیرے اور تجھ کو ہی دیکھے جاؤں میری آنکھوں کو کہاں اتنی اجازت دی ہے دردمندی سے محبت سے ملوں میں سب سے میرے اجداد نے ورثے میں یہ ...

مزید پڑھیے

رونا وہی جو خوف الٰہی سے روئیے

رونا وہی جو خوف الٰہی سے روئیے سونا وہی جو اس کے تصور میں سوئیے کپڑے سفید دھو کے جو پہنے تو کیا ہوا دھونا وہی جو دل کی سیاہی کو دھوئیے دہقاں کی طرح دانہ زمین میں نہ بو عبث بونا وہی جو تخم عمل دل میں بوئیے کھویا گیا ہے شیخ قیامت کے وہم میں کھونا وہی کہ آپ کو آپ ہی میں ...

مزید پڑھیے

اب کی چمن میں گل کا نے نام و نے نشاں ہے

اب کی چمن میں گل کا نے نام و نے نشاں ہے فریاد بلبلاں ہے یا شہرۂ خزاں ہے ہم سیر کر جو دیکھا روئے زمیں کے اوپر آسودگی کہاں ہے جب تک یہ آسماں ہے ہم کیا کہیں زباں سے آپ ہی تو سن رہے گا شکوہ ترے ستم کا ظالم جہاں تہاں ہے مدت ہوئی کہ مر کر میں خاک ہو گیا ہوں جینے کا بد گماں کو اب تک مرے ...

مزید پڑھیے

آسماں آسماں تھا مرا کب ہوا میں زمیں بے صدا یہ نہ معلوم تھا

آسماں آسماں تھا مرا کب ہوا میں زمیں بے صدا یہ نہ معلوم تھا اس محبت نے توڑے ہیں ہم پر ستم تو بھی سودائی تھا یہ نہ معلوم تھا ٹوٹے اک تار سے سوز اور ساز سے کتنی مشکل سے جوڑا تھا ہم نے جسے تنکا تنکا ہے بکھرا وہی آشیاں آئے گی یوں بلا یہ نہ معلوم تھا تیری فطرت میں ظالم ہے سوداگری تیری ...

مزید پڑھیے

کیا غم کے ساتھ ہم جئیں اور کیا خوشی کے ساتھ

کیا غم کے ساتھ ہم جئیں اور کیا خوشی کے ساتھ جو دل کو دے سکون گزر ہو اسی کے ساتھ کاغذ کی ناؤ میری پلٹ کر نہ آ سکی بچپن میں میرا دل بھی بہا تھا اسی کے ساتھ آنکھوں کے سوتے خشک ہوئے روشنی گئی لیکن نظر کا رشتہ وہی ہے نمی کے ساتھ کیا موت ہی علاج ہے غم سے نجات کا کیوں زندگی کی بننے لگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 708 سے 4657