شاعری

ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب

ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب مرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شراب مدت سے آرزو ہے خدا وہ گھڑی کرے ہم تم پئیں جو مل کے کہیں ایک جا شراب مشرب میں تو درست خراباتیوں کے ہے مذہب میں زاہدوں کے نہیں گر روا شراب ساقی کے تئیں بلاؤ اٹھا دو طبیب کو مستوں کے ہے مرض کی جہاں میں دوا شراب بے ...

مزید پڑھیے

طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہے

طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہے مرے دل کی حقیقت کو مرا اللہ جانے ہے وہ بے پروا مرا کب امتیاز چاہ جانے ہے مری حالت کو دل اور دل کی حالت آہ جانے ہے اسے جو دیکھتا ہے دن کو سو خورشید جانے ہے جو گھر سے رات کو نکلے تو عالم ماہ جانے ہے ہماری بات کو وہ عاقبت نا فہم کیا مانے جو بد ...

مزید پڑھیے

اس کی قدرت کی دید کرتا ہوں

اس کی قدرت کی دید کرتا ہوں روز نو روز عید کرتا ہوں میرا احوال فقر مت پوچھو زہد مثل فرید کرتا ہوں روز بازار ملک ہستی میں جنس عصیاں خرید کرتا ہوں فتح کرنے کو قلب دل کا حصار تیغ ہمت کلید کرتا ہوں بسکہ میں تشنۂ شہادت ہوں دل کو ہر دم شہید کرتا ہوں نہ میں سنی نہ شیعہ نے کافر صوفی ...

مزید پڑھیے

تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہے

تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہے امر ربی ہے روح مولا ہے جب تلک ہے جدا تو ہے قطرہ بحر میں مل گیا تو دریا ہے فی الحقیقت کوئی نہیں مرتا موت حکمت کا ایک پردا ہے اور شریعت کی پوچھتا ہے تو یار وحدہ لا شریک یکتا ہے ہے گا وہم و قیاس سے باہر وہ نہ تجھ سا ہے اور نہ مجھ سا ہے جہاں ہو جو کہو سمیع و ...

مزید پڑھیے

جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنا

جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنا دل کو جانے تھے ہم اپنا سو کہاں ہے اپنا قصۂ مجنوں و فرہاد بھی اک پردا ہے جو فسانہ ہے یہاں شرح و بیاں ہے اپنا وصف کہنے میں ترے حسن کے شرمندہ ہوں اس کے قابل نہ زباں ہے نہ دہاں ہے اپنا جس کو جانا ہو بھلا اس کو برا کیا کہیے گو کہ بد وضع ہے پر اب تو ...

مزید پڑھیے

دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میں

دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میں آباد سب خراب ہے میری نگاہ میں بہتی پھرے ہے عمر تلاطم میں دہر کے انسان جوں حباب ہے میری نگاہ میں میں بحر غم کو دیکھ لیا نا خدا برو کشتی نہ ہو پہ آب ہے میری نگاہ میں چھوٹا ہوں جب سے شیخ تعین کی قید سے ہر ذرہ آفتاب ہے میری نگاہ میں تم کیف میں شراب ...

مزید پڑھیے

جب وہ عالی دماغ ہنستا ہے

جب وہ عالی دماغ ہنستا ہے غنچہ کھلتا ہے باغ ہنستا ہے ہاتھ میں دیکھ کر ترے مرہم میرے سینے کا داغ ہنستا ہے کیا ہوا پھر گئی ہے گلشن کی صوت بلبل کو زاغ ہنستا ہے شمع ہر شام تیرے رونے پر صبح دم تک چراغ ہنستا ہے شیخ کی دیکھ صورت تقویٰ آج حاتمؔ ایاغ ہنستا ہے

مزید پڑھیے

آئی عید و دل میں نہیں کچھ ہوائے عید

آئی عید و دل میں نہیں کچھ ہوائے عید اے کاش میرے پاس تو آتا بجائے عید قربان سو طرح سے کیا تجھ پر آپ کو تو بھی کبھو تو جان نہ آیا بجائے عید جتنے ہیں جامہ زیب جہاں میں سبھوں کے بیچ سجتی ہے تیرے بر میں سراپا قبائے عید

مزید پڑھیے

بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیں

بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیں لیکن نظر کرو تو خدا سے جدا نہیں نقطے کا فرق ہے گا خدا اور جدا میں دیکھ صورت میں گر چھپا ہے بمعنی چھپا نہیں ہر شے کے بیچ آپ نہاں ہو عیاں ہوا دیکھا تو ہم نے اس سا کوئی خود نما نہیں حیران عقل کل کی ہے اس کی صفت کو دیکھ سب جا میں جلوہ گر ہے مگر ایک جا ...

مزید پڑھیے

مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہو

مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہو درد ہو گر دوا نہیں تو نہ ہو ہم تو ہیں آشنا ترے ظالم تو اگر آشنا نہیں تو نہ ہو دل ہے وابستہ تیرے دامن سے دست میرا رسا نہیں تو نہ ہو ہم تو تیری جفا کے بندے ہیں تجھ میں رسم وفا نہیں تو نہ ہو آستاں پر تو گر رہے ہیں اگر تیری مجلس میں جا نہیں تو نہ ہو ہم تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 707 سے 4657