شاعری

روح سے کب یہ جسم جدا ہے

روح سے کب یہ جسم جدا ہے ان باتوں میں کیا رکھا ہے رفتہ رفتہ وہ بھی مجھ کو بھول رہا ہے بھول چکا ہے رت پیراہن بدل رہی ہے پتا پتا ٹوٹ رہا ہے ان آنکھوں کا ہر افسانہ میرے ہی خوابوں کی صدا ہے ہر چہرہ جانا پہچانا شہر ہی اپنا چھوٹا سا ہے

مزید پڑھیے

ہم کب اس راہ سے گزرتے ہیں

ہم کب اس راہ سے گزرتے ہیں اپنی آوارگی سے ڈرتے ہیں کشتیاں ڈوب بھی تو سکتی ہیں ڈوب کر بھی تو پار اترتے ہیں توڑ کر رشتۂ خلوص احباب آنسوؤں کی طرح بکھرتے ہیں اپنے احساس کی کسوٹی پر ہم بھی پورے کہاں اترتے ہیں چاہے کیسا ہی دور آ جائے اپنے حالات کب سنورتے ہیں سطح پر ہیں حباب کے ...

مزید پڑھیے

میں ہی کشتی بھی ہوں ملاح بھی طوفان بھی ہوں

میں ہی کشتی بھی ہوں ملاح بھی طوفان بھی ہوں اور اب ڈوب رہا ہوں تو پریشان بھی ہوں میں جو اوروں کو دکھاتا ہوں اس آئینے میں اپنا چہرہ نظر آیا ہے تو حیران بھی ہوں حال یہ کیسا فقیروں سا بنا رکھا ہے کون کہہ دے گا کسی وقت کا سلطان بھی ہوں باریابی کی تمنا میں پڑا ہوں در پر بیٹھا ہوتا تو ...

مزید پڑھیے

شہر کا شہر جانتا ہے مجھے

شہر کا شہر جانتا ہے مجھے شہر کے شہر سے گلہ ہے مجھے میرا بس ایک ہی ٹھکانا ہے میں کہاں جاؤں گا پتا ہے مجھے روشنی میں کہیں اگل دے گا میرا سایہ نگل گیا ہے مجھے بن گیا ہوں گناہ کی تصویر کوئی چھپ چھپ کے دیکھتا ہے مجھے راستے بھی تو سو گئے ہوں گے اپنے بستر پہ جاگنا ہے مجھے اس کی باتیں ...

مزید پڑھیے

دولت مرے پیچھے نہ شرافت مرے آگے

دولت مرے پیچھے نہ شرافت مرے آگے چلتا ہے مرا سایۂ وحشت مرے آگے قدرت نے بنایا ہے مجھے ایسا بیاباں اڑ جاتی ہے صحراؤں کی رنگت مرے آگے دشمن کی نظر آتا ہوں میں جان کا اپنی پھیکی ہے رقیبوں کی رقابت مرے آگے کچھ کرنے نہیں دیتی مری کاہلی مجھ کو بیکار پڑی رہتی ہے فرصت مرے آگے کچھ کھویا ...

مزید پڑھیے

جب قافلہ یادوں کا گزرا تو فضا مہکی

جب قافلہ یادوں کا گزرا تو فضا مہکی محسوس ہوا تیرے قدموں کی صدا مہکی خوابوں میں لیے ہم نے بوسے ترے بالوں کے جب ہجر کی راتوں میں ساون کی گھٹا مہکی مانگی جو دعا ہم نے اس شوخ سے ملنے کی لوبان کی خوشبو سے بڑھ کر وہ دعا مہکی اک نرم سے جھونکے کی نازک سی شرارت سے کیا کیا نہ ہوئی رسوا ...

مزید پڑھیے

زہر غم خوب پیا ہم نے شرابوں سے بچے

زہر غم خوب پیا ہم نے شرابوں سے بچے جھیل کر کتنے عذابوں کو عذابوں سے بچے سوچنے بیٹھیں تو سوچے ہی چلے جاتے ہیں خوف کانٹوں کا عجب تھا کہ گلابوں سے بچے کتنے معصوم تھے چہرے نہیں دیکھے تم نے وہ جو رہ کر بھی نقابوں میں نقابوں سے بچے جاگتا ہو تو نہ دیکھے کوئی محلوں کی طرف کس طرح سویا ...

مزید پڑھیے

شام آ کر جھروکوں میں بیٹھی رہے

شام آ کر جھروکوں میں بیٹھی رہے ساعتوں میں سمندر پروتی رہے موسموں کے حوالے ترے نام سے دھوپ چھاؤں مرے دل میں ہوتی رہے جی نہ چاہا تری محفلوں سے اٹھوں بے بسی خالی نظروں سے تکتی رہے تم نے مانگا ہے احساس اس ڈھنگ سے پتھروں کی خموشی پگھلتی رہے یوں گزرتے رہیں یاد کے قافلے میری گلیوں ...

مزید پڑھیے

نہ توڑو زندگی رشتہ جہاں سے

نہ توڑو زندگی رشتہ جہاں سے ملے گا پھر کوئی ساتھی کہاں سے جفائیں ہوں کہ دکھ رکھ لو خوشی سے کہ بہتر ہیں یہ عمر رائیگاں سے بہاروں سے نہ اتنا دل لگاؤ کہ وحشت ہو چلے تم کو خزاں سے وہ منظر ریت کے ساحل میں گم ہیں یہی امید تھی آب رواں سے یہ آنکھیں غم سے بوجھل ہو چلی ہیں اتر آئے مسیحا ...

مزید پڑھیے

حدت شوق سے جلتے ہیں شراروں کے ہجوم

حدت شوق سے جلتے ہیں شراروں کے ہجوم آسماں سے اتر آئے ہیں ستاروں کے ہجوم غرق ہو جائیں سمندر میں کہیں سوچا تھا ہائے قسمت ہمیں ملتے ہیں کناروں کے ہجوم جان کو اپنی چھڑا لائیں ہیں ویرانوں میں شہر میں جان کو آتے ہیں سہاروں کے ہجوم کتنے پر کیف ہیں رنگین خزاں کے موسم جی جلاتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 682 سے 4657