چمن چمن جو یہ صبح بہار کی ضو ہے
چمن چمن جو یہ صبح بہار کی ضو ہے ترے تبسم رنگیں کا ایک پرتو ہے خزاں کی رات کے قاتل کہاں گئے دیکھیں کہ جو لہو ہے چراغ بہار کی لو ہے چلے نہ ساتھ زمانہ تو اس کو یوں کہیے ٹھہر گیا ہے مسافر کہ جادۂ نو ہے بجھا ہے دل تو نہ سمجھو کہ بجھ گیا غم بھی کہ اب چراغ کے بدلے چراغ کی لو ہے مری زمیں ...