شاعری

منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں

منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں سب قیامت کے ہی آثار نظر آتے ہیں ان مسیحاؤں سے اللہ بچائے ہم کو شکل و صورت سے جو بیمار نظر آتے ہیں جانے کیا ٹوٹ گیا ہے کہ ہر اک رات مجھے خواب میں گنبد و مینار نظر آتے ہیں مات دیتے ہیں یزیدوں کو لہو سے ہم ہی ہم ہی نیزوں پہ ہر اک بار نظر آتے ...

مزید پڑھیے

اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو

اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو در اس کا چھٹ گیا تو دریچے بھی چھوڑ دو کیسا ہے وہ کہاں ہے بنا کس کا ہم سفر بہتر ہے کچھ سوال ادھورے بھی چھوڑ دو اک بے وفا کا نام لکھو گے کہاں تلک اوراق اپنے ماضی کے سادے بھی چھوڑ دو جینے کے واسطے نہ سہارے کرو تلاش جب ڈوب ہی رہے ہو تو تنکے بھی چھوڑ ...

مزید پڑھیے

زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا

زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا مقتلوں کو جانے والا راستہ رہ جائے گا خشک ہو جائیں گی آنکھیں اور چھٹ جائے گا ابر زخم دل ویسے کا ویسا اور ہرا رہ جائے گا بجھ چکی ہوں گی تمہارے گھر کی ساری مشعلیں اور تو لوگوں میں شمعیں بانٹتا رہ جائے گا مجھ سے لے جائے گا اک اک چیز وہ جاتے ...

مزید پڑھیے

پھول سے لوگوں کو مٹی میں ملا کر آئے گی

پھول سے لوگوں کو مٹی میں ملا کر آئے گی چل رہی ہے جو ہوا سب کچھ فنا کر جائے گی زندگی گزرے گی مجھ کو روند کر پیروں تلے موت لیکن مجھ کو سینے سے لگا کر جائے گی وہ کسی کی یاد میں جلتی ہوئی شمع فراق خود بھی پگھلے گی مری آنکھوں کو بھی پگھلائے گی آنے والے موسموں کی سر پھری پاگل ہوا ایک دن ...

مزید پڑھیے

مانا کہ سعئ عشق کا انجام کار کیا

مانا کہ سعئ عشق کا انجام کار کیا بے اختیار دل پہ مگر اختیار کیا ہر ذرہ آشیانۂ دل ہے کہیں ٹھہر صحرائے زندگی میں تلاش دیار کیا شاید کہ شہر میں کوئی انسان آ گیا دیکھو ہجوم سا ہے سر رہ گزار کیا صدیوں کا زہر پی کے جو سوئے وہ کیا اٹھے ڈستی ہے زندگی کی خلش بار بار کیا ہر ذرہ لالہ زار ...

مزید پڑھیے

شراب و شعر کے سانچے میں ڈھل کے آئی ہے

شراب و شعر کے سانچے میں ڈھل کے آئی ہے یہ شام کس کی گلی سے نکل کے آئی ہے سمجھ رہا ہوں سحر کے فریب رنگیں کو نیا لباس شب غم بدل کے آئی ہے ترے قدم کی بہک ہے تری قبا کی مہک نسیم تیرے شبستاں سے چل کے آئی ہے وفا پہ آنچ نہ آتی اگر تمھی کہتے زباں تک آج جو اک بات چل کے آئی ہے سجی ہوئی ہے ...

مزید پڑھیے

ہجوم درد میں خنداں ہے کون میرے سوا

ہجوم درد میں خنداں ہے کون میرے سوا حریف گردش دوراں ہے کون میرے سوا دوائے دل کے لیے اپنے پاس آیا ہوں کہ میرے درد کا درماں ہے کون میرے سوا یہ ہم سفر تو چمن تک کے ہم سفر ٹھہرے مرا رفیق بیاباں ہے کون میرے سوا ستارۂ شب غم کس پہ مسکرائیں گے فریب خوردۂ پیماں ہے کون میرے سوا وہ آدمی ہی ...

مزید پڑھیے

جنوں تو ہے مگر آؤ جنوں میں کھو جائیں

جنوں تو ہے مگر آؤ جنوں میں کھو جائیں کسی کو اپنا بنائیں کسی کے ہو جائیں جگر کے داغ کوئی کم ہیں روشنی کے لیے میں جاگتا ہوں ستاروں سے کہہ دو سو جائیں طلوع صبح غم زندگی کو ضد یہ ہے کہ میرے خواب کے لمحے غروب ہو جائیں یہ سوگوار سفینہ بھی رہ کے کیا ہوگا اسے بھی آ کے مرے ناخدا ڈبو ...

مزید پڑھیے

ہنسو نہ تم رخ دشمن جو زرد ہے یارو

ہنسو نہ تم رخ دشمن جو زرد ہے یارو کسی کا درد ہو اپنا ہی درد ہے یارو دلوں سے شکوۂ باہم کو دور کرنے میں لگے گا وقت کہ برسوں کی گرد ہے یارو ہم اہل شہر کی فطرت سے خوب واقف ہے وہ اک غریب جو صحرا نورد ہے یارو جہاں متاع ہنر کی خرید ہوتی تھی بہت دنوں سے وہ بازار سرد ہے یارو عجب نہیں کہ ...

مزید پڑھیے

خود کوئی چاک گریباں ہے رگ جاں کے قریب

خود کوئی چاک گریباں ہے رگ جاں کے قریب اے جنوں حشر کا ساماں ہے رگ جاں کے قریب منزل دل سے تو گزرے ہوئے دن بیت گئے کاروان غم جاناں ہے رگ جاں کے قریب در بدر کس لیے آوارہ ہو سرگشتہ ہو دوستو کوچۂ جاناں ہے رگ جاں کے قریب کیا کہیں اب دل بیتاب کا عالم یارو مضطرب جیسے رگ جاں ہے رگ جاں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 669 سے 4657