شاعری

جو دیکھتے ہوئے نقش قدم گئے ہوں گے

جو دیکھتے ہوئے نقش قدم گئے ہوں گے پہنچ کے وہ کسی منزل پہ تھم گئے ہوں گے پلٹ کے دشت سے آئیں گے پھر نہ دیوانے پکار لو کہ ابھی کچھ قدم گئے ہوں گے جو ماورائے تصور نہیں کوئی صورت تو بتکدے ہی تک اہل حرم گئے ہوں گے ترے جنوں نے پکارا تھا ہوش والوں کو نہ جانے کون سے عالم میں ہم گئے ہوں ...

مزید پڑھیے

خموش کس لیے بیٹھے ہو چشم تر کیوں ہو

خموش کس لیے بیٹھے ہو چشم تر کیوں ہو کوئی خفا ہو کسی سے تو اس قدر کیوں ہو نظر کی پیاس بجھا دو جو اک نگاہ سے تم تو ہر نظارے سے رسوا مری نظر کیوں ہو جنوں کی جادہ تراشی ہے بانکپن میرا یہ رہ گزار جہاں اپنی رہ گزر کیوں ہو گرا تھا جام نہ ٹوٹا تھا کوئی آئینہ شکست دل کی بھلا آپ کو خبر کیوں ...

مزید پڑھیے

جشن حیات ہو چکا جشن ممات اور ہے

جشن حیات ہو چکا جشن ممات اور ہے ایک برات آ چکی ایک برات اور ہے عشق کی اک زبان پر لاکھ طرح کی بندشیں آپ تو جو کہیں بجا آپ کی بات اور ہے پینے کو اس جہان میں کون سی مے نہیں مگر عشق جو بانٹتا ہے وہ آب حیات اور ہے ظلمت وقت سے کہو حسرت دل نکال لے ظلمت وقت کے لیے آج کی رات اور ہے ان کو ...

مزید پڑھیے

یہ خوشی غم زمانہ کا شکار ہو نہ جائے

یہ خوشی غم زمانہ کا شکار ہو نہ جائے نہ ملو زیادہ ہم سے کہیں پیار ہو نہ جائے جو مچل رہی ہے شیشے میں حسین ہے وہ شبنم مرے لب تک آتے آتے جو شرار ہو نہ جائے نہ کٹیں اکیلے دل سے غم زندگی کی راہیں جو شریک فکر دوراں غم یار ہو نہ جائے نہ بڑھا بہت چمن سے رہ و رسم آشیانہ کہ مزاج باغباں پر ...

مزید پڑھیے

اگرچہ عشق میں اک بے خودی سی رہتی ہے

اگرچہ عشق میں اک بے خودی سی رہتی ہے مگر وہ نیند بھی جاگی ہوئی سی رہتی ہے وہی تو وجہ تعارف ہے کوئی کیا جانے ادا ادا میں جو اک بے رخی سی رہتی ہے بڑی عجیب ہے شب ہائے غم کی ظلمت بھی دیے جلاؤ مگر تیرگی سی رہتی ہے ہزار درد فرائض ہیں اور دل تنہا مرے خلوص کو شرمندگی سی رہتی ہے شمیمؔ خون ...

مزید پڑھیے

پی کر بھی طبیعت میں تلخی ہے گرانی ہے

پی کر بھی طبیعت میں تلخی ہے گرانی ہے اس دور کے شیشوں میں صہبا ہے کہ پانی ہے اے حسن تجھے اتنا کیوں ناز جوانی ہے یہ گل بدنی تیری اک رات کی رانی ہے اس شہر کے قاتل کو دیکھا تو نہیں لیکن مقتل سے جھلکتا ہے قاتل کی جوانی ہے جلتا تھا جو گھر میرا کچھ لوگ یہ کہتے تھے کیا آگ سنہری ہے کیا آنچ ...

مزید پڑھیے

آ رہی ہے شب غم میری طرف میرے لیے

آ رہی ہے شب غم میری طرف میرے لیے ساقیا چشم کرم میری طرف میرے لیے تھکنے لگتا ہوں تو آواز سی آتی ہے کوئی اور دو چار قدم میری طرف میرے لیے لوگ کہتے ہیں کہ ہو جاتی ہے دنیا رنگیں اک نظر میری قسم میری طرف میرے لیے پائلیں کوئے نگاراں میں کھنک اٹھتی ہیں جب وہ رکھتے ہیں قدم میری طرف میرے ...

مزید پڑھیے

سمجھے ہے مفہوم نظر کا دل کا اشارہ جانے ہے

سمجھے ہے مفہوم نظر کا دل کا اشارہ جانے ہے ہم تم چپ ہیں لیکن دنیا حال ہمارا جانے ہے ہلکی ہوا کے اک جھونکے میں کیسے کیسے پھول گرے گلشن کے گل پوش نہ جانیں گلشن سارا جانے ہے شمع تمنا پچھلے پہر تک درد کا آنسو بن ہی گئی شام کا تارا کیسے ڈوبا صبح کا تارا جانے ہے کیا کیا ہیں آئین تماشا ...

مزید پڑھیے

وہاں کھلے بھی تو کیونکر بساط حکمت و فن

وہاں کھلے بھی تو کیونکر بساط حکمت و فن ملے ہر ایک جبیں پر جہاں شکن ہی شکن ہماری خاک کبھی رائیگاں نہ جائے گی ہماری خاک کو پہچانتی ہے خاک وطن خزاں کی رات میں کمھلا کے پھول گرتے ہیں تو جاگ جاتی ہے سوئی ہوئی زمین چمن بہت ہے رات اندھیری مگر چلے ہی چلو کہ آپ اپنے مسافر کو ڈھونڈ لے گی ...

مزید پڑھیے

زباں کو حکم ہی کہاں کہ داستان غم کہیں

زباں کو حکم ہی کہاں کہ داستان غم کہیں ادا ادا سے تم کہو نظر نظر سے ہم کہیں جو تم خدا خدا کہو تو ہم صنم صنم کہیں کہ ایک ہی سی بات ہے وہ تم کہو کہ ہم کہیں ملے ہیں تشنہ میکشوں کو چند جام اس لیے کہیں نہ حال تشنگی کہیں تو کم سے کم کہیں ستم گران سادہ دل یہ بات جانتے نہیں کہ وہ ستم ظریف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 671 سے 4657