جو دیکھتے ہوئے نقش قدم گئے ہوں گے
جو دیکھتے ہوئے نقش قدم گئے ہوں گے پہنچ کے وہ کسی منزل پہ تھم گئے ہوں گے پلٹ کے دشت سے آئیں گے پھر نہ دیوانے پکار لو کہ ابھی کچھ قدم گئے ہوں گے جو ماورائے تصور نہیں کوئی صورت تو بتکدے ہی تک اہل حرم گئے ہوں گے ترے جنوں نے پکارا تھا ہوش والوں کو نہ جانے کون سے عالم میں ہم گئے ہوں ...