شاعری

دن بھر کی دوڑ رات کے اوہام وسوسے

دن بھر کی دوڑ رات کے اوہام وسوسے ٹھنڈی سلونی شام کی خوش بو میں ڈھل گئے کردار قتل کرنے لگے لوگ یوں کہ ہم اپنے ہی گھر میں بیٹھ کے آوارہ بن گئے رقص نسیم موت تھا ہر چند مختصر دریا کے منہ پہ پھر بھی اچھل آئے آبلے نازک ہے مثل ماہ مگر سرمئی بدن اے جاں تجھے یہ کس نے دیئے غسل آگ کے

مزید پڑھیے

شور طوفان ہوا ہے بے اماں سنتے رہو

شور طوفان ہوا ہے بے اماں سنتے رہو بند کوچوں میں رواں ہے خون جاں سنتے رہو کان سن ہونے لگے ہیں اپنے گوش ہوش سے سرخ پریوں کی صدا دامن کشاں سنتے رہو گرمی آواز کو شعلہ بنا کر پھول سا دور تک حد نظر تک رائگاں سنتے رہو شورش بحر کرم میں ماہی مشعل کہاں جسم شب میں دن کی دھڑکن بے گماں سنتے ...

مزید پڑھیے

ہمارے دل میں تمہاری چاہت کبھی تھی جاناں پر اب نہیں ہے

ہمارے دل میں تمہاری چاہت کبھی تھی جاناں پر اب نہیں ہے ہمیں بھی تم سے بہت محبت کبھی تھی جاناں پر اب نہیں ہے ہم اپنے اشکوں کو روک لیں گے مگر نہ شکوہ کوئی کریں گے تمہارے شانے کی وہ ضرورت کبھی تھی جاناں پر اب نہیں ہے وہ روئے روشن وہ مست آنکھیں تھی جن پہ قرباں سبھی بہاریں تمہارے چہرے ...

مزید پڑھیے

ہمیں پاگل بنا دینے سے پہلے

ہمیں پاگل بنا دینے سے پہلے بتا دیتے سزا دینے سے پہلے ذرا تحریر کو تو چوم لیتے ہمارا خط جلا دینے سے پہلے مصور آنکھ میں دریا اتارے ہنسی لب پر سجا دینے سے پہلے مکر جانے کی عادت ہے اسے بھی کوئی وعدہ نبھا دینے سے پہلے ذرا سوچو یہ چھپر جل گیا تو شراروں کو ہوا دینے سے پہلے گلے مل کے ...

مزید پڑھیے

دل فسردہ یہ کسی کا نہیں دیکھا جاتا

دل فسردہ یہ کسی کا نہیں دیکھا جاتا آنکھ میں اشک کا دریا نہیں دیکھا جاتا زندگی تیرا یقیں کیسے کروں میں آخر تجھ سے اک شخص بھی ہنستا نہیں دیکھا جاتا بے وفائی تو چلو ٹھیک ہے لیکن تیرے سر تلے غیر کا شانا نہیں دیکھا جاتا تجھ پہ الزام لگا سکتے ہیں لیکن ہم سے تیرا دامن کبھی میلا نہیں ...

مزید پڑھیے

ادھر سے دیکھیں تو اپنا مکان لگتا ہے

ادھر سے دیکھیں تو اپنا مکان لگتا ہے اک اور زاویے سے آسمان لگتا ہے جو تم ہو پاس تو کہتا ہے مجھ کو چیر کے پھینک وہ دل جو وقت دعا بے زبان لگتا ہے شروع عشق میں سب زلف و خط سے ڈرتے ہیں اخیر عمر میں ان ہی میں دھیان لگتا ہے سرکنے لگتی ہے تب ہی قدم تلے سے زمین جب اپنے ہاتھ میں سارا جہان ...

مزید پڑھیے

سرخ سیدھا سخت نیلا دور اونچا آسماں

سرخ سیدھا سخت نیلا دور اونچا آسماں زرد سورج کا وطن تاریک بہتا آسماں سرد چپ کالی سڑک کو روندتے پھرتے چراغ داغ داغ اپنی ردا میں سر کو دھنتا آسماں دور دور اڑتا گیا میں نور کے رہوار پر پھر بھی جب بھی سر اٹھایا منہ پہ دیکھا آسماں جانے کب سے بے نشاں وہ چاہ شب میں غرق تھا میں جو اٹھا ...

مزید پڑھیے

وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے

وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے خواب تعبیر میں ڈھلتا ہوا رہ جاتا ہے تجھ سے ملنے بھی چلا آتا ہوں ملتا بھی نہیں دل تو سینے میں مچلتا ہوا رہ جاتا ہے ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے کماں اپنی طرف اور پھر تیر نکلتا ہوا رہ جاتا ہے

مزید پڑھیے

جنوب و مشرق و مغرب ترے شمال ترا

جنوب و مشرق و مغرب ترے شمال ترا میں کیا کروں مرے چاروں طرف ہے جال ترا جہان سنگ صفت سے یہ کیسی امیدیں کرے گا کون یہاں آئنے ملال ترا یہ لوگ جانے کدھر سے جواب لے آئے چھپایا خود سے بھی میں نے ہر اک سوال ترا

مزید پڑھیے

دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے

دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے یہ ہم بدلتے ہیں یا بدلتے ہیں دن ہمارے جو کٹ گیا ہے سفر ابھی تک نہیں ہمارا خبر نہیں اور کتنا چلتے ہیں دن ہمارے یہ کس کے جانے پہ بین کرتی ہیں چاند راتیں یہ کس کے جانے پہ ہاتھ ملتے ہیں دن ہمارے

مزید پڑھیے
صفحہ 630 سے 4657