شاعری

وہ عکس مجھ میں جنوں ساز رقص کرنے لگا

وہ عکس مجھ میں جنوں ساز رقص کرنے لگا میں آئنے کی طرح ٹوٹنے بکھرنے لگا شب الم ہے ستاروں سے ہم کلامی ہے اسی بہانے سفر خیر سے گزرنے لگا میں تم سے دور ہوا ہوں تو مصلحت ہے کوئی یہ مت سمجھنا کہ مل کے نشہ اترنے لگا نہیں رہی ترے نقش قدم کی باس یہاں یہ راستہ تری یادوں سے اب سنورنے لگا

مزید پڑھیے

صدیوں کے تعاقب میں لمحے نہیں جائیں گے

صدیوں کے تعاقب میں لمحے نہیں جائیں گے جائیں گے جہاں تک ہم رستے نہیں جائیں گے گو دشت نوردی کو ہم سیر سمجھتے ہیں لوٹیں گے تو چہرے بھی دیکھے نہیں جائیں گے سب ریت کی دیواریں گر جائیں گی لمحوں میں لیکن مرے دریا تو روکے نہیں جائیں گے

مزید پڑھیے

ہو کے مسمار گرنے والی ہے

ہو کے مسمار گرنے والی ہے دل کی دیوار گرنے والی ہے جھریاں پڑ رہی ہیں چہرے پر دل کی سرکار گرنے والی ہے اب تو آ جاؤ کے مری یہ آنکھ ہو کے بیمار گرنے والی ہے ہم محبت میں جھک گئے یعنی سر سے دستار گرنے والی ہے دل کے زینے سے یاد جاناں پھر بن کے لاچار گرنے والی ہے اک پری رو ہماری بانہوں ...

مزید پڑھیے

پہنچ گیا تھا وہ کچھ اتنا روشنی کے قریب

پہنچ گیا تھا وہ کچھ اتنا روشنی کے قریب بجھا چراغ تو پلٹا نہ تیرگی کے قریب سلگتی ریت پہ بھی اس کا حوصلہ دیکھو ہوئی نہ پیاس کبھی خیمہ زن نمی کے قریب بدن کے دشت میں جب دفن ہو گیا احساس وفا پھٹکتی بھلا کیسے آدمی کے قریب ہماری پیاس کے سورج نے ڈال کر کرنیں کیا ہے گہرے سمندر کو تشنگی ...

مزید پڑھیے

سجے ہوئے بام و در سے آگے کی سوچتا ہوں

سجے ہوئے بام و در سے آگے کی سوچتا ہوں میں گھر بنا کر بھی گھر سے آگے کی سوچتا ہوں کہیں اندھیرے میں جا بسوں گا چراغ بن کر میں تیرے شمس و قمر سے آگے کی سوچتا ہوں تجھے سمندر سے کچھ نہیں اور لینا دینا مگر میں لعل و گہر سے آگے کی سوچتا ہوں

مزید پڑھیے

جہان خواب مہرباں کی خیر ہو

جہان خواب مہرباں کی خیر ہو مرے زمین و آسماں کی خیر ہو ہوا کا رنگ ڈھنگ ہی کچھ اور ہے دعا کرو کہ آشیاں کی خیر ہو وہ چاہتا ہے اپنی اک سلامتی میں چاہتا ہوں کارواں کی خیر ہو جہاں ہے تیرگی وہاں ہو روشنی جہاں ہے روشنی وہاں کی خیر ہو یہ جذب و کیف یوں ہی مستقل رہیں دعا ہے دل کے آستاں کی ...

مزید پڑھیے

خوش کن خبر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے

خوش کن خبر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے شب بھر سحر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے اڑنے کا اختیار کہاں میرے پاس تھا بس بال و پر کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے گھر اور گھر کے خواب سے ہجرت کے بعد بھی کیوں بام و در کے دھوکے میں رکھا گیا مجھے

مزید پڑھیے

اک نیند کی وادی سے گزارا گیا مجھ کو

اک نیند کی وادی سے گزارا گیا مجھ کو پھر خواب کی دہلیز پہ مارا گیا مجھ کو دل ہوں سو کسی چشم کے احسان ہیں سارے ہاتھوں سے بنایا نہ سنوارا گیا مجھ کو رکھ دی گئی پہلے مرے سینے میں وہ خوشبو پھر عشق کے رنگوں سے نکھارا گیا مجھ کو

مزید پڑھیے

کوئی وجد ہے نہ دھمال ہے ترے عشق میں

کوئی وجد ہے نہ دھمال ہے ترے عشق میں مرا دل کہ وقف ملال ہے ترے عشق میں یہ جو خواب میں بھی ہے خواب کیف و سرور کا ترے عشق کا ہی کمال ہے ترے عشق میں میں نکل ہی جاؤں گا وحشتوں کے حصار سے یہ تو سوچنا بھی محال ہے ترے عشق میں

مزید پڑھیے

وہ ڈر کے آگے نکل جائے گا اگر یوں ہی

وہ ڈر کے آگے نکل جائے گا اگر یوں ہی تو جیت پاؤں کو چومے گی عمر بھر یوں ہی برہنہ پا مری سانسیں رگوں کے نیزوں پر کریں گی کیسے بھلا رقص عمر بھر یوں ہی سروں پہ اپنے تمازت کا بوجھ اٹھائے ہوئے یہ کون محو سفر ہے ڈگر ڈگر یوں ہی کہ جیسے پیاس سے لب جل رہے ہوں پانی کے شکم کی آگ سے جلتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 631 سے 4657