شاعری

پتھر کی بھوری اوٹ میں لالہ کھلا تھا کل (ردیف .. ب)

پتھر کی بھوری اوٹ میں لالہ کھلا تھا کل آج اس کو نوچ لے گئیں وہ بچیاں جناب آنکھوں میں روشنی کی جگہ تھا خدا کا نام پاؤں تڑا کے مر رہے جاتے کہاں جناب ہم برگ زرد سبز خلاؤں میں چھپ گئے ہم کو ہوائے سرد تھی سنگ گراں جناب بوسے کے داغ سے ہے منور جبیں مگر جلتی پڑی ہے شمع سی پیاسی زباں ...

مزید پڑھیے

موسم سنگ و رنگ سے ربط شرار کس کو تھا

موسم سنگ و رنگ سے ربط شرار کس کو تھا لحظہ بہ لحظہ جل گئی درد بہار کس کو تھا سرحد آسماں کے پاس جال بچھے تھے ہر طرف کس نے کیا ہمیں اسیر شوق شکار کس کو تھا شمس و نجوم بے کراں ہفت فلک نبرد گاہ روشنیوں کی دوڑ میں پائے فرار کس کو تھا چشم شفق تھی خوں نشیں چہرۂ شب تھا تیغ تیز خواب پڑے تھے ...

مزید پڑھیے

کنار بحر ہے دیکھوں گا موج آب میں سانپ

کنار بحر ہے دیکھوں گا موج آب میں سانپ یہ وقت وہ ہے دکھائی دے ہر حباب میں سانپ وہ کون تھا مرا ہم زاد تو نہ تھا کل رات جب اس کے نام کو پوچھا کہا جواب میں سانپ اسے مظاہر ہستی سے سخت الفت تھی ملا وہ شخص چھپائے ہوئے نقاب میں سانپ گزشتہ رات مجھے پڑھتے وقت وہم ہوا ورق پہ حرف نہیں ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

اب مجھ سے یہ رات طے نہ ہوگی

اب مجھ سے یہ رات طے نہ ہوگی پتھر یہ جبیں نہ ہے نہ ہوگی خورشید نہ ہو تو شہر دل میں پرچھائیں سی کوئی شے نہ ہوگی دروازہ کھٹک اٹھے گا اک بار دستک کبھی پے بہ پے نہ ہوگی آنکھوں میں لہو سنبھال رکھنا اب کے مینا میں مے نہ ہوگی

مزید پڑھیے

رندوں کو ترے آرزوئے خشک لبی ہے

رندوں کو ترے آرزوئے خشک لبی ہے اب اے نگہ مست تو کیا ڈھونڈ رہی ہے منسوخ ہے اس دور میں ہر رسم گریباں اب مشغلۂ اہل جنوں سینہ زنی ہے شہزادۂ معنی کوئی آئے تو جگائے شاعر کا تخیل بھی تو خوابیدہ پری ہے مدت سے تھی آوارہ وہ پہنائے فضا میں خاک رہ انجم جو مرے سر پہ پڑی ہے ہر خار ہے غلطیدہ ...

مزید پڑھیے

موج دریا کو پئیں کیا غم خمیازہ کریں

موج دریا کو پئیں کیا غم خمیازہ کریں رگ افشردۂ صحرا میں لہو تازہ کریں دل کے محبس میں کریں ذات کا ماتم کب تک آؤ باہر تو چلیں وقت کا اندازہ کریں خوں ہے اک دولت دل لوٹ ہی لیں اہل فلک چہرۂ‌ داغ قمر پر تو نیا غازہ کریں انگلیاں سرد ہیں پھونکیں تو انہیں ہوش میں لائیں اپنے سینوں پہ ...

مزید پڑھیے

ان کا خیال ہر طرف ان کا جمال ہر طرف

ان کا خیال ہر طرف ان کا جمال ہر طرف حیرت جلوہ رو بہ رو دست سوال ہر طرف مجھ سے شکستہ پا سے ہے شہر کی تیرے آبرو چھوڑ گئے مرے قدم نقش کمال ہر طرف ہم ہیں جواں بھی پیر بھی ہم ہیں عدم بھی زیست بھی ہم ہیں اسیر حلقۂ قول محال ہر طرف نغمہ گرا ہے بوند بوند پھر بھی اٹھی ہے کتنی گونج اڑتی پھرے ...

مزید پڑھیے

لغزش پائے ہوش کا حرف جواز لے کے ہم

لغزش پائے ہوش کا حرف جواز لے کے ہم خود کو سمجھنے آئے ہیں روح مجاز لے کے ہم کرب کے ایک لمحے میں لاکھ برس گزر گئے مالک حشر کیا کریں عمر دراز لے کے ہم شام کی دھندلی چھاؤں میں پھیلے ہیں سائے دار کے سجدہ کریں کہ آئے ہیں ذوق نماز لے کے ہم دور افق پہ جا کہیں دونوں لکیریں مل گئیں آئے تو ...

مزید پڑھیے

مسل کر پھینک دوں آنکھیں تو کچھ تنویر ہو پیدا

مسل کر پھینک دوں آنکھیں تو کچھ تنویر ہو پیدا جو دل کا خون کر ڈالوں تو پھر تاثیر ہو پیدا اگر دریا کا منہ دیکھوں تو قید نقش حیرت ہوں جو صحرا گھیر لے تو حلقۂ زنجیر ہو پیدا سراسر سلسلہ پتھر کا چشم نم کے گھر میں ہے کوئی اب خواب دیکھے بھی تو کیوں تعبیر ہو پیدا میں ان خالی مناظر کی ...

مزید پڑھیے

چہرے کا آفتاب دکھائی نہ دے تو پھر (ردیف .. م)

چہرے کا آفتاب دکھائی نہ دے تو پھر نیلی چھلکتی دھوپ سے آنکھوں کو بھر لیں ہم آؤ مزاج پرسیٔ دیوار و در کریں مدت سے ہم تھے قید اب ان کی خبر لیں ہم چبھتی نہیں ہیں درد کی بے خواب سوئیاں انگارے اب جگاؤ تو شاید اثر لیں ہم سارے علوم ہم کریں فی النار و السقر معصومیت کی راہ میں تیر و تبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 629 سے 4657