شاعری

وہ جس طرف بھی مخاطب دکھائی دیتا ہے

وہ جس طرف بھی مخاطب دکھائی دیتا ہے تمام شہر اسی جانب دکھائی دیتا ہے نہ جانے کرب ہے کیسا میرے تکلم میں اداس میرا مخاطب دکھائی دیتا ہے تعلقات کی دیوار کیسے پختہ ہو خلوص ایک ہی جانب دکھائی دیتا ہے ملا ہے جس کی جبیں پر نشان خاک وہ شخص عروج ذات کا طالب دکھائی دیتا ہے

مزید پڑھیے

اس کو جس سے خون کا رشتہ نہ تھا

اس کو جس سے خون کا رشتہ نہ تھا کیسے ہم کہتے کہ وہ اپنا نہ تھا تشنہ لب تھے لوگ دریا کے قریب دشت میں لیکن کوئی پیاسا نہ تھا ہر نفس اک کرب ہے دل میں لیے آدمی اتنا کبھی ٹوٹا نہ تھا درد کی اک بھیڑ تھی میرے قریب زندگی میں میں کبھی تنہا نہ تھا ریت کی تحریر تھی میرا وجود یاد رکھنا میں ...

مزید پڑھیے

خواب ایسا بھی نظر آیا ہے اکثر مجھ کو

خواب ایسا بھی نظر آیا ہے اکثر مجھ کو لگا جبریل کا شہ پر مرا بستر مجھ کو اپنے مقصد کے لیے لفظ بنا کر مجھ کو کوئی دوڑاتا ہے کاغذ کی سڑک پر مجھ کو ڈس نہ لے دیکھو کہیں دھوپ کا منظر مجھ کو تم نے بھیجا تو ہے بل کھاتی سڑک پر مجھ کو سب کو میں ان کی کتابوں میں نظر آتا ہوں لوگ پڑھتے ہیں ترے ...

مزید پڑھیے

آپ کی تنقیص پر تیکھے ہوئے

آپ کی تنقیص پر تیکھے ہوئے ورنہ ہم بھی تھے کبھی سلجھے ہوئے تم بھی ہو میری طرح بکھرے ہوئے کہہ رہے ہیں آئنے ٹوٹے ہوئے جن کے سایہ میں ہو تم بیٹھے ہوئے وہ شجر وہ پیڑ ہیں سوکھے ہوئے رک چکی ہے سانس اب کاہے کی آس زندگی کے ختم سب قصے ہوئے ہو گیا سورج غروب اور آئی رات راستے سب گاؤں کے ...

مزید پڑھیے

دیکھ نہ پایا جس پیکر کو وعدوں کی انگنائی میں

دیکھ نہ پایا جس پیکر کو وعدوں کی انگنائی میں ڈھونڈ رہا ہوں اس کا چہرہ خوابوں میں تنہائی میں کیسے ہو معلوم یہ آخر پروائی کے جھونکوں کو پھولوں پر کیا بیت چکی ہے شاخوں کی انگڑائی میں ڈھلتے سورج کی آنکھوں نے آخر مجھ کو ڈھونڈ لیا چھپ نہ سکا میں بھی پیپل کے سائے کی لمبائی میں پا کر ...

مزید پڑھیے

دکھائی دیں گے جو گل میز پر قرینے سے

دکھائی دیں گے جو گل میز پر قرینے سے ہوائیں چھیڑیں گی آ کر کھلے دریچے سے خلا میں آج سکوں اپنا ڈھونڈھتا ہے وہی بہل گیا تھا جو بچہ کبھی کھلونے سے تمہارے دل میں ہے اک کرب سا کسی کے لیے یہ بات ہم نے پڑھی ہے تمہارے چہرے سے جلے دل تو یقیناً لبوں پہ ہوگی کراہ دھواں تو پھیلے گا جنگل میں ...

مزید پڑھیے

جب آفتاب کی آگ اس زمیں کو چاٹے گی

جب آفتاب کی آگ اس زمیں کو چاٹے گی مکاں کی کھوج میں سڑکوں پہ بھیڑ بھاگے گی میں دیکھتا ہی رہوں گا ترے سراپا کو جب آنکھ سوئے گی میری نگاہ جاگے گی جو ڈس رہی ہے ابھی جاگتی نگاہوں کی سویرا ہوتے ہی وہ رات زہر کھائے گی جو سونا چاہو تو دروازے بند کر لینا کھلا رہے گا یہ کمرہ تو دھوپ ...

مزید پڑھیے

جلتی رت میں وہ پھیلتا سایہ رکھ دے گا

جلتی رت میں وہ پھیلتا سایہ رکھ دے گا میری آنکھ پہ دھوپ کا چشمہ رکھ دے گا پیاس کو میرے لب سے چمٹتے دیکھ کے وہ پاؤں میں میرے جھیل کا رستہ رکھ دے گا جانے نہ دو گل دانوں تک اس بچے کو توڑ کے ہر گملے کا غنچہ رکھ دے گا جس سے مجھے ہے انس پرانی قدروں سا میرے نصیب میں اس کا صدمہ رکھ دے ...

مزید پڑھیے

تو سمجھتا ہے تو خود تیری نظر گہری نہیں

تو سمجھتا ہے تو خود تیری نظر گہری نہیں ورنہ بنیاد خزاں اے بے خبر گہری نہیں وصل شیریں ہے نہ جوئے شیر ہے تیرے نصیب ضرب اے فرہاد تیشے کی اگر گہری نہیں یہ بھی ممکن ہے کہ خود تیری نوا ہو نرم خیز نیند لوگوں کی تو اے مرغ سحر گہری نہیں زندگی کی آج قدریں ہیں فقط گملوں کے پھول ان میں ...

مزید پڑھیے

کتنے نازک کتنے خوش گل پھولوں سے خوش رنگ پیالے

کتنے نازک کتنے خوش گل پھولوں سے خوش رنگ پیالے اک بدمست شرابی نے میخانے میں ٹکڑے کر ڈالے موسمیات کے ماہر ہونے کے تو دعویدار سبھی ہیں ہم سمجھیں جو حبس گھٹائے ہم مانیں جو جھکڑ ٹالے مصنوعی نیلونی پھولوں سے گلدان سجائے جائیں اور قربنیقوں کا لقمہ بن جائیں خوشبوؤں والے فرعونوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 625 سے 4657