شاعری

جو اپنے سر پہ سر شاخ آشیاں گزری

جو اپنے سر پہ سر شاخ آشیاں گزری کسی کے سر پہ قفس میں بھی وہ کہاں گزری اسی کی یاد ہے مہتاب شام ہائے فراق وہ ایک شب کہ سر کوئے مہ وشاں گزری جہاں میں شوق کبھی رائیگاں نہیں جاتا میں کیوں کہوں کہ مری عمر رائیگاں گزری جبین شوق ہماری گلی گلی میں جھکی کہ ہر گلی سے تری خاک آستاں گزری

مزید پڑھیے

تری سازشوں سے ہی جگنو مرے

تری سازشوں سے ہی جگنو مرے مری بد دعا ہے کہ اب تو مرے کرے کون پھولوں کے موسم کا ذکر اگر شہر میں عکس خوشبو مرے جیوں جس طرح کوئی درویش ہو مروں جس طرح کوئی سادھو مرے مجھے تو نے مارا ہے جس حال میں اسی حال میں زندگی تو مرے افق پر لہو لہر چھانے کے بعد کسی روز ظلمت کا جادو مرے

مزید پڑھیے

دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا

دست ضروریات میں بٹتا چلا گیا میں بے پناہ شخص تھا گھٹتا چلا گیا پیچھے ہٹا میں راستہ دینے کے واسطے پھر یوں ہوا کہ راہ سے ہٹتا چلا گیا عجلت تھی اس قدر کہ میں کچھ بھی پڑھے بغیر اوراق زندگی کے پلٹتا چلا گیا جتنی زیادہ آگہی بڑھتی گئی مری اتنا درون ذات سمٹتا چلا گیا کچھ دھوپ زندگی ...

مزید پڑھیے

گل زار میں وہ رت بھی کبھی آ کے رہے گی

گل زار میں وہ رت بھی کبھی آ کے رہے گی جب کوئی کلی جور خزاں کے نہ سہے گی انسان سے نفرت کے شرر بجھ کے رہیں گے صدیوں کی یہ دیوار کسی دن تو ڈھے گی جس باپ نے اولاد کی بہبود نہ سوچی اس باپ کو اولاد عیاں ہے جو کہے گی تو جون کی گرمی سے نہ گھبرا کہ جہاں میں یہ لو تو ہمیشہ نہ رہی ہے نہ رہے ...

مزید پڑھیے

فضائے صحن گلستاں ہے سوگوار ابھی

فضائے صحن گلستاں ہے سوگوار ابھی خزاں کی قید میں ہے یوسف بہار ابھی ابھی چمن پہ چمن کا گماں نہیں ہوتا قبائے غنچہ کو ہونا ہے تار تار ابھی ابھی ہے خندۂ گل بھی اگر تو زیر لبی رکا رکا سا ہے کچھ نغمۂ ہزار ابھی چمن تو خیر چمن ہے نوا گروں کو نہیں خود اپنی شاخ نشیمن پہ اختیار ابھی ابھی ...

مزید پڑھیے

دھڑکنیں بند تکلف سے ذرا آزاد کر

دھڑکنیں بند تکلف سے ذرا آزاد کر برملا ممکن نہیں دل میں کسی کو یاد کر زندگی اک دوڑ ہے تو سانس پھولے گی ضرور یا بدل مفہوم اس کا یا نہ پھر فریاد کر ہر خزاں کی کوکھ سے ہوتی ہے پیدا نو بہار دامن امید میلا اور نہ دل ناشاد کر بستیاں تو نے خلاؤں میں بسائیں بھی تو کیا دل کے ویرانوں کو ...

مزید پڑھیے

اب کسی شاخ پہ ہلتا نہیں پتہ کوئی

اب کسی شاخ پہ ہلتا نہیں پتہ کوئی دشت سے عمر ہوئی گزرا نہ جھونکا کوئی لب پہ فریاد نہ ہے آنکھ میں قطرہ کوئی وادئ شب میں نہیں ہم سفر اپنا کوئی خندۂ موج مری تشنہ لبی نے جانا ریت کا تپتا ہوا دیکھ کے ذرہ کوئی جادۂ شوق پہ کل لوگ تھے آتے جاتے اب شریفؔ اس پہ مسافر نہیں ملتا کوئی

مزید پڑھیے

تلاش جن کی ہے وہ دن ضرور آئیں گے

تلاش جن کی ہے وہ دن ضرور آئیں گے یہ اور بات سہی ہم نہ دیکھ پائیں گے یقیں تو ہے کہ کھلے گا نہ کھل سکا بھی اگر در بہار پہ دستک دیئے ہی جائیں گے غنودہ راہوں کو تک تک کے سوگوار نہ ہو ترے قدم ہی مسافر انہیں جگائیں گے لبوں کی موت سے بد تر ہے فکر و جذب کی موت کدھر ہیں وہ جو انہیں موت سے ...

مزید پڑھیے

قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے

قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے دید کا تری اب تک انتظار باقی ہے دل کو ٹوٹنا ہی تھا ٹوٹ کے وہ بکھرا بھی ہاں مگر ابھی تک کچھ یادگار باقی ہے ڈوبتی رہی کشتی ساگروں کی لہروں میں ساحلوں پہ تم ہوں گے اعتبار باقی ہے چاند خود مسافر ہے ساتھ کب تلک دے گا رہبروں کا اب بھی کیوں انتظار ...

مزید پڑھیے

خوشی کے یاس کے لمحے ہمیں رلاتے ہیں

خوشی کے یاس کے لمحے ہمیں رلاتے ہیں کہ زندگی میں نشیب و فراز آتے ہیں جلاؤ اپنے لبوں پر تبسموں کے دیے اندھیرے غم کے تو آتے ہیں اور جاتے ہیں کبھی جو دل میں وفا کے چراغ جلتے تھے مگر وہ آج کہاں روشنی لٹاتے ہیں جہاں بھی جاؤں وہاں پر سکوں نہیں ملتا ہر اک جگہ پہ نئے حادثے ستاتے ہیں جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 626 سے 4657