شاعری

شہر میں اک قتل کی افواہ روشن کیا ہوئی (ردیف .. ر)

شہر میں اک قتل کی افواہ روشن کیا ہوئی اک طرف تکبیر تھی اور اک طرف جے کی پکار خوف و دہشت کے اثر سے چند بپھرے نوجواں زندگی کو کر رہے تھے ہر طرف کھل کر شکار خون سے لتھڑی ہوئی لاشیں اٹھائے گود میں آسماں کی سمت مائیں دیکھتی تھیں بار بار جبر و استحصال کے اس آتشیں سیلاب میں بہہ گئے ...

مزید پڑھیے

ہوا کی راہ نمائی پہ شک نہیں رکھتے

ہوا کی راہ نمائی پہ شک نہیں رکھتے ہم اپنے پاؤں کے نیچے سڑک نہیں رکھتے ہماری آنکھوں میں اک ایسا خواب سمٹا ہے پئے سرور پلک پر پلک نہیں رکھتے ہوا دہاڑ کے ٹکرائے بھی تو کیا حاصل پہاڑ اپنے بدن میں لچک نہیں رکھتے تم اس کو کند سمجھ کر نہ دھوکا کھا جانا ہم اپنی تیغ انا پر چمک نہیں ...

مزید پڑھیے

اتر رہا تھا سمندر سراب کے اندر

اتر رہا تھا سمندر سراب کے اندر بچھڑ کے خود سے ملا جب میں خواب کے اندر رگیں کھنچیں تو بدن خواب کی طرح ٹوٹا خلا کا زعم بھرا تھا حباب کے اندر میں ماہ و سال کا کب تک حساب لکھتا رہوں اسیر پوری صدی ہے عذاب کے اندر نظر کو فیض ملا تو لبوں پہ مہر لگی فرات یوں بھی ملی ہے سراب کے اندر عجب ...

مزید پڑھیے

میزوں پہ سجا کے ایاغ دھرو

میزوں پہ سجا کے ایاغ دھرو اب دامن دامن داغ دھرو ہم سایوں کے گھر ہیں چھپر کے لا کر نہ ہوا میں چراغ دھرو آکاش کو اک دن چھو لے گا اس سر میں میرا دماغ دھرو بیگانوں کی ہے یہ بستی منزل کے یہاں نہ سراغ دھرو اچھا نہیں دل کا کورا پن اس بنجر میں ایک باغ دھرو

مزید پڑھیے

اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو وہی تنہائی کا عالم وہی صیاد کا خوف اپنا زنداں ہوں تو ...

مزید پڑھیے

شکستہ پا ہیں کوئی آسرا بناتے ہیں

شکستہ پا ہیں کوئی آسرا بناتے ہیں مٹا کے خود کو جو ہم اک خدا بناتے ہیں ہمیں شعور حقیقت نہیں سو ہم اکثر فریب جنبش بال ہما بناتے ہیں وہ اپنے حسن کا ہر راز کھولنے کے لیے قبا بناتے ہیں بند قبا بناتے ہیں ابد کے دوش پہ سوئے ازل چلے ہیں کہ ہم نیا ہی نقش کوئی دہر کا بناتے ہیں خدائے موسم ...

مزید پڑھیے

ہے مکیں کوئی دوسرا مجھ میں

ہے مکیں کوئی دوسرا مجھ میں مجھ سے بھی کچھ ہے ماورا مجھ میں شعلۂ طور جل بجھا مجھ میں کاش مل جائے اب خدا مجھ میں مجھ کو مجھ سے جدا کیا یعنی اس نے خود کو ملا دیا مجھ میں ذہن و دل کی حدوں سے دور کہیں باب امکاں کوئی کھلا مجھ میں شب کو وہ خود سپردگی اس کی جیسے اک راز کھل گیا مجھ ...

مزید پڑھیے

زمانے بھر کی کتابوں میں قید رہتا ہوں

زمانے بھر کی کتابوں میں قید رہتا ہوں خرد کے کہنہ نصابوں میں قید رہتا ہوں ترے جمال کے سب بھید جان کر بھی میں نہ جانے کیوں ترے خوابوں میں قید رہتا ہوں ترے بدن میں ہیں کتنی قیامتیں پنہاں بڑے شدید عذابوں میں قید رہتا ہوں کروں بھی کیسے بھلا دشت آگہی کا سفر کہ میں یقیں کے سرابوں میں ...

مزید پڑھیے

تیرے حسن و جمال تک پہنچا

تیرے حسن و جمال تک پہنچا میں بھی کتنے کمال تک پہنچا بعد مدت کے ذہن آشفتہ ایک نازک خیال تک پہنچا اے مرے شوق بے مثال مجھے آج اس بے مثال تک پہنچا اک زوال عروج سے ہو کر میں عروج زوال تک پہنچا ذہن آزاد ہو گیا میرا جب یقیں احتمال تک پہنچا تذکرہ حسن کے تناسب کا پھر ترے خد و خال تک ...

مزید پڑھیے

خود پہ الزام دھر گیا ہوں میں

خود پہ الزام دھر گیا ہوں میں کام مشکل تھا کر گیا ہوں میں کیسی دہشت سے بھر گیا ہوں میں خواب میں جیسے ڈر گیا ہوں میں جانے کس شے کی ہے تلاش مجھے کو بہ کو در بدر گیا ہوں میں مجھ کو اب کیسے پا سکے گا کوئی وقت تھا اور گزر گیا ہوں میں میرے چاروں طرف اندھیرا ہے کیا بتاؤں کدھر گیا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 613 سے 4657