وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی
وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی تمام بازی گروں کو مری ضرورت تھی وہ بات سوچ کے میں جس کو مدتوں جیتا بچھڑتے وقت بتانے کی کیا ضرورت تھی پتا نہیں یہ تمنائے قرب کب جاگی مجھے تو صرف اسے سوچنے کی عادت تھی خموشیوں نے پریشاں کیا تو ہوگا مگر پکارنے کی یہی صرف ایک صورت ...