رفیقوں کو مدد کرنے پکارا ہم نہیں کرتے
رفیقوں کو مدد کرنے پکارا ہم نہیں کرتے خدا کافی ہے بندوں کا سہارا ہم نہیں کرتے زباں یہ حق کی عادی ہے کسی سے ڈر نہیں سکتی سبھی کچھ کھل کے کہتے ہیں اشارہ ہم نہیں کرتے سمندر میں اتر کے رخ ہوا کا موڑ دیتے ہیں کبھی ساحل سے طوفاں کا نظارہ ہم نہیں کرتے یہ خودداری ہماری ہم کو اپنی جاں سے ...