شاعری

مجھ سے ایسا رابطہ رکھ دوستی قائم رہے

مجھ سے ایسا رابطہ رکھ دوستی قائم رہے پیاس یوں بجھتی رہے کہ تشنگی قائم رہے میری پلکوں کے تلے اب جو دیے جلنے لگے ان دیوں کی ہر طرح سے روشنی قائم رہے تجھ سے ملنے کی تڑپ بھی دل سے نہ ہو کم کبھی تو ہو میرے سامنے اور بے خودی قائم رہے میری آنکھوں میں رہے قائم ہجوم التفات تیری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

تیرا نقش کف پا تھا کیا تھا

تیرا نقش کف پا تھا کیا تھا راہ میں پھول کھلا تھا کیا تھا کچھ نہ ہونے کا گماں تھا پھر بھی کچھ تو ہونے کو ہوا تھا کیا تھا جھوٹ تھا جو بھی کیا تھا میں نے اور جو تم نے کہا تھا کیا تھا کیا تھا ہم راہ خیالوں کی طرح سایہ سا ساتھ چلا تھا کیا تھا حسن تعبیر کے آئینے میں خواب کیا دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

صدیوں صدیوں لمحہ بکھرا

صدیوں صدیوں لمحہ بکھرا کتنا پھیلا کتنا بکھرا راہوں راہوں راہی بکھرے منزل منزل رستہ بکھرا کوچہ کوچہ وحشت پھیلی بستی بستی صحرا بکھرا جسم و جان کے رشتے ٹوٹے درپن درپن چہرا بکھرا نغمہ نغمہ یادوں کی لے ٹوٹ کے ساز تمنا بکھرا محفل محفل توبہ ٹوٹی ریزہ ریزہ شیشہ بکھرا کس کو ...

مزید پڑھیے

تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا

تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا بستۂ وہم و گماں بھاگتا خوابوں میں رہا دل کی آوارہ مزاجی کا گلا کیا کیجے خانہ برباد رہا خانہ خرابوں میں رہا ایک وہ حرف جنوں نقش گر لوح و قلم ایک وہ باب خرد بند کتابوں میں رہا بے حسی وہ ہے کہ اس دور میں جینے کا مزا نہ گناہوں میں رہا اور نہ ...

مزید پڑھیے

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے بلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہے دل دھڑکتا ہے یہ کہتے ہوئے اس محفل میں یاں کسی کو خفقاں کی بھی دوا آتی ہے آج وہ شوخ ہے اور کثرت آرائش ہے دیکھ کس واسطے پسنے کو حنا آتی ہے کیا کھلے باغ میں وہ چشم حجاب آلودہ آنکھ اٹھاتے ہوئے نرگس کو حیا آتی ہے جاں ...

مزید پڑھیے

کیا کیا نہ تیرے صدمہ سے باد خزاں گرا

کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گرا گل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گرا لکھنے لگی قضا جو ہماری فتادگی سو بار ہاتھ سے قلم دو زباں گرا جب پہنچے ہم کنارۂ مقصود کے قریب تب ناخدا جہاں سے اٹھا بادباں گرا موباف سرخ چوٹی سے کیا ان کی کھل پڑا ایک صاعقہ سا دل پہ مرے ناگہاں گرا تا آسماں پہنچ ...

مزید پڑھیے

نہ کہو اعتبار ہے کس کا

نہ کہو اعتبار ہے کس کا بے وفائی شعار ہے کس کا اے اجل شام ہجر آ پہنچی اب تجھے انتظار ہے کس کا عشق سے میں خبر نہیں یا رب داغ دل یادگار ہے کس کا دل جو ظالم نہیں تری جاگیر تو یہ اجڑا دیار ہے کس کا محتسب پوچھ مے پرستوں سے نام آمرزگار ہے کس کا بزم میں وہ نہیں اٹھاتے آنکھ دیکھنا ...

مزید پڑھیے

دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر

دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر سخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کر شام سے تا صبح فرقت صبح سے تا شام ہجر ہم چلے کیا کیا نہ لطف زندگانی دیکھ کر یوں تو لاکھوں غمزدہ ہوں گے مگر اے آسماں جب تجھے جانوں کہ لا دے میرا ثانی دیکھ کر اب تپ فرقت سے یہ کچھ ضعف طاری ہے کہ آہ دنگ رہ ...

مزید پڑھیے

اپنی روداد کہوں یا غم دنیا لکھوں

اپنی روداد کہوں یا غم دنیا لکھوں کون سی بات کہوں کون سا قصہ لکھوں باب تحریر میں ہے لوح و قلم پر تعزیر برگ سادہ ہی پہ اب حرف تمنا لکھوں شام تو شام تھی اب صبح کا منظر دیکھو کس کی میں ہجو کہوں کس کا قصیدہ لکھوں اس ستم پیشہ کا اعجاز ستم ہی ہوگا دست قاتل کو اگر دست مسیحا لکھوں اتنی ...

مزید پڑھیے

صحرا صحرا گلشن گلشن

صحرا صحرا گلشن گلشن گرد تمنا دامن دامن نقش تحیر چہرہ چہرہ حسن کرامت جوبن جوبن ایک ہی صورت جلوہ جلوہ ایک ہی مورت درپن درپن شانہ شانہ گیسو گیسو خوشبو چندن بن چندن بن ابرو ابرو کڑی کمانیں خنجر خنجر چتون چتون کاجل کاجل جھلمل جھلمل افشاں افشاں روشن روشن روپ کی ٹھنڈک چاندی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 607 سے 4657