شاعری

اپنے پس منظر میں منظر بولتے

اپنے پس منظر میں منظر بولتے چیختے دیوار و در گھر بولتے کچھ تو کھلتا ماجرائے قتل و خوں چڑھ کے اوج دار پہ سر بولتے مصلحت تھی کوئی وہ چپ تھے اگر بولنے والے تو کھل کر بولتے جو طلسم آذری میں بند تھے وہ صنم پتھر کے کیوں کر بولتے بہہ گیا اشکوں کا سیل خوں کہاں خشک آنکھوں کے سمندر ...

مزید پڑھیے

اور کیا روز جزا دے گا مجھے

اور کیا روز جزا دے گا مجھے زندہ رہنے کی سزا دے گا مجھے زخم ہی زخم ہوں میں داغ ہی داغ کون پھولوں کی قبا دے گا مجھے میں سمجھتا ہوں زمانے کا مزاج وہ بنائے گا مٹا دے گا مجھے بے کراں صدیوں کا سناٹا ہوں میں کون سا لمحہ صدا دے گا مجھے ٹوٹ کر لوح و قلم کی جاگیر کوئی دے گا بھی تو کیا دے گا ...

مزید پڑھیے

الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے

الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے حرف نوا کو پیکر معنی میں ڈھال دے دشواریٔ حیات کو دشوار تر بنا جس کا جواب بن نہ پڑے وہ سوال دے سرمستیوں کی موج میں لہرا کے جھوم جا اٹھ اور ایک جام فضا میں اچھال دے اہل خرد کو سونپ نہ دنیا کی باگ ڈور کار زمانہ اہل جنوں کو سنبھال دے لذت شناس تلخیٔ ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو

ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو کتنے بکھراؤ ہیں اندر دیکھو آئنہ دیکھ کے جینے والو دور حاضر کے بھی تیور دیکھو بجھ گئی ماتھے کی ایک ایک شکن خالی ہاتھوں کا مقدر دیکھو سنگ اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں صنم دور رسوائیٔ آذر دیکھو اپنا ہی عکس دگر دیکھو گے اپنے اندر سے جو باہر دیکھو ہم جہاں آبلہ ...

مزید پڑھیے

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے ہمیں اک دوسرا اچھا لگا ہے سمجھنا ہے اسے نزدیک جا کر جسے مجھ سا برا اچھا لگا ہے یہ کیا ہر وقت جینے کی دعائیں یہاں ایسا بھی کیا اچھا لگا ہے سفر تو زندگی بھر کا ہے لیکن یہ وقفہ سا ذرا اچھا لگا ہے مری نظریں بھی ہیں اب آسماں پر کوئی محو دعا اچھا لگا ...

مزید پڑھیے

کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہے

کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہے اس نے بھی اب گہری گہری سانسیں لینا سیکھ لیا ہے پیچھے ہٹنا تو چاہا تھا پر ایسے بھی نہیں چاہا تھا اپنی طرف بڑھنے کے لیے بھی اس کی طرف چلنا پڑتا ہے جب تک ہو اور جیسے بھی ہو دور رہو اس کی نظروں سے اتنا پرانا ہے کہ یہ رشتہ پھر سے نیا بھی ہو ...

مزید پڑھیے

تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا

تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا میرے اشکوں میں ترا حصہ رہے گا دور تک کوئی شناسا ہو نہیں ہو بھیڑ میں اچھا مگر لگتا رہے گا ایسے چھٹکارا نہیں دینا ہے اس کو میں اگر مر جاؤں تو کیسا رہے گا طے تو ہے الگاؤ بس یہ سوچنا ہے کون سی رت میں یہ دکھ اچھا رہے گا خود سے میری صلح ممکن ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہے

طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہے مگر کہے سے کہیں مسکرایا جاتا ہے ابھی میں سوچ رہا تھا کہ کچھ کہوں تجھ سے کہ دیکھتا ہوں ترا گھر سجایا جاتا ہے گناہ گاروں میں بیٹھے تو انکشاف ہوا خدا سے اب بھی بہت خوف کھایا جاتا ہے نئے نئے وہ اداکار جانتے ہی نہ تھے کہ پردہ گرتے ہی سب بھول جایا جاتا ...

مزید پڑھیے

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا کھیل میں بھی تو آدھا آدھا آنگن تھا کانچ کی چوڑی لے کر میں جب تک لوٹا اس کے ہاتھوں میں سونے کا کنگن تھا جو بھی ملا سب بانٹ لیا تھا آپس میں ایک تھے ہم اور ایک ہی اپنا برتن تھا عکس نہیں تھا رنگوں کی بوچھاریں تھیں روپ سے اس کے سہما ہوا ہر درپن تھا رو دھو ...

مزید پڑھیے

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے جھوٹ کما کر لاتا ہے یاد بھی کوئی آتا ہے یاد تو رکھ جاتا ہے جیسے لفظ ہوں ویسا ہی منہ کا مزہ ہو جاتا ہے پھر دشمن بڑھ جائیں گے کس کو دوست بناتا ہے کیسی خشک ہوائیں ہیں صبح سے دن چڑھ جاتا ہے اسے گھٹا کر دنیا میں باقی کیا رہ جاتا ہے جانے وہ اس چہرہ پر کس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 608 سے 4657