اپنے پس منظر میں منظر بولتے
اپنے پس منظر میں منظر بولتے چیختے دیوار و در گھر بولتے کچھ تو کھلتا ماجرائے قتل و خوں چڑھ کے اوج دار پہ سر بولتے مصلحت تھی کوئی وہ چپ تھے اگر بولنے والے تو کھل کر بولتے جو طلسم آذری میں بند تھے وہ صنم پتھر کے کیوں کر بولتے بہہ گیا اشکوں کا سیل خوں کہاں خشک آنکھوں کے سمندر ...