وقت آخر لے گیا وہ شوخیاں وہ بانکپن
وقت آخر لے گیا وہ شوخیاں وہ بانکپن پھول سے چہرے تھے کتنے اور تھے نازک بدن لوگ رکھتے ہیں دلوں میں آتش بغض و حسد اور پھر کرتے ہیں شکوہ جل رہا ہے تن بدن چل پڑے جب جانب منزل تو پھر اے ہم سفر کیا سفر کی مشکلیں کیا دوریاں کیسی تھکن ہم نہیں توڑیں گے اپنا اتفاق و اتحاد کر چکے ہیں فیصلہ ...