شاعری

دوپٹے کی ہوا سے دور رہنا

دوپٹے کی ہوا سے دور رہنا خدارا واہمہ سے دور رہنا بھلے تعریف کر دینا غزل میں مگر تم شاعرہ سے دور رہنا یہ تیرے حوصلوں کو مار دے گی دلاسے کی دوا سے دور رہنا محبت یاد دلواتی ہے نانی کہا تھا نا بلا سے دور رہنا غنیمت ہی ہے ویسے ہجر میں بھی تمہارا اس ادا سے دور رہنا پہنچ کر شہر ہم ...

مزید پڑھیے

خواہشوں کی آڑ میں رتبہ جوانی لے گئی

خواہشوں کی آڑ میں رتبہ جوانی لے گئی پتھروں کے ڈھیر سے مزدور رانی لے گئی خواب قصہ چاہتیں دنیا سیانی لے گئی اور جو باقی تھا تیری لن ترانی لے گئی چاپلوسی سے مجھے بھی دشمنی مہنگی پڑی کامیابی کو اڑا کر حق بیانی لے گئی کون سے فرمان کا قصہ سناتے ہو حضور بادشہ سے آنکھ میری حکمرانی لے ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں کی حوالات میں ڈالا گیا ہے

خواب آنکھوں کی حوالات میں ڈالا گیا ہے نیند کو یوں ہی فسادات میں ڈالا گیا ہے مجھ کو ہلکی سی تجلی کی جھلک آتی ہے کہکشاؤں کو تری بات میں ڈالا گیا یہ کسی نیک صحافی کا ہنر ہے شاید طنز جی بھر کے سوالات میں ڈالا گیا ہے اک محبت ہے مری اپنی کمائی ہوئی شے اور جو کچھ ہے وہ خیرات میں ڈالا ...

مزید پڑھیے

شاعری یا لن ترانی ہے تو ہے

شاعری یا لن ترانی ہے تو ہے یہ روایت خاندانی ہے تو ہے لازمی تھا کچھ سوالوں کا جواب چلئے پھر یہ بد زبانی ہے تو ہے ہم تو اک تصویر ان کو دے چکے اب بھلے یہ مہربانی ہے تو ہے عشق کوئی بانٹنے کی شے نہیں سامنے پھر کوئی رانی ہے تو ہے کون سے نخرے اٹھاتی تھی مری منہ پھلائے زندگانی ہے تو ...

مزید پڑھیے

سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں

سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں میں آگ کو خرید کے چھالوں کو بیچ دوں ڈر ہے کہ اندھیروں کو بتا دیں گے میرا عیب چن چن کے گھر سے سارے اجالوں کو بیچ دوں ممکن ہے بیچ سکتی ہوں اپنے سخن کو میں ایسا بھی اب نہیں کہ خیالوں کو بیچ دوں سوچا کسی بہانے صفائی ہو ذہن کی ردی سے بے تکے سے سوالوں ...

مزید پڑھیے

ایک وحشت ہے رہ گزاروں میں

ایک وحشت ہے رہ گزاروں میں قافلے لٹ گئے بہاروں میں ساز خاموش آرزو بیمار کوئی نغمہ نہیں ہے تاروں میں اس طرف بھی نگاہ دزدیدہ ہم بھی ہیں زندگی کے ماروں میں یہ تو اک اتفاق ہے ورنہ آپ اور میرے غم گساروں میں آدمی آدمی نہ بن پایا بستیاں لٹ گئیں اشاروں میں دیکھ کر وقت کے تغیر کو چاند ...

مزید پڑھیے

غم کی اندھیری راہوں میں تو تم بھی نہیں کام آؤ ہو

غم کی اندھیری راہوں میں تو تم بھی نہیں کام آؤ ہو کیوں بے کار کرو ہو حجت آگے بات بڑھاؤ ہو کیوں تھم تھم کر قدم رکھو ہو کیوں اتنا گھبراؤ ہو رات کا سناٹا ہے میں ہوں تم کس سے شرماؤ ہو آؤ اپنے ہاتھ میں لے کر ہاتھ ہمارا دیکھو تو ہم نے سنا ہے تم سب کی قسمت کا حال بتاؤ ہو پہلے پہر جب آ نہ ...

مزید پڑھیے

ہر برے وقت میں کام آیا تھا

ہر برے وقت میں کام آیا تھا اگلے وقتوں کا وہ ہم سایہ تھا آئنے میں تھا وہ کس کا چہرہ میں جسے دیکھ کے شرمایا تھا گر گیا آج وہ بوڑھا برگد میرے آنگن کا جو سرمایہ تھا اہل زر سے بھی خریدا نہ گیا مایۂ ناز وہ بے مایہ تھا

مزید پڑھیے

رات تاروں سے جب سنورتی ہے

رات تاروں سے جب سنورتی ہے اک نئی زندگی ابھرتی ہے موج غم سے نہ ہو کوئی مایوس زندگی ڈوب کر ابھرتی ہے آج دل میں پھر آرزوئے دید وقت کا انتظار کرتی ہے دل جلے یا دیا جلے شوکتؔ رات افسانہ کہہ گزرتی ہے

مزید پڑھیے

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے میری ویران پلکوں پہ دن ڈھلتے ہی کچھ ستارے مگر جگمگاتے رہے لٹ گئی زندگی بجھ گئے دیپ بھی دور تک پھر نہ باقی رہی روشنی اس اندھیرے میں بھی ہم تری یاد سے اپنی ویران محفل سجاتے رہے تم سے بچھڑے ہوئے ایک مدت ہوئی دن گزرتا رہا وقت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 596 سے 4657