شاعری

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو ساز چھیڑا نہ کرو گیت سنایا نہ کرو جاؤ آباد کرو اپنی تمناؤں کو مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں میرے دامن کو الجھنے دو چھڑایا نہ کرو تم نے اچھا ہی کیا ساتھ ہمارا نہ دیا بجھ چکے ہیں جو دیے ان کو ...

مزید پڑھیے

مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا

مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا میں خود بھی اپنے غم کا شناسا نہیں ملا اپنی طلب کے اپنی غرض کے ملے ہیں لوگ میری طلب کو دیکھنے والا نہیں ملا پھرتا رہا ہوں کوئے وفا میں تمام عمر لیکن کہیں بھی کوئی شناسا نہیں ملا میرے عیوب پر رہی ہر شخص کی نگاہ کوئی ہنر کو دیکھنے والا نہیں ...

مزید پڑھیے

نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے

نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے شکستہ دل کے سہاروں کی یاد آتی ہے کبھی نگاہ محبت نے جس کو چھیڑا تھا اب ان رباب کے تاروں کی یاد آتی ہے نگاہ پڑتی ہے جب بھی کسی شگوفے پر تمہارے ساتھ بہاروں کی یاد آتی ہے جو مل کے چھوٹ گئے زندگی کی راہوں میں اب ان حسین سہاروں کی یاد آتی ہے مچلتی آرزؤں ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی جشن مناؤ کہ ہنسی آ جائے

پھر کوئی جشن مناؤ کہ ہنسی آ جائے گیت اک ایسا سناؤ کہ ہنسی آ جائے دم گھٹا جاتا ہے اس رات کی تاریکی میں کوئی بستی ہی جلاؤ کہ ہنسی آ جائے تم تو بے لوث ہو مخلص ہو کرم فرما ہو اتنے نزدیک نہ آؤ کہ ہنسی آ جائے کام کرنا ہے تو میدان میں آؤ شوکتؔ اس طرح بیٹھ نہ جاؤ کہ ہنسی آ جائے

مزید پڑھیے

حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم

حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم ایک دن آئے گا جب ان کو بھی یاد آئیں گے ہم چاندنی بن کر کبھی دامن پہ لہرائیں گے ہم بن کے آنسو گاہ پلکوں پر ٹھہر جائیں گے ہم شام کو جام مسرت بھر کے چھلکائیں گے ہم صبح کو دور چراغ بزم بن جائیں گے ہم پھر کہاں پائیں گے ہم کو نو عروسان چمن جب فضائے ...

مزید پڑھیے

کوئی ملنے کو نہ صورت جانی پہچانی بڑھی

کوئی ملنے کو نہ صورت جانی پہچانی بڑھی شہر میں رونق ہوئی تو اور ویرانی بڑھی عقل کی منطق سے بڑھ کر ہے جنوں نکتہ نواز ہیں عیاں اسرار ہستی اب کہ حیرانی بڑھی جس قدر بڑھتی گئی ہے عمر کم ہوتی گئی جس قدر گھٹتی گئی ہے اور نادانی بڑھی قابل ذکر اک یہی قصہ ہے آزادی کے بعد اور پابندی ہوئی ...

مزید پڑھیے

مجھ سے ہے تیری ذات کبھی ختم نہ ہوگی

مجھ سے ہے تیری ذات کبھی ختم نہ ہوگی میری جو ہے اوقات کبھی ختم نہ ہوگی مل جائیں کسی موڑ پہ اک روز جو ہم تم پھر پیار کی سوغات کبھی ختم نہ ہوگی آ جاؤ کے ہم راہ تری دیکھ رہے ہیں آؤ گے تو پھر رات کبھی ختم نہ ہوگی وعدہ یہ کرو مجھ سے ملاقات یہ تیری تا عمر ملاقات کبھی ختم نہ ہوگی کہتے ...

مزید پڑھیے

سامنے آپ میرے ٹھہر جائیں گے

سامنے آپ میرے ٹھہر جائیں گے دیکھتے دیکھتے ہم سنور جائیں گے زندگی یہ مری آپ کے نام ہے بے وفا ہوں گے تو کدھر جائیں گے زندگی کے لئے زندگی چاہیے آپ ملتے رہے تو نکھر جائیں گے دوریاں اتنی ہم کو گوارا نہیں کیا کریں گے یہاں ہم تو مر جائیں گے شازیہؔ آدمیت یہی ہے اگر دیکھنا اک دن ہم ...

مزید پڑھیے

ان کے جلوے نگاہوں میں ڈھلتے رہے

ان کے جلوے نگاہوں میں ڈھلتے رہے حوصلے دل ہی دل میں مچلتے رہے دوستوں نے تو کانٹے بچھائے بہت مسکراتے ہوئے ہم بھی چلتے رہے کوئی پھولوں سے دامن کو بھر لے گیا ہم کھڑے باغ میں ہاتھ ملتے رہے اس کی بھرپور الھڑ جوانی پہ ہم مسکراتے سسکتے مچلتے رہے راستے منزلیں دور ہوتی گئیں میری فطرت ...

مزید پڑھیے

شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ وفور غم میں کمی ہے ذرا ٹھہر جاؤ نتیجہ جہد مسلسل کا آگے کیا ہوگا محل فکر یہی ہے ذرا ٹھہر جاؤ کشاکش غم دوراں میں زندہ رہنے کی تمہی سے داد ملی ہے ذرا ٹھہر جاؤ یہ بات تم سے کوئی اور کہہ نہیں سکتا یہ بات دل نے کہی ہے ذرا ٹھہر جاؤ تمہارے جانے کے احساس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 597 سے 4657