میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو
میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو ساز چھیڑا نہ کرو گیت سنایا نہ کرو جاؤ آباد کرو اپنی تمناؤں کو مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں میرے دامن کو الجھنے دو چھڑایا نہ کرو تم نے اچھا ہی کیا ساتھ ہمارا نہ دیا بجھ چکے ہیں جو دیے ان کو ...