اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے

اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے
میں جو خاموش ہوا زخم جگر بول پڑے


رات یادوں کے پرندوں نے بہت شور کیا
جیسے خوابیدہ جزیروں میں سحر بول پڑے


دل نے خاموش محبت کی طہارت سن لی
دم رخصت جو ترے دیدۂ تر بول پڑے


ان سے دن رات بدلنے کا سبب جاننا تھا
شوق تقلید میں گم شمس و قمر بول پڑے


پہلے مسمار ہوئے خواب گھروندے اخترؔ
پھر ہواؤں سے گلے مل کے شجر بول پڑے