شاعری

کچھ تو دیکھیں اثر چراغ چلے

کچھ تو دیکھیں اثر چراغ چلے بجھ ہی جائے مگر چراغ جلے مسکرا کر یہ کس نے دیکھ لیا رہ گزر رہ گزر چراغ جلے اتنی ہی اور تیرگی پھیلی شہر میں جس قدر چراغ جلے کون جانے کہ کن امیروں پر شام سے تا سحر چراغ جلے قابل دید ہے یہ عالم بھی اس طرف دل ادھر چراغ جلے ساری بستی دھوئیں میں ڈوب گئی شہر ...

مزید پڑھیے

پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی

پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی دونوں طرف سے پرسش حالات ہو گئی ہلکی سی روشنی بھی نہیں دور دور تک فرقت کی رات کتنی بڑی رات ہو گئی راہ جنوں میں بیکس و تنہا چلا تھا میں ہم راہ دل کے گردش حالات ہو گئی یہ حسن اتفاق کہ تم آ گئے ادھر خوش قسمتی کہ تم سے ملاقات ہو گئی یہ وقت آ گیا ہے مری ...

مزید پڑھیے

نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے

نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے خدا جانے کہاں سے آ رہی ہے وہ مل جائیں صبا تو ان سے کہنا یہ برکھا رت بھی بیتی جا رہی ہے کسی سے دور ہو جانے کی ساعت بہت نزدیک آتی جا رہی ہے یہ کیوں بڑھنے لگی ہے دل کی دھڑکن ہماری یاد کس کو آ رہی ہے بہاروں کا پیام آیا ہے شاید ہوا زنجیر در کھڑکا رہی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

وہ صنم خوگر وفا نہ ہوا

وہ صنم خوگر وفا نہ ہوا یہ بھی اچھا ہوا برا نہ ہوا آ گیا لطف زندگانی کا درد جو قابل دوا نہ ہوا عمر بھر ہم جدا رہے اس سے ہم سے دم بھر بھی جو جدا نہ ہوا کہے دیتی ہیں شرمگیں نظریں کیا ہوا رات اور کیا نہ ہوا شوقؔ نے لکھے سینکڑوں دفتر حرف مطلب مگر ادا نہ ہوا

مزید پڑھیے

رو رہی ہے جس طرح یہ شمع پروانے کے بعد

رو رہی ہے جس طرح یہ شمع پروانے کے بعد آپ بھی روئیں گے مجھ کو میرے مر جانے کے بعد گر نہیں ملتی شراب ناب آنسو ہی سہی کچھ تو پینا چاہیئے فرقت میں غم کھانے کے بعد رشک جنت بن گیا تھا آپ کے آنے سے گھر ہو گیا دوزخ سے بدتر پھر چلے جانے کے بعد کیا خبر ہم بد نصیبوں کو ہے کیا شئے بہار ہم نے ...

مزید پڑھیے

تمہیں حسن نے پر جفا کر دیا

تمہیں حسن نے پر جفا کر دیا ہمیں عشق نے باوفا کر دیا یہ ان کی نگاہوں کا احسان ہے مرے دل کو درد آشنا کر دیا بلا سے مری جان جاتی رہے محبت کا حق تو ادا کر دیا ہوا ساری محفل پہ ان کا عتاب یہ کس نے مرا تذکرہ کر دیا چکھا کر ذرا سا مزہ وصل کا مرا شوقؔ حد سے سوا کر دیا

مزید پڑھیے

ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کو

ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کو غم اٹھانے کا بھی باقی نہیں یارا ہم کو درد فرقت سے ترے ضعف ہے ایسا ہم کو خواب میں بھی ترے دشوار ہے آنا ہم کو جوش وحشت میں ہو کیا ہم کو بھلا شکر لباس بس کفایت ہے جنوں دامن صحرا ہم کو رہبری کی دہن یار کی جانب خط نے خضر نے چشمۂ حیوان یہ دکھایا ہم ...

مزید پڑھیے

اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کا

اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کا گئے ہیں نالے جو سوئے گردوں تو اشک نے رخ کیا زمیں کا بھلی تھی تقدیر یا بری تھی یہ راز کس طرح سے عیاں ہو بتوں کو سجدے کئے ہیں اتنے کہ مٹ گیا سب لکھا جبیں کا وہی لڑکپن کی شوخیاں ہیں وہ اگلی ہی سہی شرارتیں ہیں سیانے ہوں گے تو ہاں بھی ...

مزید پڑھیے

کچھ اکیلی نہیں میری قسمت (ردیف .. ے)

کچھ اکیلی نہیں میری قسمت غم کو بھی ساتھ لگا لگائی ہے منتظر دیر سے تھے تم میرے اب جو تشریف صبا لائی ہے نگہت زلف غبار رہ دوست آخر اس کوچہ سے کیا لائی ہے موت بھی روٹھ گئی تھی مجھ سے یہ شب ہجر منا لائی ہے مجھ کو لے جا کے مری آنکھ وہاں اک تماشا سا دکھا لائی ہے آہ کو سوئے اثر بھیجا ...

مزید پڑھیے

پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا

پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا شب فرقت میں دل غمزدہ بھی پاس نہ تھا وہ بھی کیا رات تھی کیا عالم تنہائی تھا میں تھا یا دیدۂ خوننابہ فشانی شب ہجر ان کو واں مشغلۂ انجمن آرائی تھا پارہ ہائے دل خونیں کی طلب تھی پیہم شب جو آنکھوں میں مری ذوق خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 581 سے 4657