اس نے پوچھا تھا پہلے حال مرا
اس نے پوچھا تھا پہلے حال مرا پھر کیا دیر تک ملال مرا میں وفا کو ہنر سمجھتا تھا مجھ پہ بھاری پڑا کمال مرا اس میں تبدیلیاں کرنی حسیں آئینے عکس تو نکال مرا میں ترا آخری اثاثہ ہوں اے غم یار رکھ خیال مرا
اس نے پوچھا تھا پہلے حال مرا پھر کیا دیر تک ملال مرا میں وفا کو ہنر سمجھتا تھا مجھ پہ بھاری پڑا کمال مرا اس میں تبدیلیاں کرنی حسیں آئینے عکس تو نکال مرا میں ترا آخری اثاثہ ہوں اے غم یار رکھ خیال مرا
رگ جاں میں سما جاتی ہو جاناں تم اتنا یاد کیوں آتی ہو جاناں تمہارے سائے ہے پہلو میں اب تک کہ جا کر بھی کہاں جاتی ہو جاناں مری نیندیں اڑا رکھی ہیں تم نے یہ کیسے خواب دکھلاتی ہو جاناں کسی دن دیکھنا مر جاؤں گا میں مری قسمیں بہت کھاتی ہو جاناں وہ سنتا ہوں میں اپنی دھڑکنوں سے تم ...
درد کے دائمی رشتوں سے لپٹ جاتے ہیں عکس روتے ہیں تو شیشوں سے لپٹ جاتے ہیں ہائے وہ لوگ جنہیں ہم نے بھلا رکھا ہے یاد آتے ہیں تو سانسوں سے لپٹ جاتے ہیں کس کے پیروں کے نشاں ہیں کہ مسافر بھی اب منزلیں بھول کے رستوں سے لپٹ جاتے ہیں جب وہ روتا ہے تو یک لخت مری پیاس کے ہونٹ اس کی آنکھوں ...
آج ہے کچھ سبب آج کی شب نہ جا جان ہے زیر لب آج کی شب نہ جا کیا پتا پھر ترے وصل کی ساعتیں ہوں کہاں کیسے کب آج کی شب نہ جا چاند کیا پھول کیا شمع کیا رنگ کیا ہیں پریشان سب آج کی شب نہ جا وقت کو کیسے ترتیب دیتے ہیں لوگ آ سکھا دے یہ اب آج کی شب نہ جا وہ سحر بھی تجھی سے سحر تھی اسدؔ شب بھی ...
ہماری مٹی سے کیا بنے گا بہت بنا تو خدا بنے گا یہ ہم جو بت ہو کے دیکھتے ہیں یہی تمہاری ادا بنے گا نہیں کوئی زاویہ ہمارا سو یہ بھی اک زاویہ بنے گا
اس طرح سے ترجمانی کر گیا میرے اشکوں کو وہ پانی کر گیا اس نے چہرے سے ہٹا ڈالا نقاب اور میری غزلیں پرانی کر گیا رکھ گیا وہ اپنے کپڑے سوکھنے دھوپ بھی کتنی سہانی کر گیا بھول جانے کی قسم دینا تیرا یاد آنے کی نشانی کر گیا دو گھڑی کو پاس آیا تھا کوئی دل پہ برسوں حکمرانی کر گیا جس پہ ...
وہ جو صورت تھی ساتھ ساتھ کبھی سرخ مہکے گلاب کی صورت اس کی یادیں اترتی رہتی ہیں ذہن و دل پہ عذاب کی صورت یہ رویہ سہی نہیں ہوتا یوں ہمیں کشمکش میں مت ڈالو یا ہمیں سچ کی طرح اپنا لو یا بھلا بھی دو خواب کی صورت اس نے ان دیکھا ان سنا کر کے بے تعلق کیا ہے تو اب ہم اس کی تصویر سے نکالیں گے ...
میں یوں تو خواب کی تعبیر سوچتا بھی نہیں مگر وہ شخص مرے رت جگوں کا تھا بھی نہیں مرا نصیب وہ سمجھا نہ بات اشاروں کی مرا مزاج کہ میں صاف کہہ سکا بھی نہیں بڑی گراں ہے مری جاں یہ کیفیت مت پوچھ کہ ان لبوں پہ گلہ بھی نہیں دعا بھی نہیں یہ زندگی کے تعاقب میں روز کا پھرنا اگرچہ اس طرح جینے ...
مجھے ملال میں رکھنا خوشی تمہاری تھی مگر میں خوش ہوں کہ وابستگی تمہاری تھی بچھڑ کے تم سے خزاں ہو گئے تو یہ جانا ہمارے حسن میں سب دل کشی تمہاری تھی بہ نام شرط محبت یہ اشک بہنے دو ہمیں خبر ہے کہ جو بے بسی تمہاری تھی وہ صرف میں تو نہیں تھا جو ہجر میں رویا وہ کیفیت جو مری تھی وہی ...
اس کا غم ہے کہ مجھے وہم ہوا ہے شاید کوئی پہلو میں مرے جاگ رہا ہے شاید جاگتے جاگتے پچھلی کئی راتیں گزری چاند ہونا مری قسمت میں لکھا ہے شاید دوڑ جاؤں ہر اک آہٹ پہ کواڑوں کی طرف اور پھر خود کو ہی سمجھاؤں ہوا ہے شاید اس کی باتوں سے وہ اب پھول نہیں جھڑتے ہیں اس کے ہونٹوں پہ ابھی میرا ...