شاعری

غم سے فرصت نہیں کہ تجھ سے کہیں

غم سے فرصت نہیں کہ تجھ سے کہیں تجھ کو رغبت نہیں کہ تجھ سے کہیں ہجر پتھر گڑا ہے سینے میں پر وہ شدت نہیں کہ تجھ سے کہیں آرزو کسمسائے پھرتی ہے کوئی صورت نہیں کہ تجھ سے کہیں خامشی کی زباں سمجھ لینا اپنی عادت نہیں کہ تجھ سے کہیں درد حد سے سوا تو ہے لیکن ایسی حالت نہیں کہ تجھ سے ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ کو جیا ہے کوئی افسوس نہیں

زندگی تجھ کو جیا ہے کوئی افسوس نہیں زہر خود میں نے پیا ہے کوئی افسوس نہیں میں نے مجرم کو بھی مجرم نہ کہا دنیا میں بس یہی جرم کیا ہے کوئی افسوس نہیں میری قسمت میں لکھے تھے یہ انہیں کے آنسو دل کے زخموں کو سیا ہے کوئی افسوس نہیں اب گرے سنگ کہ شیشوں کی ہو بارش فاکرؔ اب کفن اوڑھ لیا ...

مزید پڑھیے

مری زباں سے مری داستاں سنو تو سہی

مری زباں سے مری داستاں سنو تو سہی یقیں کرو نہ کرو مہرباں سنو تو سہی چلو یہ مان لیا مجرم محبت ہیں ہمارے جرم کا ہم سے بیاں سنو تو سہی بنوگے دوست مرے تم بھی دشمنو اک دن مری حیات کی آہ و فغاں سنو تو سہی لبوں کو سی کے جو بیٹھے ہیں بزم دنیا میں کبھی تو ان کی بھی خاموشیاں سنو تو سہی

مزید پڑھیے

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو مجھ کو مجھ سے ابھی جدا نہ کرو my sorrows no one should allay keep not me from my self away ناخدا کو خدا کہا ہے تو پھر ڈوب جاؤ خدا خدا نہ کرو if captain to be Lord you think don’t call to God, tis better sink یہ سکھایا ہے دوستی نے ہمیں دوست بن کر کبھی وفا نہ کرو friendship has taught this to me in friendship don’t bear loyalty عشق ہے ...

مزید پڑھیے

اہل الفت کے حوالوں پہ ہنسی آتی ہے

اہل الفت کے حوالوں پہ ہنسی آتی ہے لیلیٰ مجنوں کی مثالوں پہ ہنسی آتی ہے I scoff at stories of sincerity I mock the models of fidelity جب بھی تکمیل محبت کا خیال آتا ہے مجھ کو اپنے ہی خیالوں پہ ہنسی آتی ہے when thoughts of love's fulfillment arise my thoughts are a source of mirth to me لوگ اپنے لئے اوروں میں وفا ڈھونڈتے ہیں ان وفا ڈھونڈنے ...

مزید پڑھیے

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں زندگی کو بھی صلہ کہتے ہیں کہنے والے جینے والے تو گناہوں کی سزا کہتے ہیں فاصلے عمر کے کچھ اور بڑھا دیتی ہے جانے کیوں لوگ اسے پھر بھی دوا کہتے ہیں چند معصوم سے پتوں کا لہو ہے فاکرؔ جس کو محبوب کی ہاتھوں کی حنا ...

مزید پڑھیے

شاید میں زندگی کی سحر لے کے آ گیا

شاید میں زندگی کی سحر لے کے آ گیا قاتل کو آج اپنے ہی گھر لے کے آ گیا تا عمر ڈھونڈھتا رہا منزل میں عشق کی انجام یہ کہ گرد سفر لے کے آ گیا نشتر ہے میرے ہاتھ میں کاندھوں پہ مے کدہ لو میں علاج درد جگر لے کے آ گیا فاکرؔ صنم کدے میں نہ آتا میں لوٹ کر اک زخم بھر گیا تھا ادھر لے کے آ گیا

مزید پڑھیے

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں تم شہر محبت کہتے ہو ہم جان بچا کر آئے ہیں بت خانہ سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے ہم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں ہم سوچ رہے ہیں مدت سے اب عمر گزاریں بھی تو کہاں صحرا میں خوشی کے پھول نہیں شہروں میں غموں کے ...

مزید پڑھیے

الفت کا جب کسی نے لیا نام رو پڑے

الفت کا جب کسی نے لیا نام رو پڑے اپنی وفا کا سوچ کے انجام رو پڑے ہر شام یہ سوال محبت سے کیا ملا ہر شام یہ جواب کہ ہر شام رو پڑے راہ وفا میں ہم کو خوشی کی تلاش تھی دو گام ہی چلے تھے کہ ہر گام رو پڑے رونا نصیب میں ہے تو اوروں سے کیا گلہ اپنے ہی سر لیا کوئی الزام رو پڑے

مزید پڑھیے

اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں

اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں ہم ان کے لیے زندگانی لٹا دیں ہر اک موڑ پر ہم غموں کو سزا دیں چلو زندگی کو محبت بنا دیں اگر خود کو بھولے تو کچھ بھی نہ بھولے کہ چاہت میں ان کی خدا کو بھلا دیں کبھی غم کی آندھی جنہیں چھو نہ پائے وفاؤں کے ہم وہ نشیمن بنا دیں قیامت کے دیوانے کہتے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 498 سے 4657