مٹا سا حرف ہوں بگڑی ہوئی سی بات ہوں میں
مٹا سا حرف ہوں بگڑی ہوئی سی بات ہوں میں جبین وقت پہ اک نقش بے ثبات ہوں میں بتا بسیط زمانے ہے کیا یہی انصاف جو ہے عدوئے نمود سحر وہ رات ہوں میں گمان یہ تھا کہ ہوں مرکز ہجوم نگاہ یقین یہ ہے کہ محروم التفات ہوں میں ہے کس گنہ کی سیاہی مری غلط فہمی میں جانتا تھا کہ روح تجلیات ہوں ...