لیا جنت میں بھی دوزخ کا سہارا ہم نے
لیا جنت میں بھی دوزخ کا سہارا ہم نے آشیاں برق کے تنکوں سے سنوارا ہم نے حسن آئینۂ غیرت کو سنوارا ہم نے نہ لیا عشق میں اپنا بھی سہارا ہم نے نقش فانی ہی رہا رنگ بقا چڑھ نہ سکا عمر بھر عالم امکاں کو سنوارا ہم نے ہر نفس مرثیہ تھا ساعت بیداری کا لاکھ سوئی ہوئی قسمت کو پکارا ہم ...