شاعری

لیا جنت میں بھی دوزخ کا سہارا ہم نے

لیا جنت میں بھی دوزخ کا سہارا ہم نے آشیاں برق کے تنکوں سے سنوارا ہم نے حسن آئینۂ غیرت کو سنوارا ہم نے نہ لیا عشق میں اپنا بھی سہارا ہم نے نقش فانی ہی رہا رنگ بقا چڑھ نہ سکا عمر بھر عالم امکاں کو سنوارا ہم نے ہر نفس مرثیہ تھا ساعت‌ بیداری کا لاکھ سوئی ہوئی قسمت کو پکارا ہم ...

مزید پڑھیے

اشک حسرت میں کیوں لہو ہے ابھی

اشک حسرت میں کیوں لہو ہے ابھی صلح کی ان سے گفتگو ہے ابھی دل پشیمان جستجو ہے ابھی کھوئی کھوئی سی آرزو ہے ابھی چاک دل پر نہ کیوں ہنسی آئے یہ تو شائستۂ رفو ہے ابھی مسکرا لیں حقیقتیں مجھ پر نقش باطل کی جستجو ہے ابھی جلوے بیتاب اور نظر بے چین نام دونوں کا جستجو ہے ابھی خیریت دل ...

مزید پڑھیے

قدم تو رکھ منزل وفا میں بساط کھوئی ہوئی ملے گی

قدم تو رکھ منزل وفا میں بساط کھوئی ہوئی ملے گی وہیں کہیں نقش پا کی صورت پڑی ہوئی زندگی ملے گی ملے گی ہاں رنگ میں خزاں کے بہار ڈوبی ہوئی ملے گی تلاش کر خار زار غم میں کوئی تو کوپل ہری ملے گی چراغ‌ سجدہ جلا کے دیکھو ہے بت کدہ دفن زیر کعبہ حدود اسلام ہی کے اندر یہ سرحد کافری ملے ...

مزید پڑھیے

نہ کریدوں عشق کے راز کو مجھے احتیاط کلام ہے

نہ کریدوں عشق کے راز کو مجھے احتیاط کلام ہے مرا ذوق اتنا بلند ہے جہاں آرزو بھی حرام ہے فقط ایک رشتۂ‌ مشترک خلش سکوت کلام ہے یوں ہی اک زمانہ گزر گیا نہ پیام ہے نہ سلام ہے جو چراغ اشک نصیب تھے وہی صبر کر کے جلا دیے وہی کافرانہ سیاہیاں یہ وہی بجھی ہوئی شام ہے ابھی رکھا رہنے دو طاق ...

مزید پڑھیے

وہ زکوٰۃ دولت صبر بھی مرے چند اشکوں کے نام سے

وہ زکوٰۃ دولت صبر بھی مرے چند اشکوں کے نام سے وہ نظر گذر کی شراب تھی جو چھلک گئی مرے جام سے مری چشم شوق میں کیف دل جو بھرا تھا خون کے نام سے وہی شعلہ بن کے بھڑک اٹھا وہی پھوٹ نکلا ہے جام سے کوئی رات آنکھوں میں کاٹ لی کوئی تارے گن کے گزار دی یہی مرتے مرتے ہوس رہی میں کبھی تو سو رہوں ...

مزید پڑھیے

گناہ گار ہوں ایسا رہ نجات میں ہوں

گناہ گار ہوں ایسا رہ نجات میں ہوں میں خود چراغ بکف ہر اندھیری رات میں ہوں شعور گم ہوا دیوانگی ہے کھوئی ہوئی خدا ہی جانے میں کس منزل حیات میں ہوں تجلی‌ پس پردہ ذرا توقف کر ابھی تو گرم نظر بزم ممکنات میں ہوں سوال ایک نظر کا ہے رد نہ کر اے دوست گدائے‌ خاک بسر راہ التفات میں ...

مزید پڑھیے

فطرت عشق گنہ گار ہوئی جاتی ہے

فطرت عشق گنہ گار ہوئی جاتی ہے فکر دنیا بھی غم یار ہوئی جاتی ہے کتنا نازک ہے خدا رکھے محبت کا مزاج اب تسلی بھی دل آزار ہوئی جاتی ہے جب سے چھینی ہے تری یاد نے نیند آنکھوں کی دل کی جو حس ہے وہ بیدار ہوئی جاتی ہے آہ پابندیٔ آداب محبت توبہ ٹھنڈی ہر سانس گناہگار ہوئی جاتی ہے چھو لیا ...

مزید پڑھیے

یہ انقلاب بھی اے دور آسماں ہو جائے

یہ انقلاب بھی اے دور آسماں ہو جائے مرا قفس بھی مقدر سے آشیاں ہو جائے مآل‌ ضبط فغاں مرگ ناگہاں ہو جائے کسی طرح تو مکمل یہ داستاں ہو جائے سمجھ تو لیں گے وہ مجھ سے اگر بیاں ہو جائے سکوت حد سے گزر جائے تو زیاں ہو جائے قفس سے دور سہی موسم بہار تو ہے اسیرو آؤ ذرا ذکر آشیاں ہو ...

مزید پڑھیے

ایماں کی نمائش ہے سجدے ہیں کہ افسانے

ایماں کی نمائش ہے سجدے ہیں کہ افسانے ہیں چاند جبینوں پر اور ذہن میں بت خانے کچھ عقل کے متوالے کچھ عشق کے دیوانے پرواز کہاں تک ہے کس کی یہ خدا جانے کم ظرف کی نیت کیا پگھلا ہوا لوہا ہے بھر بھر کے چھلکتے ہیں اکثر یہی پیمانے اب رنگ کے نسلوں کے بت ٹوٹ چکے ساقی اب کیوں دیئے جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ وہ آزمائش سخت ہے کہ بڑے بڑے بھی نکل گئے

یہ وہ آزمائش سخت ہے کہ بڑے بڑے بھی نکل گئے یہ انہیں پتنگوں کا ظرف ہے کہ پرائی آگ میں جل گئے تری آستین کی کہکشاں جو نظر پڑی تو مچل گئے جو تری خوشی کا نچوڑ تھے وہی اشک تاروں میں ڈھل گئے ملے سرد آہوں میں اشک غم تو شرار و برق میں ڈھل گئے یہ نہ جانے کیسے چراغ تھے کہ ہوا کے رخ پہ بھی جل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 495 سے 4657