شاعری

دھومیں مچائیں سبزہ روندیں پھولوں کو پامال کریں

دھومیں مچائیں سبزہ روندیں پھولوں کو پامال کریں جوش جنوں کا یہ عالم ہے اب کیا اپنا حال کریں دشت جاں میں ایک خوشی کی لہر کہاں تک دوڑے گی وصل کے اک اک لمحے کو ہم کیوں کر ماہ و سال کریں جان سے بڑھ کر دل ہے پیارا دل سے زیادہ جان عزیز درد محبت کا اک تحفہ کس کس کو ارسال کریں ننگ کرم ہے ...

مزید پڑھیے

ہمہ تن گوش اک زمانہ تھا

ہمہ تن گوش اک زمانہ تھا میرے لب پر ترا فسانہ تھا کاش دل ہی ذرا ٹھہر جاتا گردشوں میں اگر زمانہ تھا ہم تھے اور اعتماد فصل بہار شاخ شاخ اپنا آشیانہ تھا وہ بہاریں بھی ہم پہ گزری ہیں جب قفس تھا نہ آشیانہ تھا دل کی امیدواریاں نہ گئیں اس کرم کا کوئی ٹھکانہ تھا صبح سے پہلے بجھ گیا ...

مزید پڑھیے

مہ و پرویں تہ کمند رہے

مہ و پرویں تہ کمند رہے کن فضاؤں میں ہم بلند رہے غم ہستی سے بے نیاز سہی اہل دل پھر بھی درد مند رہے چشم عقدہ کشا سے بھی نہ کھلے ہم کچھ اس طرح بند بند رہے بر سر دار ہم سہی لیکن حرف حق کی طرح بلند رہے حسن کی خود نمائیاں توبہ مدتوں ہم بھی خود پسند رہے مے و مستی نہیں ہے اس پہ ...

مزید پڑھیے

سوز پرور نگاہ رکھتے ہیں

سوز پرور نگاہ رکھتے ہیں ہم نظر میں بھی آہ رکھتے ہیں اس ہجوم تجلیات میں ہم حسرت یک نگاہ رکھتے ہیں یہ تعلق جہاں سے کافی ہے آپ سے رسم و راہ رکھتے ہیں بخش دے گا وہ بخشنے والا بس یہ عذر گناہ رکھتے ہیں ہم حجابات سے نہیں مایوس جلوہ پیش نگاہ رکھتے ہیں غم وسیلہ ہے اور تو مقصود ہم یہ ...

مزید پڑھیے

ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا

ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیا تجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیا جیسے سر پھوڑ کے مل جائے گی زنداں سے نجات کیا جنوں نے کوئی دیوار میں در دیکھ لیا باز ہے آج تلک دیدۂ حیراں کی طرح دشت وحشت نے کسے خاک بسر دیکھ لیا جرم نظارہ کی پاتا ہے سزا دل اب تک اہل دل دیکھ لیا اہل نظر دیکھ ...

مزید پڑھیے

یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی

یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی چشم صد نظارہ مشکل سے اٹھی بازگشت شور غرقابی سہی کوئی تو آواز ساحل سے اٹھی قافلے ہیں کتنے درماندہ خرام گرد راہوں سے نہ منزل سے اٹھی تھام کر دل کیا اٹھے ارباب درد اک قیامت تیری محفل سے اٹھی سر سے بھی گزری ہے طوفاں کی طرح جب بھی کوئی موج خوں دل سے ...

مزید پڑھیے

باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیا

باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیا بڑھتے بڑھتے شعلہ گُل آشیاں تک آ گیا اک جہاں اس حادثہ سے بے خرب ہے اور یہاں دل میں ڈوبا نشترغم اور جاں تک آ گیا اس کے آگے اب ایر کارواں کام ہی گرتا پڑتا میں سواد کارواں تک آگیا لاکھ منزل سے ہوں آگے پھر ی اے جوش طلب مڑکے دیکھوں تو کہ میںخر کہاں ...

مزید پڑھیے

رات کا سناٹا ہو اور رازداں کوئی نہ ہو

رات کا سناٹا ہو اور رازداں کوئی نہ ہو بیویاں تنہا ہی گھومیں اور میاں کوئی نہ ہو مملکت کو فکر تعمیر مکاں کوئی نہ ہو ہوں پڑے فٹ پاتھ پہ سب آشیاں کوئی نہ ہو ہے یہی جی میں کہ ہم سب خانہ جنگی میں مریں ملک پہ مٹنے کی خاطر خانداں کوئی نہ ہو آپا دھاپی کی فضا ہو جو بھی چاہے لوٹ لے راہبر ...

مزید پڑھیے

اپنے نائی کا ہنر یاد آیا

اپنے نائی کا ہنر یاد آیا ہم نے منڈوایا تھا سر یاد آیا ریل میں لے رہی تھی خراٹے اس کے ہم راہ سفر یاد آیا جس کو کھا کے ہوئے تھے ہم بیمار وہ ہی بھیجا وہ جگر یاد آیا رات کنیا گلے لگائی تھی صبح دارو کا اثر یاد آیا پریم کے وقت غصہ بیوی کا بھولنا چاہا مگر یاد آیا جب فسادوں کی کوئی آئی ...

مزید پڑھیے

اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی

اب کے برس ہونٹوں سے میرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی کیسا پیار کہاں کی الفت عشق کی بات تو جانے دو میرے لیے اب اس کے دل سے ہمدردی بھی ختم ہوئی سامنے والی بلڈنگ میں اب کام ہے بس آرائش کا کل تک جو ملتی تھی ہمیں وہ مزدوری بھی ختم ہوئی جیل سے واپس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 472 سے 4657