بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسو
بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسو طلب ہے شرط سکوں کے ہزار ہا پہلو جو بے خودی ہے سلامت تو مل ہی جائے گا برائے فرصت اندیشہ یار کا زانو ہزار دشت بلا حلقۂ اثر میں ہیں مرا جنوں ہے کہ چشم غزال کا جادو یہ راز کھول دیا تیری کم نگاہی نے سکوں کی ایک نظر درد کے بہت پہلو صبا ہزار کرے بوئے گل ...