مری منزلیں کہیں اور ہیں مرا راستہ کوئی اور ہے
مری منزلیں کہیں اور ہیں مرا راستہ کوئی اور ہے ہٹو راہ سے مری خضر جی مرا رہنما کوئی اور ہے یہ عجیب منطق عشق ہے مگر اس میں کچھ بھی نہ بن پڑے مرے دل میں یاد کسی کی ہے مجھے بھولتا کوئی اور ہے مری جنبشیں مری لغزشیں مرے بس میں ہوں گی نہ تھیں نہ ہیں میں قیام کرتا ہوں ذہن میں مجھے سوچتا ...