شاعری

ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھا

ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھا نظر میں دور تک ساحل نہیں تھا کہاں تھا گفتگو کرتے ہوئے وہ وہ تھا بھی تو سر محفل نہیں تھا میں اس کو سب سے بہتر جانتا ہوں جسے میرا پتہ حاصل نہیں تھا زمانے سے الگ تھی میری دنیا میں اس کی دوڑ میں شامل نہیں تھا وہ پتھر بھی تھا کتنا خوبصورت جو آئینہ تھا لیکن ...

مزید پڑھیے

عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھے

عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھے نگاہ دیکھ رہی تھی کہ گھر کچھ اور سے تھے وہ آشیانے نہیں تھے جہاں پہ چڑیاں تھیں شجر کچھ اور سے ان پر ثمر کچھ اور سے تھے تمام کشتیاں منجدھار میں گھری ہوئی تھیں ہر ایک لہر میں بنتے بھنور کچھ اور سے تھے بہت بدل گیا میدان جنگ کا نقشہ وہ دھڑ کچھ ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر عہد تمنا کی طرح

ٹوٹ کر عہد تمنا کی طرح معتبر ہم رہے فردا کی طرح شوق منزل تو بہت ہے لیکن چلتے ہیں نقش کف پا کی طرح جا ملیں گے کبھی گلزاروں سے پھیلتے جائیں گے صحرا کی طرح دیکھ کر حال پریشاں اپنا ہم بھی ہنس لیتے ہیں دنیا کی طرح کبھی پایاب کبھی طوفانی ہم بھی ہیں دشت کے دریا کی طرح محفل ناز میں ...

مزید پڑھیے

عذاب ٹوٹے دلوں کو ہر اک نفس گزرا

عذاب ٹوٹے دلوں کو ہر اک نفس گزرا شکستہ پا تھے گراں مژدۂ جرس گزرا ہجوم جلوہ و نیرنگیٔ تمنا سے تمام موسم گل موسم ہوس گزرا عجب نہیں کہ حیات دوام بھی بخشے وہ ایک لمحۂ فرقت جو اک برس گزرا یہ مصلحت کہ کہیں دہر ہے کہیں فردوس وہی جو عالم دل ہم پہ ہم نفس گزرا غم مآل رہا عرض شوق سے ...

مزید پڑھیے

ہر اک داغ دل شمع ساں دیکھتا ہوں

ہر اک داغ دل شمع ساں دیکھتا ہوں تری انجمن ضو فشاں دیکھتا ہوں تعین سے آزاد ہیں میرے سجدے جبیں پر ترا آستاں دیکھتا ہوں فریب تصور ہے قید قفس ہے ہر اک شاخ پر آشیاں دیکھتا ہوں میں راہ طلب کا ہوں پسماندہ رہرو غبار رہ کارواں دیکھتا ہوں باندازۂ ذوق ایذا پسندی اسے آج میں مہرباں ...

مزید پڑھیے

زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کر

زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کر آہ نے سکوں بخشا آہ نارسا ہو کر کر دیا تعین سے ذوق عجز کو آزاد نقش سجدہ نے میرے تیرا نقش پا ہو کر فرط غم سے بے حس ہوں غم ہے غم نہ ہونے کا درد کر دیا پیدا درد نے دوا ہو کر ہو چکے ہیں سل بازو ہے نہ ہمت پرواز ہم رہا نہ ہو پائے قید سے رہا ہو کر حسرتیں ...

مزید پڑھیے

عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھا

عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھا وہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھا ہوا بھری ہوئی پھرتی تھی اب کے ساحل پر کچھ ایسا حوصلہ کشتی کے بادبان میں تھا ہمارے بھیگے ہوئے پر نہیں کھلے ورنہ ہمیں بلاتا ستارہ تو آسمان میں تھا اتر گیا ہے رگ و پے میں ذائقہ اس کا عجیب شہد سا کل رات اس زبان ...

مزید پڑھیے

یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا

یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا جب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھا لکھا ہے داستاں میں کہ گلشن اجڑتے وقت گلچیں بے شمار تھے مالی کوئی نہ تھا اس دشت میں مرا ہی ہیولیٰ تھا ہر طرف میں نے ہی شمع عشق جلا لی کوئی نہ تھا جلسے اجڑ گئے تھے کسی خود فریب کے خود ہی بجا رہا تھا وہ تالی کوئی ...

مزید پڑھیے

آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہے

آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہے یعنی ہوائے باغ جنوں خیز ابھی سے ہے جوش طلب ہی موجب درماندگی نہ ہو منزل ہے دور اور قدم تیز ابھی سے ہے کیا ارتباط حسن و محبت کی ہو امید وہ جان شوق ہم سے کم آمیز ابھی سے ہے ترتیب کارواں میں بہت دیر ہے مگر آوازۂ جرس ہے کہ مہمیز ابھی سے ہے پہلی ہی ضرب ...

مزید پڑھیے

سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسے

سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسے وہ اضطراب شوق ہے ہم کیا کہیں جسے ہے جہد منفرد سبب کاروبار دہر اک اضطراب قطرہ ہے دریا کہیں جسے نعمت کا اعتبار ہے حسن قبول سے عشرت بھی ایک غم ہے گوارا کہیں جسے ملتا نہیں ہے اہل جنوں کا کوئی سراغ بس ایک نقش پا ہے کہ صحرا کہیں جسے پہلے حیات شوق تھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 470 سے 4657