شاعری

ہے کیا خزاں میں ممکن صحرا میں باغ نکلے

ہے کیا خزاں میں ممکن صحرا میں باغ نکلے ظلمت کو جو مٹائے ایسا چراغ نکلے شور سفیر بلبل سے گونجتا تھا کل تک کیوں آج میرے گھر میں رونے کو زاغ نکلے داغ قمر سے آخر جب آشنا ہوا میں جتنے رقیب پائے ان میں نہ داغ نکلے ڈرتا تھا میں نہ آئے وقت فراق مجھ پر کچھ وصل سے ترے اب حول دماغ نکلے ہو ...

مزید پڑھیے

گرتا رہا میں راہ میں لیکن سنبھل گیا

گرتا رہا میں راہ میں لیکن سنبھل گیا میں آج کس مقام کی جانب نکل گیا سوچا کیا تھا راہ یہ آسان ہے مگر پہلے قدم پہ پاؤں مرا کیوں پھسل گیا ادنیٰ سا اک فریب تھا بدلا جو یہ لباس آفت تو تب پڑی کہ میں جب خود بدل گیا آنکھیں تھی شرمسار کہیں چین بھی نہیں اس کے مگر خیال سے یہ دل بہل گیا ہو گر ...

مزید پڑھیے

دیکھیں اب کیا دل جلوں سے بول بولے جائیں گے

دیکھیں اب کیا دل جلوں سے بول بولے جائیں گے لاگ ہی سے پھوٹ کیا دل کے پھپھولے جائیں گے ہے یہاں پیمانہ مال و نقد ہی لیکن وہاں ظرف کی میزان پر ہی لوگ تولے جائیں گے مشعل ماضی دکھا سکتی ہے مستقبل کی راہ ہے یہ کنجی جس سے سارے قفل کھولے جائیں گے یاد رکھنے کے لئے لمحے گزشتہ وقت کے اب ...

مزید پڑھیے

اپنوں کی ٹوٹتی ہوئی تصویر دیکھ لی

اپنوں کی ٹوٹتی ہوئی تصویر دیکھ لی اغیار کی بھی چاہ میں تاثیر دیکھ لی آیا نہیں ہے ہوش نگاہوں کو اب تلک بکھرے ہوئے جو خوابوں کی تعبیر دیکھ لی کیا مانگتا میں تیری پشیمانی کا ثبوت آنکھوں سے بہتے اشکوں میں تعزیر دیکھ لی اب تک دکھے پرندے اسیر قفس مگر صیاد کے بھی ہاتھ میں زنجیر دیکھ ...

مزید پڑھیے

صداقت کی یہاں عزت نہیں ہے

صداقت کی یہاں عزت نہیں ہے وفاداری کی کچھ قیمت نہیں ہے جہاں سے وہ گیا تھا میں وہیں ہوں مگر جینے میں وہ لذت نہیں ہے زباں پہ تلخیاں آنکھوں میں غصہ مگر کردار میں خست نہیں ہے وقار اپنا نہیں کوتاہ لیکن ترے رتبے سی بھی قامت نہیں ہے رہے مٹی کی خوشبو یاد ہر دم تو سانسیں روکتی غربت نہیں ...

مزید پڑھیے

آسودہ دل میں اٹھنے لگا اضطراب کیا

آسودہ دل میں اٹھنے لگا اضطراب کیا اس زندگی میں ہو گیا شامل شتاب کیا قاصد کے ہاتھ اپنا یہ پیغام سونپ کر پھر سوچتے رہو کہ اب آئے جواب کیا اس کا ہے فضل ذرہ جو چمکے بہ سان زر ہے ورنہ کیا یہ ماہ بھی اور آفتاب کیا ہے نیند سے کوئی بھی تعلق نہیں مرا ہر دم یہ چشم وا میں ابھرتا ہے خواب ...

مزید پڑھیے

لب خاموش میں پنہاں ہے کوئی راز نہیں

لب خاموش میں پنہاں ہے کوئی راز نہیں زندگی ساز ہے جس میں کوئی آواز نہیں کیوں نہ آغوش تخیل میں میں اڑتا ہی رہوں در حقیقت ہے مجھے خواہش پرواز نہیں میرے کردار میں ہے نیکی بدی پر بھاری کیوں وہ کر پائے بدی کو نظر انداز نہیں یہ تعلق جو کیا قطع ہوا قصہ تمام یہ نئی داستاں کا نقطۂ آغاز ...

مزید پڑھیے

تھے جو سکون جاں کبھی وہ بار بن کے چل دیے

تھے جو سکون جاں کبھی وہ بار بن کے چل دیے سو ہم وفا کی راہ میں غبار بن کے چل دیے جو رات آنکھ میں رہی تو سب نشہ ہرن ہوا سرور بن کے آئے تھے خمار بن کے چل دیے نگہ کو بھا رہیں ہیں کب وہ ساعتیں جو عیش تھیں جو خیر بن کے آئے تھے وہ خار بن کے چل دیے قرار تھے خمار تھے ہوا پہ وہ سوار تھے وہ جو ...

مزید پڑھیے

شکست خوردگی کے بعد حوصلہ نہیں ہوا

شکست خوردگی کے بعد حوصلہ نہیں ہوا جو چوکا پہلا وار ہی تو دوسرا نہیں ہوا کہا ہوا سنا ہوا لکھا ہوا نہیں ہوا ہمارے حق میں تو کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوا قدم ثقیل ہو گئے طویل راہ ہو گئی ملال تھا کمال پر وصال تھا نہیں ہوا سکوت لب کا وہ سبب ہیں سسکیاں وہ ہچکیاں نگاہ عشق سے فرو وہ حادثہ ...

مزید پڑھیے

پہلے کلفت اٹھائی دفتر کی

پہلے کلفت اٹھائی دفتر کی پھر اٹھے خاک چھانی در در کی تم کو ڈھونڈا نہ دل کے خانوں میں ہم نے کنڈی بجائی ہر گھر کی ہم تو صحرا نورد ہیں بھائی بات کر یوں نہ ہم سے تو گھر کی درد سے پھٹ رہا ہو جن کا سر ان کو حاجت نہیں ہے پتھر کی تیری یادوں سے سینہ چیر لیا اور باتوں نے جا لی خنجر کی درد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4511 سے 4657