شاعری

عمر دو روزہ تابع ہجر و وصال ہے

عمر دو روزہ تابع ہجر و وصال ہے اک دن اگر خوشی ہے تو اک دن ملال ہے مٹنے کا اپنے دل کے نہیں مجھ کو غم ذرا دنیا کے مٹنے کا مگر اب تو سوال ہے ساقی پلائے اور پھر اپنی قسم کے ساتھ اس طرح سے جہاں بھی ملے مے حلال ہے مانا نیاز عشق کا ہے خامشی جواب پھر بھی سوال اپنی جگہ پر سوال ہے پامال کیا ...

مزید پڑھیے

آغاز محبت کا تو انجام نہیں ہے

آغاز محبت کا تو انجام نہیں ہے یہ صبح وہ ہے جس کی کبھی شام نہیں ہے کیا دیکھتا ہے اپنے سوا دیکھنے والے آئینۂ دل جلوہ گہ عام نہیں ہے اللہ ری تقدیر کی ناکامی پیہم یوں بیٹھا ہوں اب جیسے کوئی کام نہیں ہے بے وجہ کیا قید اسیروں کو قفس میں صیاد کے سر پھر بھی تو الزام نہیں ہے مرنے نہیں ...

مزید پڑھیے

شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا

شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا ترا خراب محبت خراب ہو نہ سکا اسی پہ ختم ہیں ناکامیاں زمانہ کی تری جناب میں جو کامیاب ہو نہ سکا تری عطا کے تصدق ترے کرم کے نثار گناہ گار تھا لیکن عذاب ہو نہ سکا وفور حسن کی وہ شوخیاں معاذ اللہ شباب تابع عہد شباب ہو نہ سکا خراب عشق ترا ہو کے ساری ...

مزید پڑھیے

دیدۂ محو مال ہے پیارے

دیدۂ محو مال ہے پیارے کچھ عجب دل کا حال ہے پیارے زندگی اک وبال ہے پیارے موت تیرا وصال ہے پیارے میں تو خود ہی ہوں منفعل سر حشر تجھ کو کیوں انفعال ہے پیارے زخم تیر نگاہ سے دل کا تازہ ہر دم نہال ہے پیارے قصہ کوتاہ خانۂ دل میں تو ہے تیرا خیال ہے پیارے درد کا اپنی حد سے بڑھ جانا زخم ...

مزید پڑھیے

دور افق کے پار سے آواز کے پروردگار

دور افق کے پار سے آواز کے پروردگار صدیوں سوئی خامشی کو سامنے آ کر پکار جانے کن ہاتھوں نے کھیلا رات ساحل پر شکار شیر کی آواز کو ترسا کئے سونے کچھار خواب کے سوکھے ہوئے خاکوں میں لذت کا غبار نیند کے دیمک زدہ گتے کے پیچھے انتظار تیرگی کیسے مٹے گی تیری نصرت کے بغیر آسماں کی سیڑھیوں ...

مزید پڑھیے

اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصار

اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصار اک شخص چیختا ہے سمندر کے آر پار آنکھوں سے راہ نکلی ہے تحت الشعور تک رگ رگ میں رینگتا ہے سلگتا ہوا خمار گرتے رہے نجوم اندھیرے کی زلف سے شب بھر رہیں خموشیاں سایوں سے ہمکنار دیوار و در پہ خوشبو کے ہالے بکھر گئے تنہائی کے فرشتوں نے چومی قبائے ...

مزید پڑھیے

ہر خواب کالی رات کے سانچے میں ڈھال کر

ہر خواب کالی رات کے سانچے میں ڈھال کر یہ کون چھپ گیا ہے ستارے اچھال کر ایسے ڈرے ہوئے ہیں زمانے کی چال سے گھر میں بھی پاؤں رکھتے ہیں ہم تو سنبھال کر خانہ خرابیوں میں ترا بھی پتہ نہیں تجھ کو بھی کیا ملا ہمیں گھر سے نکال کر جھلسا گیا ہے کاغذی چہروں کی داستاں جلتی ہوئی خموشیاں ...

مزید پڑھیے

جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھی

جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھی تنہائیٔ شب بند قبا کھول رہی تھی آواز کی دیوار بھی چپ چاپ کھڑی تھی کھڑکی سے جو دیکھا تو گلی اونگھ رہی تھی بالوں نے ترا لمس تو محسوس کیا تھا لیکن یہ خبر دل نے بڑی دیر سے دی تھی ہاتھوں میں نیا چاند پڑا ہانپ رہا تھا رانوں پہ برہنہ سی نمی رینگ رہی ...

مزید پڑھیے

ابلاغ کے بدن میں تجسس کا سلسلہ (ردیف .. ا)

ابلاغ کے بدن میں تجسس کا سلسلہ ٹوٹا ہے چشم خواب میں حیرت کا آئنہ جو آسمان بن کے مسلط سروں پہ تھا کس نے اسے زمین کے اندر دھنسا دیا بکھری ہیں پیلی ریت پہ سورج کی ہڈیاں ذروں کے انتظار میں لمحوں کا جھومنا احرام ٹوٹتے ہیں کہاں سنگ وقت کے صحرا کی تشنگی میں ابوالہول ہنس پڑا انگلی سے ...

مزید پڑھیے

جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پا

جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پا سورج کا ہاتھ شام کی گردن پہ جا پڑا چھت پر پگھل کے جم گئی خوابوں کی چاندنی کمرے کا درد ہانپتے سایوں کو کھا گیا بستر میں ایک چاند تراشا تھا لمس نے اس نے اٹھا کے چائے کے کپ میں ڈبو دیا ہر آنکھ میں تھی ٹوٹتے لمحوں کی تشنگی ہر جسم پہ تھا وقت کا سایہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4491 سے 4657