شاعری

ہوا ختم دریا تو صحرا لگا

ہوا ختم دریا تو صحرا لگا سفر کا تسلسل کہاں جا لگا عجب رات بستی کا نقشہ لگا ہر اک نقش اندر سے ٹوٹا لگا تمہارا ہزاروں سے رشتہ لگا کہو سائیں کا کام کیسا لگا ابھی کھنچ ہی جاتی لہو کی دھنک میاں تیر ٹک تیرا ترچھا لگا لہو میں اترتی رہی چاندنی بدن رات کا کتنا ٹھنڈا لگا تعجب کے سوراخ ...

مزید پڑھیے

پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤں

پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤں پھر کسی یاد کی تلوار سے مارا جاؤں پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالے پھر کسی آنکھ کے نقطے میں اتارا جاؤں دن کے ہنگاموں میں دامن کہیں میلا ہو جائے رات کی نقرئی آتش میں نکھارا جاؤں خشک کھوئے ہوئے گمنام جزیرے کی طرح درد کے کالے سمندر سے ابھارا ...

مزید پڑھیے

ہاتھ میں آفتاب پگھلا کر

ہاتھ میں آفتاب پگھلا کر رات بھر روشنی سے کھیلا کر یوں کھلے سر نہ گھر سے نکلا کر دیکھ بوڑھوں کی بات مانا کر آئنہ آئینے میں کیا دیکھے ٹوٹ جاتے ہیں خواب ٹکرا کر ایک دم یوں اچھل نہیں پڑتے بات کے پینترے بھی سمجھا کر دیکھ ٹھوکر بنے نہ تاریکی کوئی سویا ہے پاؤں پھیلا کر اونٹ جانے ...

مزید پڑھیے

سڑکوں پر سورج اترا

سڑکوں پر سورج اترا سایہ سایہ ٹوٹ گیا جب گل کا سینہ چیرا خوشبو کا کانٹا نکلا تو کس کے کمرے میں تھی میں تیرے کمرے میں تھا کھڑکی نے آنکھیں کھولی دروازے کا دل دھڑکا دل کی اندھی خندق میں خواہش کا تارا ٹوٹا جسم کے کالے جنگل میں لذت کا چیتا لپکا پھر بالوں میں رات ہوئی پھر ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

وہ تم تک کیسے آتا

وہ تم تک کیسے آتا جسم سے بھاری سایہ تھا سارے کمرے خالی تھے سڑکوں پر بھی کوئی نہ تھا پیچھے پیچھے کیوں آئے آگے بھی تو رستہ تھا کھڑکی ہی میں ٹھٹھر گئی کالی اور چوکور ہوا دیواروں پر آئینے آئینوں میں سبز خلا بیٹھی تھی وہ کرسی پر دانتوں میں انگلی کو دبا بوٹی بوٹی جلتی تھی اس کا ...

مزید پڑھیے

تصورات میں ان کو بلا کے دیکھ لیا

تصورات میں ان کو بلا کے دیکھ لیا زمانے بھر کی نظر سے چھپا کے دیکھ لیا فسانۂ غم فرقت سنا کے دیکھ لیا انہوں نے صرف مجھے مسکرا کے دیکھ لیا کبھی کسی نے سر طور جا کے دیکھ لیا کبھی کسی نے کسی کو بلا کے دیکھ لیا نگاہ پردہ کشا کا کمال کیا کہنا جہاں جہاں وہ چھپے اس نے جا کے دیکھ لیا کہا ...

مزید پڑھیے

اگر میری جبین شوق وقف بندگی ہوتی

اگر میری جبین شوق وقف بندگی ہوتی تو پھر محشور ان کے ساتھ اپنی زندگی ہوتی جو تصویر خیالی نقش دل پر ہو گئی ہوتی تو اپنی ذات میں ہر دم تری جلوہ‌ گری ہوتی رضائے دوست پر قربان جس کی ہر خوشی ہوتی حقیقت میں اسی کی غم سے خالی زندگی ہوتی نگاہ مست ساقی سے جو مے خواروں نے پی ہوتی یقیناً ...

مزید پڑھیے

مسرور ہو رہے ہیں غم عاشقی سے ہم

مسرور ہو رہے ہیں غم عاشقی سے ہم کیوں تنگ ہوں گے کشمکش زندگی سے ہم کوہ الم اٹھا ہی لیا راہ عشق میں اپنی خوشی کو چھوڑ کے تیری خوشی سے ہم لب ہائے یار نے تو گلستاں پرو لئے خوشبو جو پا رہے ہیں تری پنکھڑی سے ہم اپنی بہار دیکھ کے حیران رہ گئے واقف ہوئے ہیں جب سے رموز خودی سے ہم میری ...

مزید پڑھیے

جبین شوق پر کوئی ہوا ہے مہرباں شاید

جبین شوق پر کوئی ہوا ہے مہرباں شاید پئے سجدہ بلاتا ہے کسی کا آستاں شاید دم نزع وہ آئے اور زیارت ہو گئی ان کی مکمل ہو گئی اب زندگی کی داستاں شاید خزاں کا نام انجام بہاراں کی خبر سن کر گلستاں سے کنارہ کش ہوا ہے باغباں شاید ہنسا کرتے ہیں اکثر لوگ دیوانوں کی باتوں پر جہاں والے نہیں ...

مزید پڑھیے

کارواں عشق کی منزل کے قریں آ پہونچا

کارواں عشق کی منزل کے قریں آ پہونچا خود مرے دل میں مرے دل کا مکیں آ پہونچا میرے ہر سجدے سے لبیک کی آواز آئی آستاں بھی تو مرے نزد جبیں آ پہونچا تیرے دیوانے کو اپنا ہے نہ منزل کا ہے ہوش اپنے مرکز سے چلا اور وہیں آ پہونچا

مزید پڑھیے
صفحہ 4492 سے 4657