شاعری

نرم ریشم سی ملائم کسی مخمل کی طرح

نرم ریشم سی ملائم کسی مخمل کی طرح سرد راتوں میں تری یاد ہے کمبل کی طرح میں زمانے سے الجھ سکتا ہوں اس کی خاطر جو سجاتا ہے مجھے آنکھ میں کاجل کی طرح کوئی ساگر کہیں پیاسا جو نظر آئے تو ہم برستے ہیں وہیں ٹوٹ کے بادل کی طرح خوبصورت تھی یہ کشمیر کی وادی جیسی زندگی تیرے بنا لگتی ہے ...

مزید پڑھیے

لوگ ملتے بچھڑتے رہتے ہیں

لوگ ملتے بچھڑتے رہتے ہیں رشتے بنتے بگڑتے رہتے ہیں یہ نئے راستے ہیں چاہت کے آئے دن جو اکھڑتے رہتے ہیں غم نہ کر دل کے ٹوٹ جانے کا یہ چمن تو اجڑتے رہتے ہیں ہے زمانہ نئی روایت کا لوگ باہم جھگڑتے رہتے ہیں دل رفو کب تلک کرو گے تم کچے دھاگے ادھڑتے رہتے ہیں بہتے رہتے ہیں اشک آنکھوں ...

مزید پڑھیے

تازہ بہ تازہ صبح کے اخبار کی طرح

تازہ بہ تازہ صبح کے اخبار کی طرح بیچا گیا آج بھی ہر بار کی طرح قاتل ہیں میری جان کا دشمن ہے وہ مگر ملتا ہے مجھ سے جو کسی غم خوار کی طرح ایک شے کہ جس کا نام ہے احساس ذہن میں پیہم کھٹکتا رہتا ہے اک خار کی طرح میں اپنی بے گناہی پہ خود اپنے آپ میں رہتا ہوں شرم سار گنہ گار کی طرح کرتے ...

مزید پڑھیے

رات کے بعد سحر دیکھیں گے

رات کے بعد سحر دیکھیں گے ہم دعاؤں کا اثر دیکھیں گے کیسے ہر حال میں خوش رہتا ہے ہم بھی اس کا یہ ہنر دیکھیں گے چھاؤں دیتا ہے سبھی کو اب تک آؤ وہ بوڑھا شجر دیکھیں گے حال پر سب نے جو چھوڑا ہے مجھے کیسے ہوتی ہے گزر دیکھیں گے کرکے آغازؔ سفر کا تنہا کیسے کٹتا ہے سفر دیکھیں گے

مزید پڑھیے

جو تھا ریا سے پاک زمانہ کہاں گیا

جو تھا ریا سے پاک زمانہ کہاں گیا وہ دور زندگی کا سہانا کہاں گیا ہر چین پا کے کس لیے بے چین ہے بشر پاتا تھا وہ سکوں جو ٹھکانا کہاں گیا ماحول کیوں ہے آج گلستاں کا ماتمی وہ بلبلوں کا شور مچانا کہاں گیا آتے تھے جھیل پر جو پرندے کہاں گئے ان کا جو تھا وہ ٹھور ٹھکانہ کہاں گیا

مزید پڑھیے

بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے

بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے ہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہے وہ آ گئے لو وہ جی اٹھا میں عدو کی امید یاس ٹھہری عجب تماشا ہے دل لگی ہے قضا کھڑی ہاتھ مل رہی ہے بتاؤ دل دوں نہ دوں کہو تو عجیب نازک معاملہ ہے ادھر تو دیکھو نظر ملاؤ یہ کس کی شوخی مچل رہی ...

مزید پڑھیے

عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میں

عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میں دھبے مرے عصیاں کے نہ آئیں کفنی میں اقرار پہ بھی میری طبیعت نہیں جمتی وہ لطف ملا ہے تری پیماں شکنی میں دل ٹوٹ کے جڑتا نہیں شیشہ ہو تو جڑ جائے ہے فرق یہی سوختنی ساختنی میں حسرت ہے مری آپ کی تصویر نہیں ہے اک چیز ہے رکھ لی ہے چھپا کر کفنی میں ہم بھی ...

مزید پڑھیے

لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا

لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا جس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیا دیکھنا مغرب کی جانب یہ شفق کا پھولنا ڈوبتے سورج نے سونے میں سہاگا کر دیا زندگی اور موت میں اک عمر سے تھی کشمکش وقت پر دو ہچکیوں نے پاک جھگڑا کر دیا اک شرارہ سا قریب شمع جا کر مل گیا آتش پروانہ نے شعلے ...

مزید پڑھیے

میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے

میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے تو نے تو ہر ذرے کو ضو دی جگمگانے کے لیے ایک ادنیٰ سے پتنگے نے بنا دی جان پر شمع نے کوشش تو کی تھی دل جلانے کے لیے برق خرمن سوزاب رکھنا ذرا چشم کرم چار تنکے پھر جڑے ہیں آشیانے کے لیے منہ نہیں ہر ایک کا جو سختی گردوں سہے کچھ کلیجہ چاہیے وہ زخم ...

مزید پڑھیے

انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا

انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا کیا نشہ ہے سارا عالم ایک پیمانے میں تھا آہ اتنی کاوشیں یہ شور و شر یہ اضطراب ایک چٹکی خاک کی دو پر یہ پروانے میں تھا آپ ہی اس نے انا الحق کہہ دیا الزام کیا ہوش کس نے لے لیا تھا ہوش دیوانے میں تھا اللہ اللہ خاک میں ملتے ہی یہ پائے ثمر لو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4457 سے 4657