شاعری

لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے

لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے اب یہاں انسانیت کے مقبرے رہ جائیں گے ہونٹ سی دے گا تو ہاتھوں کو زباں مل جائے گی ضابطے تیرے سبھی کے سب دھرے رہ جائیں گے گر تری مردم شناسی کی یہی حالت رہی تیرے چاروں اور سارے مسخرے رہ جائیں گے شہر والوں کو امیر شہر جل دے جائے گا دل میں نفرت ...

مزید پڑھیے

مرا زاد قیامت کچھ نہیں ہے

مرا زاد قیامت کچھ نہیں ہے بجز اشک ندامت کچھ نہیں ہے کوئی تو پھول پھینکے میری جانب کہ یہ سنگ ملامت کچھ نہیں ہے زمانہ آ گیا ہے کچھ نیا سا بزرگی اور قدامت کچھ نہیں ہے بہت ہوں گے ابھی آثار ظاہر مرض کی اک علامت کچھ نہیں ہے مقابل آفتاب احمدؔ بہت ہیں ترا تو قد و قامت کچھ نہیں ہے

مزید پڑھیے

یہ چپ سے خوب صورت لوگ اکثر

یہ چپ سے خوب صورت لوگ اکثر کہ دے جاتے ہیں دل کا روگ اکثر زمیں پر کیوں ملن ہونے نہ پایا اگر اوپر ہوئے سنجوگ اکثر ہمارا ہاتھ یوں اس نے بٹایا چگی اس نے ہماری چوگ اکثر وہ جن کو موت کی پروا نہیں ہے انہیں ملتا ہے جیون جوگ اکثر یہ کیسی زندگی تھی جینے والو منایا ہم نے جس کا سوگ اکثر

مزید پڑھیے

مجھ کو منظر کے صلے میں وہ صدا بھیجتا ہے

مجھ کو منظر کے صلے میں وہ صدا بھیجتا ہے خوب وہ قرض مرا کر کے ادا بھیجتا ہے سر پرستی بھی وہ کرتا ہے زبردستی سے درد کرتا ہے عطا اور دوا بھیجتا ہے میرے دشمن کی ہے تلوار مری گردن پر اور تو ہے کہ مجھے حرف دعا بھیجتا ہے سانپ جب جھوٹ کے دنیا میں بہت ہو جائیں دست موسیٰ میں خدا سچ کا عصا ...

مزید پڑھیے

جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے

جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے دن پھرتے ہیں لوگوں میں اور وقت بدلتا رہتا ہے یاروں سے ہم وقت بلا میں آنکھیں پھیر تو لیتے ہیں لیکن اک انجانا سا دکھ دل میں پلتا رہتا ہے نظریں خیرہ کر دیتی ہے ایک جھلک لیلاؤں کی اور پھر انساں پورا جیون آنکھیں ملتا رہتا ہے مفت کا روگ نہ ...

مزید پڑھیے

ستم کو رحم دھوکے کو بھروسہ پڑھ نہیں سکتا

ستم کو رحم دھوکے کو بھروسہ پڑھ نہیں سکتا برے کو میں برا کہتا ہوں اچھا پڑھ نہیں سکتا کمی شاید میری کچھ تربیت میں رہ گئی ہوگی کہ شب کی تیرگی کو میں اجالا پڑھ نہیں سکتا نظر نزدیک کی میری بہت کمزور ہے شاید اسی خاطر تو میں چہروں کو پورا پڑھ نہیں سکتا بہت کچھ پڑھ بھی سکتا ہوں پڑھائے ...

مزید پڑھیے

بہتر نہیں رہا کبھی کمتر نہیں رہا

بہتر نہیں رہا کبھی کمتر نہیں رہا میں زیست میں کسی کے برابر نہیں رہا دشت فراق دھوپ غضب کی سفر نصیب سایہ بھی اس کی یاد کا سر پر نہیں رہا اس عہد سخت گیر میں یہ چھوٹ ہے بہت باہر پھرا ہے تو کبھی اندر نہیں رہا آزاد ہو گیا ہوں حکومت کی قید سے اس ملک میں مرا کوئی دفتر نہیں رہا میں ہوں ...

مزید پڑھیے

اپنی کیفیتیں ہر آن بدلتی ہوئی شام

اپنی کیفیتیں ہر آن بدلتی ہوئی شام منجمد ہوتی ہوئی اور پگھلتی ہوئی شام ڈگمگاتی ہوئی ہر گام سنبھلتی ہوئی شام خواب گاہوں سے ادھر خواب میں چلتی ہوئی شام گوندھ کر موتیے کے ہار گھنی زلفوں میں عارض و لب پہ شفق سرخیاں ملتی ہوئی شام اک جھلک پوشش بے ضبط سے عریانی کی دے گئی دن کے نشیبوں ...

مزید پڑھیے

عشق میں یہ مجبوری تو ہو جاتی ہے

عشق میں یہ مجبوری تو ہو جاتی ہے دنیا غیر ضروری تو ہو جاتی ہے ایک انائے بے چہرہ کے بدلے میں چلیے کچھ مشہوری تو ہو جاتی ہے دل اور دنیا دونوں کو خوش رکھنے میں اپنے آپ سے دوری تو ہو جاتی ہے لفظوں میں خالی جگہیں بھر لینے سے بات ادھوری، پوری تو ہو جاتی ہے جذبہ ہے جو روز کے زندہ رہنے ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کا مری اثر بھی ہو

چاہتوں کا مری اثر بھی ہو آگ جو ہے ادھر ادھر بھی ہو روشنی کا پتا کرو یارو رات ہے تو کہیں سحر بھی ہو یہ نظارے جو دیکھے بھالے ہیں کچھ ہماری نئی نظر بھی ہو قید ہے جو کہیں دیواروں میں اس خوشی کی ہمیں خبر بھی ہو جشن ہے جو ادھر بہاروں کا وہ خوشی کا سماں ادھر بھی ہو زندگی کے سفر میں اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4456 سے 4657