شاعری

مثال برگ کسی شاخ سے جھڑے ہوئے ہیں

مثال برگ کسی شاخ سے جھڑے ہوئے ہیں اسی لیے تو ترے پاؤں میں پڑے ہوئے ہیں زمیں نے اونچا اٹھایا ہوا ہے ورنہ دوست ہوا میں گھاس کے تنکے کہاں پڑے ہوئے ہیں کسی نے میری زمیں چھان کر نہیں دیکھی وگرنہ کتنے ستارے یہاں پڑے ہوئے ہیں یہاں سروں پہ یوں ہی برف آ پڑی ورنہ بڑے بھی عمر سے اپنی کہاں ...

مزید پڑھیے

ساتھ تھا اتنا بس اور بس

ساتھ تھا اتنا بس اور بس ایک یا دو برس اور بس چاہتیں ہیں یہ کیا آج کل کالس کیں آٹھ دس اور بس تو منانا ہے اس کو تجھے پیار کی تھام نس اور بس عصمتیں لٹ رہی ہیں یہ کیوں اک ذرا سی ہوس اور بس تھا ملا وہ مجھے اس طرح چرسی کو جوں چرس اور بس ڈر کسی کو نہیں ہوگا کیا چند روزہ قفس اور بس

مزید پڑھیے

کون ہے بچ گیا جو الفت سے

کون ہے بچ گیا جو الفت سے اب خدا ہی بچائے تہمت سے ہو گئی ہے ہوا بھی زہریلی لے نہیں سکتے سانس راحت سے تم مرے سامنے رہو کچھ وقت آنکھ بھر دیکھ لوں محبت سے تو مری دلبری بھی دیکھے گا آ کبھی مجھ کو ملنے فرصت سے مدتوں ساتھ وہ رہا میرے کچھ بدلتا نہیں ہے صحبت سے بانٹتے ہیں محبتیں ہر ...

مزید پڑھیے

زخم سیتے ہوئے مسکراتے ہوئے

زخم سیتے ہوئے مسکراتے ہوئے سال گزرا ہے ضبط آزماتے ہوئے اس نے روکا مجھے شہر سے آتے وقت میں بھی رویا بہت گاؤں جاتے ہوئے عکس تیرا ہی دیکھا ہے میں نے صنم آج بھی بال اپنے بناتے ہوئے اشک بہنے لگے تیز دھڑکن ہوئی اک غزل میرؔ کی گنگناتے ہوئے شہر پیارا ہے تم کو کہ تم نے کبھی کھیت دیکھے ...

مزید پڑھیے

ہے خواہش مری یہ پکارو کبھی تم

ہے خواہش مری یہ پکارو کبھی تم سنو تو کہو بھی ارے تم اجی تم بھٹکتا رہا میں یہاں واں ہمیشہ مرا دل گیا واں جہاں بھی گئی تم جہاں بھی میں جاؤں ترا ساتھ چاہوں مجھے ہو گئی ہر جگہ لازمی تم میسر نہیں اک کھڑی چین مجھ کو مجھے یاد آتی رہی ہر کھڑی تم کرایہ تو دو کچھ محبت کا مجھ کو جو مدت سے ...

مزید پڑھیے

وفا کم ہے نظر آتی بہت ہے

وفا کم ہے نظر آتی بہت ہے بڑے شہروں میں دانائی بہت ہے ہمارے پاؤں میں پتھر بندھے ہیں تری آنکھوں میں گہرائی بہت ہے بنانے کو ہمالہ نفرتوں کے غلط فہمی کی اک رائی بہت ہے نظر میں کس کی ہے پاکیزگی اب کہ اس تالاب میں کائی بہت ہے ہمارا ساتھ رہنا بھی ہے مشکل بچھڑنے میں بھی رسوائی بہت ...

مزید پڑھیے

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد رلائے تو کیا کیا جائے

کسی کی یاد رلائے تو کیا کیا جائے شب فراق ستائے تو کیا کیا جائے جو رفتہ رفتہ غم انتظار کی دیمک مرے وجود کو کھائے تو کیا کیا جائے شب فراق ہو یا ہو وصال کا موسم یہ دل سکون نہ پائے تو کیا کیا جائے دکھا کے چاند سا چہرہ وہ حسن کا پیکر اسیر اپنا بنائے تو کیا کیا جائے شراب‌ نوشی سے میں ...

مزید پڑھیے

سلگتی ریت پہ تحریر جو کہانی ہے

سلگتی ریت پہ تحریر جو کہانی ہے مرے جنوں کی اک انمول وہ نشانی ہے میں اپنے آپ کو تنہا سمجھ رہا تھا مگر سنا ہے تم نے بھی صحرا کی خاک چھانی ہے غموں کی دھوپ میں رہنا ہے سائباں کی طرح خیال گیسوئے جاناں کی مہربانی ہے کبھی ادھر سے جو گزرے گا کارواں اپنا تو ہم بھی دیکھیں گے دریا میں کتنا ...

مزید پڑھیے

یادوں کے نشیمن کو جلایا تو نہیں ہے

یادوں کے نشیمن کو جلایا تو نہیں ہے ہم نے تجھے اس دل سے بھلایا تو نہیں ہے کونین کی وسعت بھی سمٹ جاتی ہے جس میں اے دل کہیں تجھ میں وہ سمایا تو نہیں ہے ہر شے سے وہ ظاہر ہے یہ احسان ہے اس کا خود کو مری نظروں سے چھپایا تو نہیں ہے زلفوں کی سیاہی میں عجب حسن نہاں ہے یہ رات اسی حسن کا سایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4434 سے 4657