شاعری

آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا

آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا یاد کر اے دل خاموش وہ اپنا رونا رقص کرنا کبھی خوابوں کے شبستانوں میں کبھی یادوں کے ستونوں سے لپٹنا رونا تجھ سے سیکھے کوئی رونے کا سلیقہ اے ابر کہیں قطرہ نہ گرانا کہیں دریا رونا رسم دنیا بھی وہی راہ تمنا بھی وہی وہی مل بیٹھ کے ہنسنا وہی تنہا ...

مزید پڑھیے

دنیا میں سراغ رہ دنیا نہیں ملتا

دنیا میں سراغ رہ دنیا نہیں ملتا دریا میں اتر جائیں تو دریا نہیں ملتا باقی تو مکمل ہے تمنا کی عمارت اک گزرے ہوئے وقت کا شیشہ نہیں ملتا جاتے ہوئے ہر چیز یہیں چھوڑ گیا تھا لوٹا ہوں تو اک دھوپ کا ٹکڑا نہیں ملتا جو دل میں سمائے تھے وہ اب شامل دل ہیں اس آئنے میں عکس کسی کا نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں اسے ڈھونڈیں کہ اس کو بھول جائیں خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں یہ رستے رہروؤں سے بھاگتے ہیں یہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میں انہیں ...

مزید پڑھیے

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں موسم گل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنی ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں ہم سے مخفی نہیں کچھ رہ گزر شوق کا حال ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا کھانے میں ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزہ ہی کچھ اور ایسی لذت نہ ...

مزید پڑھیے

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں تمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں ہوائیں جن کی اندھی کھڑکیوں پر سر پٹکتی ہیں میں ان کمروں میں پھر شمعیں جلا کر دیکھ لیتا ہوں عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے تری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں سحر دم کرچیاں ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

کیسے انہیں بھلاؤں محبت جنہوں نے کی

کیسے انہیں بھلاؤں محبت جنہوں نے کی مجھ کو تو وہ بھی یاد ہیں نفرت جنہوں نے کی دنیا میں احترام کے قابل وہ لوگ ہیں اے ذلت وفا تری عزت جنہوں نے کی تزئین کائنات کا باعث وہی بنے دنیا سے اختلاف کی جرأت جنہوں نے کی آسودگان منزل لیلیٰ اداس ہیں اچھے رہے نہ طے یہ مسافت جنہوں نے کی اہل ...

مزید پڑھیے

بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا

بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا آنکھ سے ہو کر گال بھگو کر مٹی میں مل جائے گا بھولنے والے! وقت کے ایوانوں میں کون ٹھہرتا ہے بیتی شام کے دروازے پر کس کو بلانے آئے گا آنکھ مچولی کھیل رہا ہے اک بدلی سے اک تارا پھر بدلی کی یورش ہوگی پھر تارا چھپ جائے گا اندھیارے کے گھور نگر ...

مزید پڑھیے

اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہم

اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہم یعنی دل سکوت میں گھر کر رہے ہیں ہم کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میں ہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم گویا زمین کم تھی تگ و تاز کے لیے پیمائش نجوم و قمر کر رہے ہیں ہم کافی نہ تھا جمال رخ سادۂ بہار زیبائش گیاہ و شجر کر رہے ہیں ہم

مزید پڑھیے

ہمیں سب اہل ہوس ناپسند رکھتے ہیں

ہمیں سب اہل ہوس ناپسند رکھتے ہیں کہ ہم نوائے محبت بلند رکھتے ہیں اسی لیے تو خفا ہیں ستم شعار کہ ہم نگاہ نرم و دل دردمند رکھتے ہیں اگرچہ دل وہی رجعت پسند ہے اپنا مگر زبان ترقی پسند رکھتے ہیں ہم ایسے عرش نشینوں سے وہ درخت اچھے جو آندھیوں میں بھی سر کو بلند رکھتے ہیں چلے ہو ...

مزید پڑھیے

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا وہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا وہی ٹوٹی ہوئی کشتی ہے اپنی وہی ٹھہرا ہوا دریا ہمارا یہ مقتل بھی ہے اور کنج اماں بھی یہ دل یہ بے نشاں کمرہ ہمارا کسی جانب نہیں کھلتے دریچے کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔ ہمارے ساتھ ہے سایا ہمارا

مزید پڑھیے
صفحہ 4430 سے 4657