شاعری

گہرائیوں سے مجھ کو کسی نے نکال کے

گہرائیوں سے مجھ کو کسی نے نکال کے پھینکا ہے آسمان کی جانب اچھال کے میں نے زمیں کو ناپ لیا آسمان تک نظروں میں فاصلے ہیں عروج و زوال کے چہرے ہر اک سے پوچھ رہے ہیں کوئی جواب شعلوں پہ کچھ نشان لگے ہیں سوال کے لوگ میں اب وہ چرب زبانی نہیں رہی یا ہجر میں اداس ہیں قصے وصال کے ہر شخص سے ...

مزید پڑھیے

درد ٹھہرے تو ذرا دل سے کوئی بات کریں

درد ٹھہرے تو ذرا دل سے کوئی بات کریں منتظر ہیں کہ ہم اپنے سے ملاقات کریں دن تو آوازوں کے صحرا میں گزارا لیکن اب ہمیں فکر یہ ہے ختم کہاں رات کریں میری تصویر ادھوری ہے ابھی کیا معلوم کیا مری شکل بگڑتے ہوئے حالات کریں اور اک تازہ تعارف کا بہانہ ڈھونڈیں ان سے کچھ ان کے ہی بارے میں ...

مزید پڑھیے

خود کو چھونے سے ڈرا کرتے ہیں

خود کو چھونے سے ڈرا کرتے ہیں ہم جو نیندوں میں چلا کرتے ہیں اپنی ہی ذات کے صحرا میں آج لوگ چپ چاپ جلا کرتے ہیں خون شریانوں میں لہراتا ہے خواب آنکھوں میں ہنسا کرتے ہیں ہم جہاں بستے تھے اس بستی میں اب فقط سائے ملا کرتے ہیں لڑکیاں ہنستی گزر جاتی ہیں ہم سمندر کو تکا کرتے ہیں آتی ...

مزید پڑھیے

پیارے پیارے یگوں میں آئے پیارے پیارے لوگ

پیارے پیارے یگوں میں آئے پیارے پیارے لوگ اس بیچارے دور میں جنمے ہم بیچارے لوگ ہر چہرہ پر کھنچی ہوئی ہیں تھکن کی ریکھائیں جیت کا اک پل کھوج رہے ہیں ہارے ہارے لوگ بھور بھئی پھر سانجھ بھئی پھر بھور بھئی پھر سانجھ سمے چکر میں بندھے ہوئے ہیں سانجھ سکارے لوگ آتی ہے اتہاس سے ان کے ...

مزید پڑھیے

آہوں کی آزاروں کی آوازیں تھیں

آہوں کی آزاروں کی آوازیں تھیں راہ میں غم کے ماروں کی آوازیں تھیں دور خلا میں ایک سیاہی پھیلی تھی بستی میں انگاروں کی آوازیں تھیں آنکھوں میں خوابوں نے شور مچایا تھا آسمان پر تاروں کی آوازیں تھیں گھر کے باہر آوازیں تھیں رستوں کی اور گھر میں دیواروں کی آوازیں تھیں اب مجھ میں ...

مزید پڑھیے

بلا کی دھوپ تھی میں جل رہا تھا

بلا کی دھوپ تھی میں جل رہا تھا بدن اس کا تھا اور سایہ مرا تھا خرابے میں تھا اک ایسا خرابہ جہاں میں سب سے چھپ کے بیٹھتا تھا بہت نزدیک تھے تصویر میں ہم مگر وہ فاصلہ جو دکھ رہا تھا جہازی قافلہ ڈوبا تھا پہلے سمندر بعد میں اوپر اٹھا تھا زمین و آسماں ساکت پڑے تھے مرے کمرے کا پنکھا چل ...

مزید پڑھیے

خود اپنے ساتھ دھوکہ کیوں کروں میں

خود اپنے ساتھ دھوکہ کیوں کروں میں کسی سائے کا پیچھا کیوں کروں میں اسے میں بھول جانا چاہتا ہوں مگر خود پر بھروسہ کیوں کروں میں کبھی سوچوں کہ خود میں لوٹ آؤں کبھی سوچوں کہ ایسا کیوں کروں میں

مزید پڑھیے

ہو دن کہ چاہے رات کوئی مسئلہ نہیں

ہو دن کہ چاہے رات کوئی مسئلہ نہیں میرے لیے حیات کوئی مسئلہ نہیں الجھا ہوا ہوں کب سے سوالوں کے دشت میں کیسے کہوں میں ذات کوئی مسئلہ نہیں چلنا ہے ساتھ ساتھ کہ راہیں بدل لیں ہم تو سوچ میرے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں جو ہو مفید آپ وہی فیصلہ کریں مانیں نہ میری بات کوئی مسئلہ نہیں صحرا ...

مزید پڑھیے

دھند ہے یا دھواں سمجھتا ہوں

دھند ہے یا دھواں سمجھتا ہوں وسعت آسماں سمجھتا ہوں عشق کی لذتوں سے ہوں واقف درد و آہ و فغاں سمجھتا ہوں غرق ہوتے جہاز دیکھے ہیں سیل وقت رواں سمجھتا ہوں گفتگو کرتا ہوں درختوں سے پنچھیوں کی زباں سمجھتا ہوں وہ کمال شعور پایہ ہے ان کہی داستاں سمجھتا ہوں

مزید پڑھیے

اک پرندہ شاخ پر بیٹھا ہوا

اک پرندہ شاخ پر بیٹھا ہوا حسرتوں سے آسماں تکتا ہوا اک صدی کی داستاں کہتا ہوا اک شجر دالان میں سوکھا ہوا اک زمیں پیروں تلک سمٹی ہوئی اک سمندر دور تک پھیلا ہوا اک کہانی پھر جنم لیتی ہوئی اک فسانہ دفن پھر ہوتا ہوا اک کرن افلاک سے آتی ہوئی اک اندھیرا چاند پر بیٹھا ہوا اک زمیں دو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4376 سے 4657