گہرائیوں سے مجھ کو کسی نے نکال کے
گہرائیوں سے مجھ کو کسی نے نکال کے پھینکا ہے آسمان کی جانب اچھال کے میں نے زمیں کو ناپ لیا آسمان تک نظروں میں فاصلے ہیں عروج و زوال کے چہرے ہر اک سے پوچھ رہے ہیں کوئی جواب شعلوں پہ کچھ نشان لگے ہیں سوال کے لوگ میں اب وہ چرب زبانی نہیں رہی یا ہجر میں اداس ہیں قصے وصال کے ہر شخص سے ...