شاعری

غم کا پہاڑ موم کے جیسے پگھل گیا

غم کا پہاڑ موم کے جیسے پگھل گیا اک آگ لے کے اشکوں کی صورت نکل گیا خوش فہمیوں کو سوچ کے میں بھی مچل گیا جیسے کھلونا دیکھ کے بچہ بہل گیا کل تک تو کھیلتا تھا وہ شعلوں سے آگ سے نا جانے آج کیسے وہ پانی سے جل گیا جھلسے بدن کو دیکھ کے کترا رہا ہے وہ جس کے میں گھر کی آگ بجھانے میں جل ...

مزید پڑھیے

رشتۂ دل اسی سے ملتا ہے

رشتۂ دل اسی سے ملتا ہے جو کوئی سادگی سے ملتا ہے بیٹھ جاتا ہے دل مرا اکثر جب کوئی بے بسی سے ملتا ہے ہائے افسوس میرا رستہ بھی بے وفا کی گلی سے ملتا ہے راز دل کیا سنا گیا اس کو تب سے وہ بے دلی سے ملتا ہے عمر بھر جو مجھے ستائے گا ہر گھڑی بے کلی سے ملتا ہے بھول پانا جسے نہیں ممکن پھول ...

مزید پڑھیے

مقام ہجر کہیں امتحاں سے خالی ہے

مقام ہجر کہیں امتحاں سے خالی ہے کہیں زمیں بھی کسی آسماں سے خالی ہے نشاط غم میں تو درد نہاں تلاش نہ کر نشاط غم کبھی درد نہاں سے خالی ہے عروج غم مرے سوز جگر سے آ پوچھا مقام دل کہیں سوز نہاں سے خالی ہے خیال اس کا میں شاید سمجھ نہیں پایا مرا خیال تو عشق بتاں سے خالی ہے اک ایسی بات ...

مزید پڑھیے

ذہن پر جب درد خاموشی کی چادر تانتا ہے

ذہن پر جب درد خاموشی کی چادر تانتا ہے قطرہ قطرہ آنکھ سے لفظ و معانی چھانتا ہے ہر کس و ناکس کو راس آتی نہیں آوارہ گردی راستے اس پر ہی کھلتے ہیں جو چلنا جانتا ہے نقش پارینہ ہٹا کر میں نئے پیکر تراشوں کوزہ گر کنکر ہٹا کر جیسے مٹی سانتا ہے وہ ہے دیوانہ اسے گمنامی و تشہیر سے ...

مزید پڑھیے

کیا کروں ظرف شناسائی کو

کیا کروں ظرف شناسائی کو میں ترس جاتا ہوں تنہائی کو خامشی زور بیاں ہوتی ہے راستہ دیجئے گویائی کو تیرے جلووں کی فراوانی ہے اور کیا چاہئے بینائی کو ان کی ہر بات بہت میٹھی ہے منہ لگاتے نہیں سچائی کو اے سمندر میں قتیل غم ہوں جانتا ہوں تری گہرائی کو بیٹھا رہتا ہوں اکیلا یوں ...

مزید پڑھیے

میں نے جب حد سے گزرنے کا ارادہ کر لیا

میں نے جب حد سے گزرنے کا ارادہ کر لیا منزل دشوار کو طے پا پیادہ کر لیا بے حقیقت ہو گئے میری نظر میں مہر و ماہ میں نے جب گھر کے دیئے سے استفادہ کر لیا آنسوؤں نے غم کو عریاں کر دیا ہوتا مگر دل کی غیرت نے تبسم کو لبادہ کر لیا امن کی سب شاہراہیں تنگ ہو کر رہ گئیں حادثوں نے راستہ کتنا ...

مزید پڑھیے

آواز کے سوداگروں میں اتنی فن کاری تو ہے

آواز کے سوداگروں میں اتنی فن کاری تو ہے شعر و ادب کے نام ہی پر گرم بازاری تو ہے کوئی کہے کوئی سنے کوئی لکھے کوئی پڑھے ہر دل کو بہلائے غزل بک جائے بیچاری تو ہے کوؤں کے آگے گنگ ہیں کیا طوطیاں کہ بلبلیں اہل چمن ہیں مطمئن رسم سخن جاری تو ہے مانا زمین کربلا پر دسترس ممکن نہیں لیکن سر ...

مزید پڑھیے

پڑھو عبارت تخلیق درد چہرے پر

پڑھو عبارت تخلیق درد چہرے پر لکھی ہے کرب کی روداد زرد چہرے پر چھپا رہی ہے خد و خال جھریاں بن کر جمی ہوئی تھی سفر میں جو گرد چہرے پر کمال ضبط تو یہ ہے کہ رنگ مایوسی دم شکست بھی جھلکے نہ مرد چہرے پر پگھلتی کیوں نہ بھلا برف اجنبیت کی نظر کی دھوپ جو ٹھہری تھی سرد چہرے پر میں دھول ...

مزید پڑھیے

سرخ رو سب کو سر مقتل نظر آنے لگے

سرخ رو سب کو سر مقتل نظر آنے لگے جب ہوئے ہم آنکھ سے اوجھل نظر آنے لگے شہر والو جان لینا گاؤں میرا آ گیا بچیوں کے سر پہ جب آنچل نظر آنے لگے ہم نے مانگی بھی دعائے ابر رحمت کس گھڑی جب سروں پر ظلم کے بادل نظر آنے لگے آئنہ پر آج کے جمنے نہ دے ماضی کی دھول تاکہ تیرا آنے والا کل نظر آنے ...

مزید پڑھیے

ستائش نہ کیجئے تبرا سہی

ستائش نہ کیجئے تبرا سہی نہیں بنت انگور ٹھرا سہی تأثر نہیں ان کے رخ پر نہ ہو ہے قرآں تو قرآں معرا سہی مگر کتنے سورج ہیں دشمن مرے مری حیثیت ایک ذرہ سہی کہاں چین تیرے جنوں کار کو غم دو جہاں سے مبرا سہی بدن در بدن عشق روح رواں زماں در زماں ایک ڈھرا سہی رعونت غریبی کا محصول ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4370 سے 4657