غم کا پہاڑ موم کے جیسے پگھل گیا
غم کا پہاڑ موم کے جیسے پگھل گیا اک آگ لے کے اشکوں کی صورت نکل گیا خوش فہمیوں کو سوچ کے میں بھی مچل گیا جیسے کھلونا دیکھ کے بچہ بہل گیا کل تک تو کھیلتا تھا وہ شعلوں سے آگ سے نا جانے آج کیسے وہ پانی سے جل گیا جھلسے بدن کو دیکھ کے کترا رہا ہے وہ جس کے میں گھر کی آگ بجھانے میں جل ...