شاعری

ہاں نہیں کے بیچ دھندلائی سی شام

ہاں نہیں کے بیچ دھندلائی سی شام سائے سائے میں ہے شبنم سا قیام چہرے آنکھیں ہونٹ ہنستے ہیں تمام بستی بستی تہمت آوارہ گام روشنی کی بازیابی آفتاب ٹوٹنے والے ستارے تیرا نام حرف و لب معلوم سمتوں کے نقیب دل سفیر ناگہاں سمت کلام کائنات لمس موجود و عدم کچھ نہ ہونا بھی ہوا اتنا تمام

مزید پڑھیے

ہماری سانسیں ملی ہیں گن کے

ہماری سانسیں ملی ہیں گن کے نہ جانے کتنے بجے ہیں دن کے تم اپنی آنکھوں کا دھیان رکھنا ہوا میں اڑنے لگے ہیں تنکے دیے رعونت سے جل رہے تھے ہوا نے پوچھے مزاج ان کے وہ رات آنکھوں میں کاٹتے ہیں گلاب زخمی ہوئے ہیں جن کے گری ہے آغوش رائگاں میں تمہارے ہاتھوں سے رات چھن کے

مزید پڑھیے

لہر سے لہر کا ناتا کیا ہے

لہر سے لہر کا ناتا کیا ہے مجھ پہ الزام پھر آتا کیا ہے بولتی آنکھ میں بلور کی روح سنگ آواز اٹھاتا کیا ہے روز و شب بیچ دیے ہیں میں نے اس بلندی سے گراتا کیا ہے لاکھوں برسوں کے سفر سے حاصل دیکھنا کیا ہے دکھاتا کیا ہے تیر اندھے ہیں شکاری اندھا کھیل ہے کھیل میں جاتا کیا ہے

مزید پڑھیے

شب رنگ پرندے رگ و ریشے میں اتر جائیں

شب رنگ پرندے رگ و ریشے میں اتر جائیں کہسار اگر میری جگہ ہوں تو بکھر جائیں ہر سمت سیہ گرد کی چادر سی تنی ہے سورج کے مسافر بھی ادھر آئیں تو مر جائیں سب کھیل ہواؤں کے اشاروں پہ ہے ورنہ موجیں کہاں مختار کہ جی چاہے جدھر جائیں اس دشت میں پانی کے سوا ڈھونڈھنا کیا ہے آنکھوں میں مری ریت ...

مزید پڑھیے

یار تجھ کو مرا خیال تو ہے

یار تجھ کو مرا خیال تو ہے عشق میں اتنی دیکھ بھال تو ہے غم نہیں گر خوشی نہیں حاصل فرقت دوست کا ملال تو ہے تجھ پہ گزری ہے کیا خبر ہے مجھے تیرے جیسا ہی میرا حال تو ہے میرا حامی جہاں نہیں تو کیا شکر ہے رب ذو الجلال تو ہے ہے اگر زعم برتری تم کو یہ بھی اک صورت زوال تو ہے میرے پہلو میں ...

مزید پڑھیے

دنیا میں کسے آگ لگانی نہیں آتی

دنیا میں کسے آگ لگانی نہیں آتی افسوس مگر سب کو بجھانی نہیں آتی تا حد نظر دشت ہے کیوں بیٹھے ہوئے ہو لگتا ہے تمہیں خاک اڑانی نہیں آتی وہ شوخ ہے باتوں میں لگا رہتا ہے اکثر سنتا ہوں مجھے بات بنانی نہیں آتی بستر کی ضرورت ہی نہیں نیند کو پیارے کیا جسم کی چادر ہی بچھانی نہیں ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں نہ گئی مہربان کی خوشبو

کہاں کہاں نہ گئی مہربان کی خوشبو زمانے بھر میں ہے اردو زبان کی خوشبو بدن سے جس گھڑی نکلے گی جان کی خوشبو ملے گی خاک میں تب آن بان کی خوشبو قدم بہکتے ہیں جذبات کے اندھیروں میں تو کھینچ لاتی ہے مجھ کو مکان کی خوشبو جو حق کے واسطے دینا پڑے زمانے میں عجیب ہوتی ہے اس امتحان کی ...

مزید پڑھیے

فکر کے شعلوں میں چلتی زندگی

فکر کے شعلوں میں چلتی زندگی تب نکھرتی ہے ہماری زندگی ہم نے دیکھا حادثوں کی بھیڑ میں موت کے منہ سے نکلتی زندگی جب یہ کرتی ہے تمہارا انتظار تب نہیں کاٹے سے کٹتی زندگی گود سے ہے گور تک بے چینیاں المیہ ہے بیٹیوں کی زندگی سینچا جائے گر مشقت سے اسے پھول کی صورت مہکتی زندگی پھول ...

مزید پڑھیے

گلی کا عام سا چہرہ بھی پیارا ہونے لگتا ہے

گلی کا عام سا چہرہ بھی پیارا ہونے لگتا ہے محبت میں تو ذرہ بھی ستارا ہونے لگتا ہے یہاں گم سم سے لوگوں پر کبھی پلکیں نہیں اٹھیں اشارا کرنے والوں کو اشارا ہونے لگتا ہے ہماری زندگی پر ہے ہمارے عشق کا سایہ کہ ہم جو کام کرتے ہیں خسارا ہونے لگتا ہے محبت کی عدالت بھی بھلا کیسی عدالت ...

مزید پڑھیے

جانے کیسی بادلوں کے درمیاں سازش ہوئی

جانے کیسی بادلوں کے درمیاں سازش ہوئی میرا گھر مٹی کا تھا میرے ہی گھر بارش ہوئی دہمکیٔ اوراق میں کل شب جو اس کا خط ملا ننگے پاؤں گھاس پر چلنے کی پھر خواہش ہوئی جن کی بنیادیں ہی اپنے پاؤں پر گرنے کو تھیں ان گھروں کی ریشمی پردوں سے آرائش ہوئی میرے خوں کا ذائقہ جب دوستوں نے چکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4365 سے 4657