لمحہ لمحہ روز و شب کو دیر ہوتی جائے گی
لمحہ لمحہ روز و شب کو دیر ہوتی جائے گی یہ سفر ایسا ہے سب کو دیر ہوتی جائے گی سبز لمحوں کو اگانے کا ہنر بھی سیکھنا ورنہ اس رنگ طلب کو دیر ہوتی جائے گی اس ہوا میں آدمی پتھر کا ہوتا جائے گا اور رونے کے سبب کو دیر ہوتی جائے گی دیکھنا تیرا حوالہ کچھ سے کچھ ہو جائے گا دیکھنا شعر و ادب ...