شاعری

یادوں کی تجسیم پہ محنت ہوتی ہے

یادوں کی تجسیم پہ محنت ہوتی ہے بیکاری بھرپور مشقت ہوتی ہے ایسا خالی اور اتنا گنجان آباد آئینے کو دیکھ کے حیرت ہوتی ہے دیواروں کا اپنا صحرا ہوتا ہے اور کمروں کی اپنی وحشت ہوتی ہے اس کو یاد کرو شدت سے یاد کرو اس سے تنہائی میں برکت ہوتی ہے بچپن جوبن اور بڑھاپا اور پھر موت سب ...

مزید پڑھیے

وہ مر گیا صدائے نوحہ گر میں کتنی دیر ہے

وہ مر گیا صدائے نوحہ گر میں کتنی دیر ہے کہ سانحہ تو ہو چکا خبر میں کتنی دیر ہے ہمارے شہر کی روایتوں میں ایک یہ بھی تھا دعا سے قبل پوچھنا اثر میں کتنی دیر ہے مقابلہ ہے رقص کا بگولا کب کا آ چکا مگر پتا نہیں ابھی بھنور میں کتنی دیر ہے خدائے مہر آسماں اجال دے کہ یوں نہ ہو دئیے کو ...

مزید پڑھیے

دیا نصیب میں نہیں ستارہ بخت میں نہیں

دیا نصیب میں نہیں ستارہ بخت میں نہیں تو کیا شرار بھی وجود سنگ سخت میں نہیں مری بقا کا راز ہے مسافرت مسافرت سو نقش پا بغیر میرے ساز و رخت میں نہیں مجھے ہے شہر کے گھروں سے صرف اس قدر گلہ کہ بھائی حسن آسمان لخت لخت میں نہیں مرا کمال منحصر ہے میرے اختصار پر مری نمو کا شائبہ کسی درخت ...

مزید پڑھیے

انگ انگ جھلک اٹھتا ہے انگوں کے درپن کے بیچ

انگ انگ جھلک اٹھتا ہے انگوں کے درپن کے بیچ مان سروور امڈے امڈے ہیں بھرپور بدن کے بیچ چاند انگڑائی پر انگڑائی لیتے ہیں جوبن کے بیچ مدھم مدھم دیپ جلے ہیں سوئے سوئے نین کے بیچ مکھڑے کے کئی روپ دودھیا چاندنی بھور سنہری دھوپ رات کی کلیاں چٹکی چٹکی سی بالوں کے بن کے بیچ متھرا کے ...

مزید پڑھیے

نگاہ باغباں کیا کہہ گئی گلہائے خنداں سے

نگاہ باغباں کیا کہہ گئی گلہائے خنداں سے کہ اٹھا کاروان رنگ و بو صحن گلستاں سے مدد اے دیدۂ بینا مدد اے تاب نظارہ تجلی مسکراتی ہے نقاب روئے جاناں سے نسیم صبح کے جھونکوں سے کیا کھٹکا بھلا اس کو مری شمع تمنا وہ ہے جو لڑتی ہے طوفاں سے معاذ اللہ صحرا کی شب تاریک و طوفانی مسافر خود نہ ...

مزید پڑھیے

محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو

محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو متاع جاں کو بدن سے نکال کر دیکھو بدل کے دیکھو کبھی نسبتوں کی دنیا کو بدن کو روح کے خانے میں ڈال کر دیکھو سنو اسے تو سماعت سے ماورا ہو کر جو دیکھنا ہو تو آنکھیں نکال کر دیکھو یقین دشت سے پھوٹے گا آب جو کی طرح کہ حرف ''لا'' کی گواہی بحال کر دیکھو نفس ...

مزید پڑھیے

صبح وجود ہوں کہ شب انتظار ہوں

صبح وجود ہوں کہ شب انتظار ہوں میں آشکار ہوں کہ پس آشکار ہوں ہر رنگ بے قرار ہوں ہر نقش ناتمام مٹی کا درد ہوں کہ ستاروں کا پیار ہوں کچھ تو مرے وجود کا حصہ ہے تیرے پاس ورنہ میں اپنے آپ میں کیوں انتظار ہوں اک اور آسمان چمکتا ہے خواب میں اک اور کائنات کا آئینہ دار ہوں تو نے مجھے ...

مزید پڑھیے

یہاں ہر لفظ معنی سے جدا ہے

یہاں ہر لفظ معنی سے جدا ہے حقیقت زندگی سے ماورا ہے ابھی چہرے کا خاکہ بن رہا ہے ابھی کچھ اور بھی میرے سوا ہے ہمیں جو کچھ ملا ناقص ملا ہے مگر خوش فہمیوں کی انتہا ہے کوئی چہرہ نہیں خوشبو کا لیکن تماشا پھول والوں کا لگا ہے میں اس کی بارشوں کا منتظر ہوں وہ مجھ سے میرے آنسو مانگتا ...

مزید پڑھیے

دشت امید میں خوابوں کا سفر کرنا تھا

دشت امید میں خوابوں کا سفر کرنا تھا تو کہ اک لمحۂ ناپید بسر کرنا تھا ہم نے کیوں آپسی اضداد کے نکتے ڈھونڈے؟ ہم نے تو خود کو بہم شیر و شکر کرنا تھا نقش بنتا ہی نہیں سنگ سماعت پہ کوئی کند الفاظ کو پھر تیر و تبر کرنا تھا ساعت درد کہ بے چہرہ و بے نام رہی قطرۂ اشک کہ محفوظ گہر کرنا ...

مزید پڑھیے

کچھ شفق ڈوبتے سورج کی بچا لی جائے

کچھ شفق ڈوبتے سورج کی بچا لی جائے رنگ امکاں سے کوئی شکل بنا لی جائے حرف مہمل سا کوئی ہاتھ پہ اس کے رکھ دو قحط کیسا ہے کہ ہر سانس سوالی جائے شہر ملبوس میں کیوں اتنا برہنہ رہیے کوئی چھت یا کوئی دیوار خیالی جائے ساتھ ہو لیتا ہے ہر شام وہی سناٹا گھر کو جانے کی نئی راہ نکالی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4357 سے 4657