شاعری

مے خانہ پر کالے بادل جب گھر گھر کر آتے ہیں

مے خانہ پر کالے بادل جب گھر گھر کر آتے ہیں ہم بھی آنکھوں کے پیمانے بھر بھر کر چھلکاتے ہیں میں جن کو اپنا کہتا ہوں کب وہ مرے کام آتے ہیں یہ سارا سنسار ہے سپنا سب جھوٹے رشتے ناطے ہیں تنہائی کے بوجھل لمحے ہم اس طرح بتاتے ہیں دل ہم کو دیتا ہے تسلی ہم دل کو سمجھاتے ہیں جیون کی گتھی کا ...

مزید پڑھیے

جب کبھی مد مقابل وہ رخ زیبا ہوا

جب کبھی مد مقابل وہ رخ زیبا ہوا آئینہ بھی رہ گیا حیرت سے منہ تکتا ہوا فصل گل میں ہے شکست و ریخت کا آئینہ دار ایک اک تنکا نشیمن کا مرے بکھرا ہوا محو حیرت ہوں خراش دست غم کو دیکھ کر زخم چہرے پر ہیں یا ہے آئینہ ٹوٹا ہوا ابر غم برسے تو اشکوں کی روانی دیکھنا ساحل مژگاں پہ ہے طوفاں ...

مزید پڑھیے

موجود ہیں وہ بھی بالیں پر اب موت کا ٹلنا مشکل ہے

موجود ہیں وہ بھی بالیں پر اب موت کا ٹلنا مشکل ہے اک طرفہ کشاکش نزع میں ہے دم کا بھی نکلنا مشکل ہے ان جانے میں جو بے راہ چلے وہ راہ پہ آ سکتا ہے مگر بے راہ چلے جو دانستہ بس اس کا سنبھلنا مشکل ہے ظاہر نہ سہی در پردہ سہی دشمن بھی حفاظت کرتے ہیں کانٹے ہوں نگہباں جس گل کے اس گل کا مسلنا ...

مزید پڑھیے

کبھی ٹوٹا نہ افسون ستم تیری حضوری کا

کبھی ٹوٹا نہ افسون ستم تیری حضوری کا بہت نزدیک رہ کر بھی رہا احساس دوری کا کہاں تک ساتھ دے گی دیکھیں اپنی بے نیازی بھی خمار تشنگی خمیازہ ہے دشت صبوری کا ہزاروں آفتابوں کے لہو سے تمتماتا ہے بھرم اک مسکراتے چہرۂ زیبا کی نوری کا حضور ارشاد اپنا میری آنکھوں میں بسا دیجے کہ پھر ...

مزید پڑھیے

ہم سے رخسار وہ لب بھول گئے

ہم سے رخسار وہ لب بھول گئے زندگی کرنے کا ڈھب بھول گئے رات دن محو رہا کرتے تھے جانے کیا تھی وہ طلب بھول گئے آ گیا سر پہ ڈھلتا سورج رات کے شور و شغب بھول گئے رنج محرومئ دل یاد رہا رونق بزم طرب بھول گئے نقش دیوار بنے بیٹھے ہیں یاد اتنا ہے کہ سب بھول گئے زندگی بگڑی تو ایسی بگڑی جو ...

مزید پڑھیے

وفا کے وعدے ہوئے زندگی کے خواب ہوئے

وفا کے وعدے ہوئے زندگی کے خواب ہوئے تمہارے عہد کرم میں سبھی خراب ہوئے بدل گئیں وہ فضائیں ترے بدلتے ہی مہکتے خواب سلگتے ہوئے سراب ہوئے مری حیات کی تاریکیاں سمٹ نہ سکیں بجا کے ماہ ہوئے آپ آفتاب ہوئے میں سوچتا ہوں کہ وہ لوگ جانے کیا ہوں گے جنہوں نے پیار کیا اور کامیاب ...

مزید پڑھیے

جلتا رہا وہ عمر بھر اپنی ہی آگ میں

جلتا رہا وہ عمر بھر اپنی ہی آگ میں تیرے لبوں کی آنچ نہ تھی جس کے بھاگ میں چھوٹی سی بات تھی مگر اک روگ بن گئی راحت ملاپ ہی میں رہی ہے نہ تیاگ میں کیسے کہوں اسے یہ دلہن ہے بہار کی پھولوں کا خوں مہکتا ہے جس کے سہاگ میں وہ حسن بن کے گل کی تپش میں سما گیا ہنس ہنس کے جل گیا جو ترے غم کی ...

مزید پڑھیے

کتنا ہشیار ہوا کتنا وہ فرزانہ ہوا

کتنا ہشیار ہوا کتنا وہ فرزانہ ہوا تیری مستی بھری آنکھوں کا جو دیوانہ ہوا آہ یہ عالم غربت یہ شب تنہائی اک قیامت ہوئی دھیان ایسے میں تیرا نہ ہوا اک جہاں آج بھی ہے اس کے طلسموں میں اسیر سب کا ہو کر بھی جو عیار کسی کا نہ ہوا تجھ کو اپنانے کا یارا تھا نہ کھونے ہی کا ظرف دل حیراں اسی ...

مزید پڑھیے

کس خوشی کی طلب نہیں دل میں

کس خوشی کی طلب نہیں دل میں درد کچھ بے سبب نہیں دل میں آپ کا انتظار ہے پھر بھی بیکلی گو کہ اب نہیں دل میں غم دوراں کا ہو ہرا ورنہ آپ کی یاد کب نہیں دل میں جانے کیا گل کھلائے شام بہار حسرت زلف و لب نہیں دل میں کون سی ہے وہ آرزو کہ سلامؔ آج بھی تشنہ لب نہیں دل میں

مزید پڑھیے

نہ دل میں غم نہ ہونٹوں پر ہنسی ہے

نہ دل میں غم نہ ہونٹوں پر ہنسی ہے خداوندا یہ کیسی زندگی ہے ترے وعدے پہ جیتے ہیں جئیں گے مگر یہ پیرہن بھی کاغذی ہے ادھر وہ چاند کی دھن میں مگن ہیں ادھر اپنی یہ بے بال و پری ہے چمکتی بجلیاں ہی بجلیاں ہیں چمن میں روشنی ہی روشنی ہے بسا اوقات یہ ہوتا ہے محسوس کہ نبض زندگی رک سی گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4347 سے 4657